اس کا کی پیشانی پہ جو بل آئی دو جہاں ہے وہ ہے وہ اتھل پتھل آئی خواب کا بوجھ اتنا بھاری تھا نیند پلکوں پہ ہم کچل آئی اس کا کا دودمان جذب ہوں گئے دونوں درد کھینچوں تو دل نکل آئی روح کا ننگا پن چھپانے کو جسم کپڑے بدل بدل آئی جس پہ ہر چیز ٹال رکھی ہے جانے کس روز میرا کل آئی گل مہر کی تلاش تھی مجھ کو میرے حصے مگر کنول آئی
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Abbas Qamar
مری پرچھائیاں گم ہیں مری پہچان باقی ہے سفر دم توڑنے کو ہے م گر سامان باقی ہے ابھی تو خواہشوں کے درمیان غماسان باقی ہے ابھی ا سے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ذرا سی جان باقی ہے اسے تاری کیوں نے قید کر رکھا ہے برسوں سے مری کمرے ہے وہ ہے وہ ب سے کہنے کو روشن دان باقی ہے تمہارا جھوٹ چہرے سے عیاں ہوں جائےگا اک دن تمہارے دل کے اندر تھا جو حقیقت شیطان باقی ہے گزاری عمر ج سے کی بندگی ہے وہ ہے وہ حقیقت ہے لا حاصل غضب سرمایہ کاری ہے نفع نقصان باقی ہے ابھی زندہ ہے بوڑھا باپ گھر کی زندگی بنکر فقط کمرے جدا ہیں بیچ ہے وہ ہے وہ دالان باقی ہے غزل زندہ ہے اردو کے ادب بردار زندہ ہیں ہماری تربیت ہے وہ ہے وہ اب بھی ہندوستان باقی ہے
Abbas Qamar
12 likes
हम ऐसे सर-फिरे दुनिया को कब दरकार होते हैं अगर होते भी हैं बे-इंतिहा दुश्वार होते हैं ख़मोशी कह रही है अब ये दो-आबा रवाँ होगा हवा चुप हो तो बारिश के शदीद आसार होते हैं ज़रा सी बात है इस का तमाशा क्या बनाएँ हम इरादे टूटते हैं हौसले मिस्मार होते हैं शिकायत ज़िंदगी से क्यूँँ करें हम ख़ुद ही थम जाएँ जो कम-रफ़्तार होते हैं वो कम-रफ़्तार होते हैं गले में ज़िंदगी के रीसमान-ए-वक़्त है तो क्या परिंदे क़ैद में हों तो बहुत हुश्यार होते हैं जहाँ वाले मुक़य्यद हैं अभी तक अहद-ए-तिफ़्ली में यहाँ अब भी खिलौने रौनक़-ए-बाज़ार होते हैं गुलू-ए-ख़ुश्क उन को भेजता है दे के मश्कीज़ा कुछ आँसू तिश्ना-कामों के अलम-बरदार होते हैं बदन उन को कभी बाहर निकलने ही नहीं देता 'क़मर-अब्बास' तो बा-क़ाएदा तय्यार होते हैं
Abbas Qamar
9 likes
حالت حال سے بیگا لگ بنا رکھا ہے خود کو ماضی کا ن ہاں خا لگ بنا رکھا ہے خوف دوزخ نے ہی ایجاد کیا ہے سجدہ ڈر نے انسان کو دیوا لگ بنا رکھا ہے منبر عشق سے تقریر کی خواہش ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو ا سے واسطے مولانا بنا رکھا ہے ماتم شوق بپا کرتے ہیں ہر شام ی ہاں جسم کو ہم نے اذان خا لگ بنا رکھا ہے سمے رخصت ہے مری چاہنے والوں نے بھی اب سان سے کو سمے کا پیما لگ بنا رکھا ہے جانتے ہیں حقیقت پرندہ ہے نہیں ٹھہرےگا ہم نے ا سے دل کو م گر دا لگ بنا رکھا ہے
Abbas Qamar
8 likes
تری خیال سے پھوٹا تھا خواب کہتے ہیں تجھے حیات کا لب لباب کہتے ہیں چنا ہے تو نے مجھے زندگی کے دامن ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے یہ لوگ تیرا انتخاب کہتے ہیں اسی کا نام روانی ہے برسر دریا اسی کو دشت ہے وہ ہے وہ پیاسے شراب کہتے ہیں گناہگار ہے ا سے کے سو ا سے کی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم ا سے کے حسن کو ا سے کا نقاب کہتے ہیں
Abbas Qamar
15 likes
تیری آغوش ہے وہ ہے وہ سر رکھا سسک کر روئے میرے سپنے میری آنکھوں سے چھلک کر روئے ساری خوشیوں کو سرے آم جھٹک کر روئے ہم بھی بچوں کی طرح پاؤں پٹک کر روئے راستہ صاف تھا منزل بھی بہت دور نہ تھی بیچ رستے ہے وہ ہے وہ مگر پاؤں اٹک کر روئے جس گھڑی قتل ہواؤں نے چراغوں کا کیا میرے ہمراہ جو جگنو تھے ففک کر روئے قیمتی ضد تھی غریبی بھی بھلا کیا کرتی ماں کے جذبات دلارو کو تھپک کر روئے اپنے حالات بیاں کر کے جو روئی دھرتی چاند تارے کسی کونے ہے وہ ہے وہ دبک کر روئے با مشقت بھی مکمل نہ ہوئی اپنی غزل چند نکتے میرے کاغذ سے سرک کر روئے
Abbas Qamar
18 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abbas Qamar.
Similar Moods
More moods that pair well with Abbas Qamar's ghazal.







