حقیقت نف سے جبرئیل کہ مجھ کو سکھا گیا تو ہے جنوں خدا مجھے اندھیرا دے تو ک ہوں ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دےگا حقیقت خود فراخی افلاک ہے وہ ہے وہ ہے خوار و زبو حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجزوبی خو گرا کی موت ہے اندیشہ ہا گونا گوں غضب مزہ ہے مجھے لذت خو گرا دے کر حقیقت چاہتے ہیں کہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ ہے وہ ہے وہ لگ ر ہوں ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق لگ مال و دولت قاروں لگ فکر افلاطون سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد ہے وہ ہے وہ ہے گردوں یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید کہ آ رہی ہے دمادم صدا کن فیکون علاج آتش رومی کے سوز ہے وہ ہے وہ ہے ترا تری خرد پہ ہے تاکتے فرنگیوں کا فسوں اسی کے فیض سے مری نگاہ ہے روشن اسی کے فیض سے مری سبو ہے وہ ہے وہ ہے جہو
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Allama Iqbal
سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں یہ کیا اچھی کہی ظالم ہوں ہے وہ ہے وہ جاہل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جبیں تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی لگ تھی جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے حقیقت باطل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست وائے چھپتے خزف چین لب ساحل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے مری ذلت ہی کچھ مری شرافت کی دلیل ج سے کی غفلت کو ملک روتے ہیں حقیقت غافل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزم ہستی اپنی آرائش پہ تو نازاں لگ ہوں تو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہے وہ ہے وہ حفیظ اپنے آپ کو آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
0 likes
دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ غضب کیا کہ تو بےباک نہیں ہے ہے نرا بھی اسی خاک ہے وہ ہے وہ پن ہاں غافل تو صاحب ادراک سرمہ فرنگ نہیں ہے حقیقت آنکھ کہ ہے پرکار سے روشن سخن ساز و ملا ہے نمنک نہیں ہے کیا صوفی و سر دامن کو خبر مری جنوں کی ان کا محکومی انجم بھی ابھی چاک نہیں ہے کب تک رہے گردش افلاک ہے وہ ہے وہ مری خاک یا ہے وہ ہے وہ نہیں یا بیاباں نہیں ہے بجلی ہوں نظر کوہ و شایاں پہ ہے مری مری لیے خ سے و خاشاک مومن جانباز نہیں ہے عالم ہے فقط صاحب لولاک کی میرا سے مومن نہیں جو حرف راز نہیں ہے
Allama Iqbal
1 likes
لا پھروں اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہوں آم اے ساقی میری مینا غزل ہے وہ ہے وہ تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شعر مردوں سے ہوا بیش تحقیق تہی رہ گئے صوفی و سر دامن کے غلام اے ساقی عشق کی تیغ جگر دار قسمیں لی کہ سے نے علم کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ خالی ہے نیام اے ساقی سینا روشن ہوں تو ہے سوز سخن عین حیات ہوں نہ روشن تو سخن مرگ دوام اے ساقی تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ تری پیمانے ہے وہ ہے وہ ہے ماہ تمام اے ساقی
Allama Iqbal
3 likes
कुशादा दस्त-ए-करम जब वो बे-नियाज़ करे नियाज़-मंद न क्यूँँ आजिज़ी पे नाज़ करे बिठा के अर्श पे रक्खा है तू ने ऐ वाइ'ज़ ख़ुदा वो क्या है जो बंदों से एहतिराज़ करे मिरी निगाह में वो रिंद ही नहीं साक़ी जो होशियारी ओ मस्ती में इम्तियाज़ करे मुदाम गोश-ब-दिल रह ये साज़ है ऐसा जो हो शिकस्ता तो पैदा नवा-ए-राज़ करे कोई ये पूछे कि वाइ'ज़ का क्या बिगड़ता है जो बे-अमल पे भी रहमत वो बे-नियाज़ करे सुख़न में सोज़ इलाही कहाँ से आता है ये चीज़ वो है कि पत्थर को भी गुदाज़ करे तमीज़-ए-लाला-ओ-गुल से है नाला-ए-बुलबुल जहाँ में वा न कोई चश्म-ए-इम्तियाज़ करे ग़ुरूर-ए-ज़ोहद ने सिखला दिया है वाइ'ज़ को कि बंदगान-ए-ख़ुदा पर ज़बाँ दराज़ करे हवा हो ऐसी कि हिन्दोस्ताँ से ऐ 'इक़बाल' उड़ा के मुझ को ग़ुबार-ए-रह-ए-हिजाज़ करे
Allama Iqbal
0 likes
ہر اجازت مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میدان تو میر لشکر نوری حضوری تری سپاہی کچھ دودمان اپنی تو نے لگ جانی یہ بے سوا گرا یہ کم نگاہی دنیا دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے کردار بے سوز گفتار واہی
Allama Iqbal
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Allama Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.







