tum ko dekha to ye khayal aaya zindagi dhuup tum ghana saaya aaj phir dil ne ik tamanna ki aaj phir dil ko ham ne samjhaya tum chale jaoge to sochenge ham ne kya khoya ham ne kya paaya ham jise gunguna nahin sakte vaqt ne aisa giit kyuun gaaya tum ko dekha to ye khayal aaya zindagi dhup tum ghana saya aaj phir dil ne ek tamanna ki aaj phir dil ko hum ne samjhaya tum chale jaoge to sochenge hum ne kya khoya hum ne kya paya hum jise gunguna nahin sakte waqt ne aisa git kyun gaya
Related Ghazal
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Javed Akhtar
حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے
Javed Akhtar
2 likes
ہمارے دل ہے وہ ہے وہ اب تلخی نہیں ہے م گر حقیقت بات پہلے سی نہیں ہے مجھے مایو سے بھی کرتی نہیں ہے یہی عادت تری اچھی نہیں ہے بے حد سے فائدے ہیں مصلحت ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر دل کی تو یہ مرضی نہیں ہے ہر اک کی داستان سنتے ہیں چنو کبھی ہم نے محبت کی نہیں ہے ہے اک دروازے بن دیوار دنیا مفر غم سے ی ہاں کوئی نہیں ہے
Javed Akhtar
3 likes
کھلا ہے در بچیں ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے ہے وہ ہے وہ اک آگ تھی حقیقت سرد ہوئی کبھی نگاہ ہے وہ ہے وہ جو تھا جاں گسل جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بےچین قرار آیا تو چنو قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوں گی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ امید لیے بار بار جاتا رہا
Javed Akhtar
2 likes
سچ یہ ہے بے کار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ غم ہوتا ہے جو چاہا تھا دنیا ہے وہ ہے وہ کم ہوتا ہے ڈھلتا سورج پھیلا جنگل رستہ گم ہم سے پوچھو کیسا عالم ہوتا ہے غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے زخم تو ہم نے ان آنکھوں سے دیکھے ہیں لوگوں سے سنتے ہیں مرہم ہوتا ہے ذہن کی شاخوں پر اشعار آ جاتے ہیں جب تیری یادوں کا موسم ہوتا ہے
Javed Akhtar
2 likes
جسم دمکتا زلف گھنیری درماندہ لب آنکھیں جادو سنگ مرمر اودا بادل سرخ شفق حیران آہو بھکشو دانی پیاسا پانی دریا ساگر جل گاگر گلشن خوشبو کوئل کوکو مستی دارو ہے وہ ہے وہ اور تو بامبی سیپی چھایا آنگن گھنگرو چھن چھن چبایا من آنکھیں کاجل پربت بادل حقیقت زلفیں اور یہ بازو راتیں مہکی سانسیں دہکی نظریں بہکی رت لہکی سوپن سلونا پریم کھلونا پھول بچھونا حقیقت پہلو جاناں سے دوری یہ مجبوری زخم کاری بیداری تنہا راتیں سپنے قاتیں خود سے باتیں میری پربھاکر
Javed Akhtar
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.







