udhad jaae jo ik bakhiya to haiat hi badal jaae libas-e-rishta-ha-e-khun ki vaq'at hi badal jaae musavvar hai vo aisa jis ki har takhliq hai shahkar zara sa 'uzv yaan se vaan ho murat hi badal jaae uthae rukh se anchal to siyahi shab ki chhat jaae hatae zulf to mah ki bhi qismat hi badal jaae khulen gar qissa-ha-e-khalvat-e-murshid muridon par nigahon se vo gir jaaen 'aqidat hi badal jaae 'ajab hai kaifiyat apni 'mudassir' muztarib hai dil mile koi to phir andar ki halat hi badal jaae udhad jae jo ek bakhiya to haiat hi badal jae libas-e-rishta-ha-e-khun ki waq'at hi badal jae musawwar hai wo aisa jis ki har takhliq hai shahkar zara sa 'uzw yan se wan ho murat hi badal jae uthae rukh se aanchal to siyahi shab ki chhat jae hatae zulf to mah ki bhi qismat hi badal jae khulen gar qissa-ha-e-khalwat-e-murshid muridon par nigahon se wo gir jaen 'aqidat hi badal jae 'ajab hai kaifiyat apni 'mudassir' muztarib hai dil mile koi to phir andar ki haalat hi badal jae
Related Ghazal
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں شکریہ مشورہ کا چلتے ہیں ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ک سے طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں ہے حقیقت جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو بھی خوش ہے ہم ا سے سے جلتے ہیں ہے اسے دور کا سفر در سانحے ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں جاناں بنو رنگ جاناں بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن ہے وہ ہے وہ ڈھلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب ج سے طرح بہلتے ہیں ہے غضب فیصلے کا صحرا بھی چل لگ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں
Jaun Elia
38 likes
ٹھہراؤ تو ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا ہی نہیں رکتی تھی نکل لیا کرتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کپڑے بدلتے سوچتا تھا حقیقت مرد بدل لیا کرتی تھی مجھے اپنے بنائے راستوں پر بھی جوتے پہننا پڑتے تھے حقیقت لوگوں کے سینے پر بھی جوتے اتار کر چل لیا کرتی تھی مری ہاتھ خیرو ہوں جاتے تھے مری چشمے سیاہ ہوں جاتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو نقاب کا کہتا تھا حقیقت کالکھ مل لیا کرتی تھی ا سے عورت نے بیزار کیا اک بار نہیں سو بار کیا گانوں پہ چھری اچھل نہیں پاتی تھی باتوں پہ چھری اچھل لیا کرتی تھی تاریک محل کو شہزا گرا نے روشن رکھا کنیزوں سے کبھی ان کو جلا لیا کرتی تھی کبھی ان سے جل لیا کرتی تھی آداب تجارت سے بھی نا واقف تھی شعر و ادب کی طرح مجھے ویسا پیار نہیں دیتی تھی جیسی غزل لیا کرتی تھی
Muzdum Khan
30 likes
عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہے یار جاناں کیا ہوں کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہے عشق ہے عشق کوئی کھیل نہیں بچوں کا حقیقت چلا جائے جسے مات سے ڈر لگتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری حسن کا شیدائی نہیں ہوں سکتا روز بنتی ہوئی خیرات سے ڈر لگتا ہے ہم نے حالات بدلنے کی دعا مانگی تھی اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے دل تو کرتا ہے کہ بارش ہے وہ ہے وہ نہائیں یاسر گھر جو تکبر ہوں تو برسات سے ڈر لگتا ہے
Yasir Khan
15 likes
حالت جو ہماری ہے تمہاری تو نہیں ہے ایسا ہے تو پھروں یہ کوئی یاری تو نہیں ہے تحقیر نا کر یہ مری ادھڑی ہوئی گدڑی جیسی بھی ہے اپنی ہے ادھاری تو نہیں ہے تنہا ہی صحیح لڑ تو رہی ہے حقیقت اکیلی ب سے تھک کے گری ہے ابھی ہاری تو نہیں ہے یہ تو جو محبت ہے وہ ہے وہ صلہ مانگ رہا ہے اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ہے جتنی بھی کما لی ہوں بنا لی ہوں یہ دنیا دنیا ہے تو پھروں دوست تمہاری تو نہیں ہے
Ali Zaryoun
33 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mudassir Husain Mudassir.
Similar Moods
More moods that pair well with Mudassir Husain Mudassir's ghazal.







