ghazalKuch Alfaaz

اونو آویں تو پردے سے گھڑی بھر بھار بیٹھوں گی بہانا کر کے موتیاں کے پروتے ہار بیٹھوں گی اونو یاں آو کیں گے تو کہوں گی کام کرتی ہوں اٹھلتی ہور مٹھلتی چپ گھڑی دوچار بیٹھوں گی نزک میں دوڑ جانے کوں خوشی ہوں چپ اچھل رہوں گی ولے لوگاں میں دکھلانے کو ہو بیزار بیٹھوں گی پکڑ کر ہاتھ پردے میں لیجاویں گے تو جھڑکوں گی گھنگھٹ میں مکھ چپا کرٹک میں تڑکا مار بیٹھوں گی بلایاں جیوں کے جیوں میں لے پڑوں گی پاؤں میں دل سوں ولے ظاہر میں دکھلانے کو ہو اغیار بیٹھوں گی کروں گی ظاہرانہ چپ غصہ اور مان ہٹ لیکن سریجن پرتے جیو اپنا میں جیو میں وار بیٹھوں گی کتی بیزاری دیتے ووئی جو بیٹھی تو نزک آکر مجھے سو گند جو آکر یوں دسری بار بیٹھوں گی کنے کو چپ کتی ہوں میں ولے یوں جی میں گھٹ کی یوں نزک ہو ہاشمی کے مل میں آٹھوں پھار بیٹھوں گی

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں جاؤں کروں ک سے سے شکایت ا سے کی ہر طرف ا سے کے طرف دار نظر آتے ہیں زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے پھروں ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابش اور پھروں حقیقت ہی لگاتار نظر آتے ہیں

Zubair Ali Tabish

39 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے مت کرے عشق اپنے گھر جائے بات آ جائے جب دعاؤں پر ا سے سے بہتر ہے بندہ مر جائے تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ مری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے المہیمین کے گھر بھی خطرے ہیں جائے بھی تو کوئی کدھر جائے ہاں عقیدہ ا گر لگ قید رکھے پھروں تو انسان کچھ بھی کر جائے قیامت کی یہ آخری حد ہے مری اولاد آپ پر جائے ا سے کے چہرے پر آج اداسی تھی ہاں یہ افکار علوی مر جائے

Afkar Alvi

38 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on ہاشمی بیجاپوری.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with ہاشمی بیجاپوری's ghazal.