वो कहते हैं रंजिश की बातें भुला दें मोहब्बत करें ख़ुश रहें मुस्कुरा दें ग़ुरूर और हमारा ग़ुरूर-ए-मोहब्बत मह ओ मेहर को उन के दर पर झुका दें जवानी हो गर जावेदानी तो या रब तिरी सादा दुनिया को जन्नत बना दें शब-ए-वस्ल की बे-ख़ुदी छा रही है कहो तो सितारों की शमएँ बुझा दें बहारें सिमट आएँ खिल जाएँ कलियाँ जो हम तुम चमन में कभी मुस्कुरा दें इबादत है इक बे-ख़ुदी से इबारत हरम को मय-ए-मुश्क-बू से बसा दें वो आएँगे आज ऐ बहार-ए-मोहब्बत सितारों के बिस्तर पे कलियाँ बिछा दें बनाता है मुँह तल्ख़ी-ए-मय से ज़ाहिद तुझे बाग़-ए-रिज़वाँ से कौसर मँगा दें जिन्हें उम्र भर याद आना सिखाया वो दिल से तिरी याद क्यूँँकर भुला दें तुम अफ़्साना-ए-क़ैस क्या पूछते हो इधर आओ हम तुम को लैला बना दें ये बे-दर्दियाँ कब तक ऐ दर्द-ए-ग़ुर्बत बुतों को फिर अर्ज़-ए-हरम में बसा दें वो सरमस्तियाँ बख़्श ऐ रश्क-ए-शीरीं कि ख़ुसरू को ख़्वाब-ए-अदम से जगा दें तिरे वस्ल की बे-ख़ुदी कह रही है ख़ुदाई तो क्या हम ख़ुदा को भुला दें उन्हें अपनी सूरत पे यूँँ नाज़ कब था मिरे इश्क़-ए-रुस्वा को 'अख़्तर' दुआ दें
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
More from Akhtar Shirani
لگ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے شراب پینے دے خا لگ خراب پینے دے ابھی سے اپنی نصیحت کا زہر دے لگ مجھے ابھی تو پینے دے اور بے حساب پینے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں چھلکتا ہوا گناہ ہے یہ تو ا سے گناہ کو بے احتساب پینے دے پھروں ایسا سمے ک ہاں ہم ک ہاں شراب ک ہاں طلسم دہر ہے نقش بر آب پینے دے مری دماغ کی دنیا کا آفتاب ہے یہ ملا کے برف ہے وہ ہے وہ یہ آفتاب پینے دے کسی حسی لگ کے بوسوں شراب آرز کے قابل اب لگ رہے تو ان لبوں سے ہمیشہ شراب پینے دے سمجھ کے ا سے کو غفور الرحیم پیتا ہوں لگ چھیڑ ذکر عذاب و ثواب پینے دے جو روح ہوں چکی اک بار داغ دار مری تو اور ہونے دے لیکن شراب پینے دے شراب خانے ہے وہ ہے وہ یہ شور کیوں مچایا ہے خاموش اختر خا لگ خراب پینے دے
Akhtar Shirani
0 likes
یوں تو ک سے پھول سے رنگت لگ گئی وعدے لگ گئی اے محبت مری پہلو سے م گر تو لگ گئی مٹ چلے مری امیدوں کی طرح حرف م گر آج تک تری خطوں سے تری خوشبو لگ گئی کب بہاروں پہ تری رنگ کا سایہ لگ پڑا کب تری گیسوؤں کو باد سحر چھو لگ گئی تری گیسو معمبر کو کبھی چھیڑا تھا مری ہاتھوں سے ابھی تک تری خوشبو لگ گئی
Akhtar Shirani
0 likes
غم زما لگ نہیں اک عذاب ہے ساقی شراب لا مری حالت خراب ہے ساقی شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی شراب لا مجھے پا سے شباب ہے ساقی اٹھا خواب کہ گلشن پہ پھروں برسنے لگی حقیقت مے کہ ج سے کا قدح ماہتاب ہے ساقی نکال پردہ مینا سے دختر رز کو گھٹا ہے وہ ہے وہ ک سے لیے یہ ماہتاب ہے ساقی تو واعظوں کی لگ سن مے کشوں کی خدمت کر گناہ ثواب کی خاطر ثواب ہے ساقی زمانے بھر کے غموں کو ہے دعوت غرہ کہ ایک جام ہے وہ ہے وہ سب کا جواب ہے ساقی چھوؤں گا ج سے کا ہے بشارت حافظ و خیام یہی حقیقت اختر خا لگ خراب ہے ساقی
Akhtar Shirani
0 likes
لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھروں ک ہاں زندگانی پھروں ک ہاں نادان جوانی پھروں ک ہاں دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانیے عمر فانی ہی صحیح یہ عمر فانی پھروں ک ہاں آ کہ ہم بھی اک ترا لگ جھوم کر گاتے چلیں ا سے چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھروں ک ہاں ہے زما لگ عشق سلمیٰ ہے وہ ہے وہ گنوا دے زندگی یہ زما لگ پھروں ک ہاں یہ زندگانی پھروں ک ہاں ایک ہی بستی ہے وہ ہے وہ ہیں آساں ہے ملنا آ ملو کیا خبر لے جائے دور آسمانی پھروں ک ہاں فصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہے یہ چمن یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھروں ک ہاں پھول چن جی کھول کر عیش و طرب کے پھول چن تہذیب پھروں ک ہاں فصل جاواں پھروں ک ہاں آخری رات آ گئی جی بھر کے مل لیں آج تو جاناں سے ملنے دےگا دور آسمانی پھروں ک ہاں آج آئی ہوں تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزل ور لگ اندھیرا پھروں ک ہاں یہ شیر خوانی پھروں ک ہاں
Akhtar Shirani
1 likes
ک سے کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے دل دھڑکتا ہے ماجرا کیا ہے اک محبت تھی مٹ چکی یا رب تیری دنیا ہے وہ ہے وہ اب دھرا کیا ہے دل ہے وہ ہے وہ لیتا ہے چٹکیاں کوئی ہاں یہ ا سے درد کی دوا کیا ہے حوریں نیکوں ہے وہ ہے وہ بٹ چکی ہوںگی باغ رضواں ہے وہ ہے وہ اب رکھا کیا ہے ا سے کے عہد شباب ہے وہ ہے وہ جینا جینے والو تمہیں ہوا کیا ہے اب دوا کیسی ہے دعا کا سمے تری بیمار ہے وہ ہے وہ رہا کیا ہے یاد آتا ہے چھوڑنا اندھیرا خلد ہوں آئیں تو برا کیا ہے
Akhtar Shirani
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akhtar Shirani.
Similar Moods
More moods that pair well with Akhtar Shirani's ghazal.







