لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھروں ک ہاں زندگانی پھروں ک ہاں نادان جوانی پھروں ک ہاں دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانیے عمر فانی ہی صحیح یہ عمر فانی پھروں ک ہاں آ کہ ہم بھی اک ترا لگ جھوم کر گاتے چلیں ا سے چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھروں ک ہاں ہے زما لگ عشق سلمیٰ ہے وہ ہے وہ گنوا دے زندگی یہ زما لگ پھروں ک ہاں یہ زندگانی پھروں ک ہاں ایک ہی بستی ہے وہ ہے وہ ہیں آساں ہے ملنا آ ملو کیا خبر لے جائے دور آسمانی پھروں ک ہاں فصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہے یہ چمن یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھروں ک ہاں پھول چن جی کھول کر عیش و طرب کے پھول چن تہذیب پھروں ک ہاں فصل جاواں پھروں ک ہاں آخری رات آ گئی جی بھر کے مل لیں آج تو جاناں سے ملنے دےگا دور آسمانی پھروں ک ہاں آج آئی ہوں تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزل ور لگ اندھیرا پھروں ک ہاں یہ شیر خوانی پھروں ک ہاں
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
شاہسازی ہے وہ ہے وہ رعایت بھی نہیں کرتے ہوں سامنے آکے حکومت بھی نہیں کرتے ہوں جاناں سے کیا بات کرے کون ک ہاں قتل ہوا جاناں تو ا سے ظلم پہ حیرت بھی نہیں کرتے ہوں اب مری حال پہ کیوں جاناں کو پریشانی ہے اب تو جاناں مجھ سے محبت بھی نہیں کرتے ہوں پیار کرنے کی سند کیسے تمہیں جاری کروں جاناں ابھی ٹھیک سے خوبصورت بھی نہیں کرتے ہوں مشورے ہن سے کے دیا کرتے تھے دیوانوں کو کیا ہوا اب تو نصیحت بھی نہیں کرتے ہوں
Ali Zaryoun
39 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Akhtar Shirani
غم زما لگ نہیں اک عذاب ہے ساقی شراب لا مری حالت خراب ہے ساقی شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی شراب لا مجھے پا سے شباب ہے ساقی اٹھا خواب کہ گلشن پہ پھروں برسنے لگی حقیقت مے کہ ج سے کا قدح ماہتاب ہے ساقی نکال پردہ مینا سے دختر رز کو گھٹا ہے وہ ہے وہ ک سے لیے یہ ماہتاب ہے ساقی تو واعظوں کی لگ سن مے کشوں کی خدمت کر گناہ ثواب کی خاطر ثواب ہے ساقی زمانے بھر کے غموں کو ہے دعوت غرہ کہ ایک جام ہے وہ ہے وہ سب کا جواب ہے ساقی چھوؤں گا ج سے کا ہے بشارت حافظ و خیام یہی حقیقت اختر خا لگ خراب ہے ساقی
Akhtar Shirani
0 likes
زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئی الہی اب تو اڑائے جائے اور بہار آئی ستم ظریفی فطرت یہ کیا معمہ ہے کہ ج سے کلی کو بھی سونگھوں بو یار ہے وہ ہے وہ آمادہ تبسم آئی چمن کی ہر کلی آغوش عشق ہے بہار بن کے مری جان نو بہار آئی ہیں تش لگ کام ہم ان بادلوں سے پوچھے کوئی ک ہاں بہار کی پریوں کے تخت اتار آئی تری خیال کی بے تا بیاں معاذ اللہ کہ ایک بار بھلائیں تو لاکھ بار آئی حقیقت آئیں یوں مری خواب بے قرار ہے وہ ہے وہ اندھیرا کہ چنو آنکھوں ہے وہ ہے وہ اک صبح خزاں آئی
