ا سے کو جدا ہوئے بھی زما لگ بے حد ہوا اب کیا کہی یہ قصہ پرانا بے حد ہوا ڈھلتی لگ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق اے مرگ ناگ ہاں ترا آنا بے حد ہوا ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعات کا فسا لگ بے حد ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی ا سے سے ذرا سا ربط بڑھانا بے حد ہوا اب کیوں لگ زندگی پہ محبت کو وار دیں ا سے کرنے والے ہے وہ ہے وہ جان سے جانا بے حد ہوا اب تک تو دل کا دل سے تعارف لگ ہوں سکا مانا کہ ا سے سے ملنا ملانا بے حد ہوا کیا کیا لگ ہم خراب ہوئے ہیں م گر یہ دل اے یاد یار تیرا ہری بے حد ہوا کہتا تھا ناصحوں سے مری منا لگ آئ یوں پھروں کیا تھا ایک ہوں کا بہانا بے حد ہوا لو پھروں تری لبوں پہ اسی بےوفا کا ذکر احمد فراز تجھ سے کہا لگ بے حد ہوا
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Ahmad Faraz
کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں
Ahmad Faraz
6 likes
خاموش ہوں کیوں داد کہوں کیوں نہیں دیتے بسم اللہ ہوں تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے وحشت کا سبب روزن زنداں تو نہیں ہے مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے اے چارگرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے منصف ہوں ا گر جاناں تو کب انصاف کروگے مجرم ہیں ا گر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے رہزن ہوں تو حاضر ہے متا دل و جاں بھی رہبر ہوں تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے کیا بیت گئی اب کے فراز اہل چمن پر یاران قف سے مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
Ahmad Faraz
4 likes
جو غیر تھے حقیقت اسی بات پر ہمارے ہوئے کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے کسے خبر حقیقت محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے اب اک ہجوم شکستہ دلان ہے ساتھ اپنے جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشش سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو اسی جنوں ہے وہ ہے وہ تو برباد گھر ہمارے ہوئے حقیقت اعتماد کہاں سے فراز لائیں گے کسی کو چھوڑ کے حقیقت اب اگر ہمارے ہوئے
Ahmad Faraz
9 likes
ا سے کو جدا ہوئے بھی زما لگ بے حد ہوا اب کیا کہی یہ قصہ پرانا بے حد ہوا ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعات کا فسا لگ بے حد ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی ا سے سے ذرا سا ربط بڑھانا بے حد ہوا اب کیوں لگ زندگی پہ محبت کو وار دیں ا سے کرنے والے ہے وہ ہے وہ جان سے جانا بے حد ہوا اب تک تو دل کا دل سے تعارف لگ ہوں سکا مانا کہ ا سے سے ملنا ملانا بے حد ہوا کیا کیا لگ ہم خراب ہوئے ہیں م گر یہ دل اے یاد یار تیرا ہری بے حد ہوا کہتا تھا ناصحوں سے مری منا لگ آئ یوں پھروں کیا تھا ایک ہوں کا بہانا بے حد ہوا لو پھروں تری لبوں پہ اسی بےوفا کا ذکر احمد فراز تجھ سے کہا لگ بے حد ہوا
Ahmad Faraz
8 likes
کروں لگ یاد م گر ک سے طرح بھلاؤں اسے غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بات کروں اب ک ہاں سے لاؤں اسے م گر حقیقت زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ا گر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحوں گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز غضب نہیں ہے ا گر یاد بھی لگ آؤں اسے
Ahmad Faraz
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.







