ghazalKuch Alfaaz

سمے ہی کم تھا فیصلے کے لیے ور لگ ہے وہ ہے وہ آتا مشورے کے لیے جاناں کو اچھے لگے تو جاناں رکھ لو پھول گرفت تھے بیچنے کے لیے گھنٹوں خاموش رہنا پڑتا ہے آپ کے ساتھ بولنے کے لیے سیکڑوں کنڈیاں لگا رہا ہوں چند بٹنوں کو کھولنے کے لیے ایک دیوار باغ سے پہلے اک دوپٹہ کھلے گلے کے لیے ترک اپنی فلاح کر دی ہے اور کیا ہوں معاشرے کے لیے لوگ آیات پڑھ کے سوتے ہیں آپ کے خواب دیکھنے کے لیے اب ہے وہ ہے وہ رستے ہے وہ ہے وہ لیٹ جاؤں کیا جانے والوں کو روکنے کے لیے

Zia Mazkoor25 Likes

Related Ghazal

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Zia Mazkoor

ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ فرات کا ہے وگر لگ علم اسے اپنی مشکلات کا ہے مری حساب سے مازوری حسن ہے میرا ا گر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے اک آدھے کام کے حق ہے وہ ہے وہ تو خیر ہے وہ ہے وہ بھی ہوں تمہارے پا سے تو دفترون سفارشات کا ہے ہماری بات کا جتنا وسیع پہلو ہے زبان پہ لانے ہے وہ ہے وہ نقصان کائنات کا ہے ہم ا سے کے ہونے نا ہونے پہ کتنا لڑ رہے ہیں کسی کے واسطے یہ کھیل نفسیات کا ہے

Zia Mazkoor

8 likes

ا سے سے آپ کا دکھ بھی ہوں جائےگا اچھا خاصہ کم مجھ پر گزرے لمحوں ہے وہ ہے وہ سے کر دو ب سے ایک لمحہ کم بڑے بڑے شہروں ہے وہ ہے وہ کوئی کیسے کسی سے پیار کرے جتنے آ منا سامنے گھر ہے اتنا آنا جانا کم ا سے کے پسٹل سے ایک گولی کم ہونے کا زار ہے اپنے شہر ہے وہ ہے وہ اڑنے والے گول سے ایک پرندہ کم کل تو حقیقت اور ا سے کی کشتی ب سے جلنے ہی والے تھے دریا ا سے پر کافی گرم تھا لیکن آگ سے تھوڑا کم صدقے جاؤں ان چیزوں پر جن کو ا سے کے ہاتھ لگے غضب مکینک تھا حقیقت ج سے نے توڑا زیادہ جوڑا کم

Zia Mazkoor

15 likes

شاہ سے چھپکے قی گرا نے شہزا گرا کو پیغام لکھا جنگ سے بھاگنے والوں ہے وہ ہے وہ شہزادے کا بھی نام لکھا دوردراز سے آنے والے خط مری ہمسائی کے تھے اک دن ا سے نے ہمت کر کے اپنا اصلی نام لکھا ہم دونوں نے اپنے اپنے دین پہ قائم رہنا تھا گھر کی اک دیوار پہ اللہ اک دیوار پہ رام لکھا ایک محبت ختم ہوئی تو دوسری کی تیاری کی نئی کہانی کے آغاز ہے وہ ہے وہ پہلی کا انجام لکھا

Zia Mazkoor

17 likes

فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے اب کے یہ لوگ تمہیں ایسی جگہ بھیجیں گے زندگی دیکھ چکے تجھ کو بڑے پردے پر آج کے بعد کوئی فلم نہیں سر و ساماں مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ دشمن کے قریں پہنچوں گا اور کبوتر مری تلوار پہ آ بیٹھیں گے ہم کو اک بار کناروں سے نکل جانے دو پھروں تو سیلاب کے پانی کی طرح پھیلیں گے تو حقیقت دریا ہے اگر جلدی نہیں کی تو نے خود سمندر تجھے ملنے کے لیے آئیں گے سیغا راز ہے وہ ہے وہ رکھیں گے نہیں عشق ترا ہم تری نام سے خوشبو کی دکان کھولیں گے

Zia Mazkoor

13 likes

عجیب حادثہ ہوا عجیب سانحہ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی کی شاخ سے ہرا بھرا جدا ہوا حقیقت خد و خال دیکھ کر سبھی کے ہوش اڑ گئے نہیں کے صرف آئی لگ حوا سے واقفہ ہوا ہوا چلی تو ا سے کی شال مری چھت پہ آ گری یہ ا سے بدن کے ساتھ میرا پہلا رابطہ ہوا

Zia Mazkoor

17 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zia Mazkoor.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zia Mazkoor's ghazal.