Akhtar Shirani
0 likes
ک سے کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے دل دھڑکتا ہے ماجرا کیا ہے اک محبت تھی مٹ چکی یا رب تیری دنیا ہے وہ ہے وہ اب دھرا کیا ہے دل ہے وہ ہے وہ لیتا ہے چٹکیاں کوئی ہاں یہ ا سے درد کی دوا کیا ہے حوریں نیکوں ہے وہ ہے وہ بٹ چکی ہوںگی باغ رضواں ہے وہ ہے وہ اب رکھا کیا ہے ا سے کے عہد شباب ہے وہ ہے وہ جینا جینے والو تمہیں ہوا کیا ہے اب دوا کیسی ہے دعا کا سمے تری بیمار ہے وہ ہے وہ رہا کیا ہے یاد آتا ہے چھوڑنا اندھیرا خلد ہوں آئیں تو برا کیا ہے
Akhtar Shirani
0 likes
لگ تمہارا حسن جواں رہا لگ ہمارا عشق جواں رہا لگ حقیقت جاناں رہے لگ حقیقت ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا لگ حقیقت باغ ہیں لگ گھٹائیں ہیں لگ حقیقت پھول ہیں لگ فضائیں ہیں لگ حقیقت نکہتیں لگ ہوائیں ہیں لگ حقیقت بے خو گرا کا سماں رہا لگ حقیقت دل ہے اب لگ جوانیاں لگ حقیقت کرنے والے کی اندھیرا لگ حقیقت غم لگ خوشی فشانی لگ حقیقت غزلوں کا نشان رہا لگ چمن ہے حقیقت لگ بہار ہے لگ حقیقت بلبلیں لگ ہزار ہے یہی چار سمت پکار ہے لگ حقیقت رت ہے اب لگ سماں رہا لگ حقیقت عمر ہے لگ مسرتیں لگ حقیقت عیش ہے لگ حقیقت عشرتیں لگ حقیقت آرزوئیں لگ حسرتیں لگ خوشی کا نام و نشاں رہا لگ نشان ہے ساقی و جام کا لگ حقیقت بادہ ہا چمن ادا لگ مغنیہ رہی محوساز لگ ساز مست فغاں رہا یہ بہار گلشن آب و گل ہے فنا اثر تو ہوں کیوں خجل حقیقت گل افسردہ ہے میرا دل کہ ہمیشہ نذر خزاں رہا نہیں دل پامال ساقیا لا بھی دے قدح بہار اٹھا بھی دے ابھی سن ہے لا کے پلا بھی دے کہ ہمیشہ کون جواں رہا ک ہوں کیا کہ رنج رسیدہ ہوں ہے وہ ہے وہ ب رنگ ابر رمیدہ ہوں نف سے شمیم پر
Akhtar Shirani
0 likes
لگ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے شراب پینے دے خا لگ خراب پینے دے ابھی سے اپنی نصیحت کا زہر دے لگ مجھے ابھی تو پینے دے اور بے حساب پینے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں چھلکتا ہوا گناہ ہے یہ تو ا سے گناہ کو بے احتساب پینے دے پھروں ایسا سمے ک ہاں ہم ک ہاں شراب ک ہاں طلسم دہر ہے نقش بر آب پینے دے مری دماغ کی دنیا کا آفتاب ہے یہ ملا کے برف ہے وہ ہے وہ یہ آفتاب پینے دے کسی حسی لگ کے بوسوں شراب آرز کے قابل اب لگ رہے تو ان لبوں سے ہمیشہ شراب پینے دے سمجھ کے ا سے کو غفور الرحیم پیتا ہوں لگ چھیڑ ذکر عذاب و ثواب پینے دے جو روح ہوں چکی اک بار داغ دار مری تو اور ہونے دے لیکن شراب پینے دے شراب خانے ہے وہ ہے وہ یہ شور کیوں مچایا ہے خاموش اختر خا لگ خراب پینے دے
Akhtar Shirani
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akhtar Shirani.
Similar Moods
More moods that pair well with Akhtar Shirani's ghazal.







