جاناں نے بھی ان سے ہی ملنا ہوتا ہے جن لوگوں سے میرا جھگڑا ہوتا ہے اس کا کا کے گاؤں کی ایک نشانی یہ بھی ہے ہر نلکے کا پانی میٹھا ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا بے وجہ سے تھوڑا آگے چلتا ہوں جس کا ہے وہ ہے وہ نے پیچھا کرنا ہوتا ہے بس ہلکی سی ٹھوکر مارنی پڑتی ہے ہر پتھر کے اندر چشمہ ہوتا ہے جاناں میری دنیا ہے وہ ہے وہ بلکل ایسے ہوں تاش ہے وہ ہے وہ چنو حکم کا اکا ہوتا ہے کتنے سوکھے پیڑ بچا سکتے ہیں ہم ہر جنگل ہے وہ ہے وہ لکڑہارا ہوتا ہے
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
More from Zia Mazkoor
شاہ سے چھپکے قی گرا نے شہزا گرا کو پیغام لکھا جنگ سے بھاگنے والوں ہے وہ ہے وہ شہزادے کا بھی نام لکھا دوردراز سے آنے والے خط مری ہمسائی کے تھے اک دن ا سے نے ہمت کر کے اپنا اصلی نام لکھا ہم دونوں نے اپنے اپنے دین پہ قائم رہنا تھا گھر کی اک دیوار پہ اللہ اک دیوار پہ رام لکھا ایک محبت ختم ہوئی تو دوسری کی تیاری کی نئی کہانی کے آغاز ہے وہ ہے وہ پہلی کا انجام لکھا
Zia Mazkoor
17 likes
ا سے سے آپ کا دکھ بھی ہوں جائےگا اچھا خاصہ کم مجھ پر گزرے لمحوں ہے وہ ہے وہ سے کر دو ب سے ایک لمحہ کم بڑے بڑے شہروں ہے وہ ہے وہ کوئی کیسے کسی سے پیار کرے جتنے آ منا سامنے گھر ہے اتنا آنا جانا کم ا سے کے پسٹل سے ایک گولی کم ہونے کا زار ہے اپنے شہر ہے وہ ہے وہ اڑنے والے گول سے ایک پرندہ کم کل تو حقیقت اور ا سے کی کشتی ب سے جلنے ہی والے تھے دریا ا سے پر کافی گرم تھا لیکن آگ سے تھوڑا کم صدقے جاؤں ان چیزوں پر جن کو ا سے کے ہاتھ لگے غضب مکینک تھا حقیقت ج سے نے توڑا زیادہ جوڑا کم
Zia Mazkoor
15 likes
لگ چلتی ہے لگ رکتی ہے فقیرا تری دنیا بھی اچھی ہے فقیرا تمہیں ہٹنا پڑےگا راستے سے یہ جھونپڑیوں کی سواری ہے فقیرا ہمارے نا توان کندھوں پہ مت رکھ آئی لگ دار بھاری گٹھری ہے فقیرا تری گ گرا کو لے کر اتنے جھگڑے ابھی تو پہلی پیڑھی ہے فقیرا فقط یہ سوچ کر خاموش ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری روزی روٹی ہے فقیرا ہم ا سے کے آستاں تک کیسے پہنچے بڑی لمبی کہانی ہے فقیرا ہمارے ماننے والوں ہے وہ ہے وہ ہوں جا ہمارا فیض جاری ہے فقیرا
Zia Mazkoor
4 likes
ک سے طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر چھپکلی چڑھتے ہوئے دیکھی ہے ا سے تصویر پر ا سے نے ایسی کوٹھری ہے وہ ہے وہ قید رکھا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشنی آنکھوں پہ پڑتی تھی یا پھروں زنجیر پر مائیں بیٹوں سے خفا ہیں اور بیٹے ماوں سے عشق تاکتے آ گیا تو ہے دودھ کی تاثیر پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ انہی آبادیوں ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوتا کہی جاناں ا گر ہنستے نہیں ا سے دن مری تقدیر پر
Zia Mazkoor
19 likes
زیادہ کچھ نہیں ہمت تو کر ہی سکتے ہیں اک اچھے کام کی نیت تو کر ہی سکتے ہیں خدا کے ہاتھ سے لکھا مقدر اپنی جگہ ہم ا سے کے بندے ہیں محنت تو کر ہی سکتے ہیں غریب لوگ مرمت لگ کر سکیں تو کیا شکستہ گھر کی حفاظت تو کر ہی سکتے ہیں ہمارے بچے اجازت طلب نہیں کرتے م گر بتانے کی زحمت تو کر ہی سکتے ہیں ہزاروں سال گزارے ہیں مقت گرا رہ کر اک آدھ بار طلسم یار تو کر ہی سکتے ہیں تو کیا ہوا جو شریک حیات بن لگ سکے تمہاری شا گرا ہے وہ ہے وہ شراکت تو کر ہی سکتے ہیں
Zia Mazkoor
25 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Zia Mazkoor.
Similar Moods
More moods that pair well with Zia Mazkoor's ghazal.







