ghazalKuch Alfaaz

جاناں نے بھی ان سے ہی ملنا ہوتا ہے جن لوگوں سے میرا جھگڑا ہوتا ہے اس کا کا کے گاؤں کی ایک نشانی یہ بھی ہے ہر نلکے کا پانی میٹھا ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا بے وجہ سے تھوڑا آگے چلتا ہوں جس کا ہے وہ ہے وہ نے پیچھا کرنا ہوتا ہے بس ہلکی سی ٹھوکر مارنی پڑتی ہے ہر پتھر کے اندر چشمہ ہوتا ہے جاناں میری دنیا ہے وہ ہے وہ بلکل ایسے ہوں تاش ہے وہ ہے وہ چنو حکم کا اکا ہوتا ہے کتنے سوکھے پیڑ بچا سکتے ہیں ہم ہر جنگل ہے وہ ہے وہ لکڑہارا ہوتا ہے

Zia Mazkoor30 Likes

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

More from Zia Mazkoor

شاہ سے چھپکے قی گرا نے شہزا گرا کو پیغام لکھا جنگ سے بھاگنے والوں ہے وہ ہے وہ شہزادے کا بھی نام لکھا دوردراز سے آنے والے خط مری ہمسائی کے تھے اک دن ا سے نے ہمت کر کے اپنا اصلی نام لکھا ہم دونوں نے اپنے اپنے دین پہ قائم رہنا تھا گھر کی اک دیوار پہ اللہ اک دیوار پہ رام لکھا ایک محبت ختم ہوئی تو دوسری کی تیاری کی نئی کہانی کے آغاز ہے وہ ہے وہ پہلی کا انجام لکھا

Zia Mazkoor

17 likes

ا سے سے آپ کا دکھ بھی ہوں جائےگا اچھا خاصہ کم مجھ پر گزرے لمحوں ہے وہ ہے وہ سے کر دو ب سے ایک لمحہ کم بڑے بڑے شہروں ہے وہ ہے وہ کوئی کیسے کسی سے پیار کرے جتنے آ منا سامنے گھر ہے اتنا آنا جانا کم ا سے کے پسٹل سے ایک گولی کم ہونے کا زار ہے اپنے شہر ہے وہ ہے وہ اڑنے والے گول سے ایک پرندہ کم کل تو حقیقت اور ا سے کی کشتی ب سے جلنے ہی والے تھے دریا ا سے پر کافی گرم تھا لیکن آگ سے تھوڑا کم صدقے جاؤں ان چیزوں پر جن کو ا سے کے ہاتھ لگے غضب مکینک تھا حقیقت ج سے نے توڑا زیادہ جوڑا کم

Zia Mazkoor

15 likes

لگ چلتی ہے لگ رکتی ہے فقیرا تری دنیا بھی اچھی ہے فقیرا تمہیں ہٹنا پڑےگا راستے سے یہ جھونپڑیوں کی سواری ہے فقیرا ہمارے نا توان کندھوں پہ مت رکھ آئی لگ دار بھاری گٹھری ہے فقیرا تری گ گرا کو لے کر اتنے جھگڑے ابھی تو پہلی پیڑھی ہے فقیرا فقط یہ سوچ کر خاموش ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری روزی روٹی ہے فقیرا ہم ا سے کے آستاں تک کیسے پہنچے بڑی لمبی کہانی ہے فقیرا ہمارے ماننے والوں ہے وہ ہے وہ ہوں جا ہمارا فیض جاری ہے فقیرا

Zia Mazkoor

4 likes

ک سے طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر چھپکلی چڑھتے ہوئے دیکھی ہے ا سے تصویر پر ا سے نے ایسی کوٹھری ہے وہ ہے وہ قید رکھا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشنی آنکھوں پہ پڑتی تھی یا پھروں زنجیر پر مائیں بیٹوں سے خفا ہیں اور بیٹے ماوں سے عشق تاکتے آ گیا تو ہے دودھ کی تاثیر پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ انہی آبادیوں ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوتا کہی جاناں ا گر ہنستے نہیں ا سے دن مری تقدیر پر

Zia Mazkoor

19 likes

زیادہ کچھ نہیں ہمت تو کر ہی سکتے ہیں اک اچھے کام کی نیت تو کر ہی سکتے ہیں خدا کے ہاتھ سے لکھا مقدر اپنی جگہ ہم ا سے کے بندے ہیں محنت تو کر ہی سکتے ہیں غریب لوگ مرمت لگ کر سکیں تو کیا شکستہ گھر کی حفاظت تو کر ہی سکتے ہیں ہمارے بچے اجازت طلب نہیں کرتے م گر بتانے کی زحمت تو کر ہی سکتے ہیں ہزاروں سال گزارے ہیں مقت گرا رہ کر اک آدھ بار طلسم یار تو کر ہی سکتے ہیں تو کیا ہوا جو شریک حیات بن لگ سکے تمہاری شا گرا ہے وہ ہے وہ شراکت تو کر ہی سکتے ہیں

Zia Mazkoor

25 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zia Mazkoor.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zia Mazkoor's ghazal.