ghazalKuch Alfaaz

تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ مجھ ایسے جنگلی کے لیے درخت ہی نہیں دکھتے ہیں خود کشی کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز رات یہی سوچ کر تو سوتا ہوں کے کل سے سمے نکالوں گا زندگی کے لیے حقیقت لمحہ آ ہی گیا تو انتظار کا لمحہ گھڑی بھی بند ہے پہلے سے ا سے گھڑی کے

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Swapnil Tiwari

یوں ہے وہ ہے وہ دل کا خیال رکھتا ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا خیال رکھتا ہوں تیری مرضی کا بھی خیال نہیں تیرا اتنا خیال رکھتا ہوں اور مر جاتا ہے وہی بیمار جس کا اچھا خیال رکھتا ہوں تجھ کو پھروں بھی خراب ہونا ہے پھروں بھی تیرا خیال رکھتا ہوں

Swapnil Tiwari

3 likes

یہ دھوپ گری ہے جو مری لان ہے وہ ہے وہ آ کر لے جائے گی جل گرا ہی اسے شام اٹھا کر سینے ہے وہ ہے وہ چھپا شام کی آنکھوں سے بچا کر اک لہر کو ہم لائے سمندر سے اٹھا کر ہاں سمے سے پہلے ہی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دےگی اسے صبح رکھی لگ گئی چاند سے گر شب یہ دبا کر اک صبح بھلی سی مری نزدیک سے گزری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بیٹھا رہا ہجر کی اک رات بچھا کر پھروں صبح سے ہی آج الم دیکھ رہے ہیں یادوں کی کوئی فلم مری دل ہے وہ ہے وہ چلا کر پھروں چائے ہے وہ ہے وہ بسکٹ کی طرح بھوکھی سی یہ شام کھا جائے گی سورج کو سمندر ہے وہ ہے وہ ڈوبا کر

Swapnil Tiwari

0 likes

اترا اترا تو یوں چہرہ لگ گھڑی کا ہوتا ذائقہ سمے کا تھوڑا بھی جو میٹھا ہوتا رات اک روز تو ذائقہ ہے وہ ہے وہ نکلتی اپنے چاند اک شام تو پانی کا میلے ہوتا تب مجھے سب ہی سمجھتے ترا جوگی جاناں مری ماتھے پہ ا گر ہجر کا بتاشا ہوتا

Swapnil Tiwari

1 likes

حقیقت لوٹ آئی ہے آف سے سے ہجر ختم ہوا ہمارے گال پہ اک ک سے سے ہجر ختم ہوا پھروں ایک آگ لگی ج سے ہے وہ ہے وہ وصل کی تھی چمک خیال یار کی ماچ سے سے ہجر ختم ہوا تھا بزم دنیا ہے وہ ہے وہ مشکل ہمارا ملنا سو نکل کے آ گئے مجل سے سے ہجر ختم ہوا بھلی شراب ہے یہ وصل نام ہے ا سے کا ب سے ایک جام پیا ج سے سے ہجر ختم ہوا تمہارے ہجر ہے وہ ہے وہ سو وصل سے گزر کر بھی یہ سوچتا ہوں ک ہاں ک سے سے ہجر ختم ہوا

Swapnil Tiwari

2 likes

ٹیبل لیمپ جلا رہتا ہے کونا ایک جگا رہتا ہے دو لوگوں کے بھی گھر ہے وہ ہے وہ مجھ سے کوئی لگ کوئی خفا رہتا ہے ہر دستک بیکار ہوئی ہے کیا ا سے گھر ہے وہ ہے وہ خدا رہتا ہے شرار نہیں ہے درد کا ٹریفک میرا زخم ہرا رہتا ہے حادثے بھی ہوتے رہتے ہیں میرا دل بھی لگا رہتا ہے

Swapnil Tiwari

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Swapnil Tiwari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Swapnil Tiwari's ghazal.