ghazalKuch Alfaaz

لگ تمہارا حسن جواں رہا لگ ہمارا عشق جواں رہا لگ حقیقت جاناں رہے لگ حقیقت ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا لگ حقیقت باغ ہیں لگ گھٹائیں ہیں لگ حقیقت پھول ہیں لگ فضائیں ہیں لگ حقیقت نکہتیں لگ ہوائیں ہیں لگ حقیقت بے خو گرا کا سماں رہا لگ حقیقت دل ہے اب لگ جوانیاں لگ حقیقت کرنے والے کی اندھیرا لگ حقیقت غم لگ خوشی فشانی لگ حقیقت غزلوں کا نشان رہا لگ چمن ہے حقیقت لگ بہار ہے لگ حقیقت بلبلیں لگ ہزار ہے یہی چار سمت پکار ہے لگ حقیقت رت ہے اب لگ سماں رہا لگ حقیقت عمر ہے لگ مسرتیں لگ حقیقت عیش ہے لگ حقیقت عشرتیں لگ حقیقت آرزوئیں لگ حسرتیں لگ خوشی کا نام و نشاں رہا لگ نشان ہے ساقی و جام کا لگ حقیقت بادہ ہا چمن ادا لگ مغنیہ رہی محوساز لگ ساز مست فغاں رہا یہ بہار گلشن آب و گل ہے فنا اثر تو ہوں کیوں خجل حقیقت گل افسردہ ہے میرا دل کہ ہمیشہ نذر خزاں رہا نہیں دل پامال ساقیا لا بھی دے قدح بہار اٹھا بھی دے ابھی سن ہے لا کے پلا بھی دے کہ ہمیشہ کون جواں رہا ک ہوں کیا کہ رنج رسیدہ ہوں ہے وہ ہے وہ ب رنگ ابر رمیدہ ہوں نف سے شمیم پر

Related Ghazal

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں

Tehzeeb Hafi

105 likes

More from Akhtar Shirani

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھروں ک ہاں زندگانی پھروں ک ہاں نادان جوانی پھروں ک ہاں دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانیے عمر فانی ہی صحیح یہ عمر فانی پھروں ک ہاں آ کہ ہم بھی اک ترا لگ جھوم کر گاتے چلیں ا سے چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھروں ک ہاں ہے زما لگ عشق سلمیٰ ہے وہ ہے وہ گنوا دے زندگی یہ زما لگ پھروں ک ہاں یہ زندگانی پھروں ک ہاں ایک ہی بستی ہے وہ ہے وہ ہیں آساں ہے ملنا آ ملو کیا خبر لے جائے دور آسمانی پھروں ک ہاں فصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہے یہ چمن یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھروں ک ہاں پھول چن جی کھول کر عیش و طرب کے پھول چن تہذیب پھروں ک ہاں فصل جاواں پھروں ک ہاں آخری رات آ گئی جی بھر کے مل لیں آج تو جاناں سے ملنے دےگا دور آسمانی پھروں ک ہاں آج آئی ہوں تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزل ور لگ اندھیرا پھروں ک ہاں یہ شیر خوانی پھروں ک ہاں

Akhtar Shirani

1 likes

غم زما لگ نہیں اک عذاب ہے ساقی شراب لا مری حالت خراب ہے ساقی شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی شراب لا مجھے پا سے شباب ہے ساقی اٹھا خواب کہ گلشن پہ پھروں برسنے لگی حقیقت مے کہ ج سے کا قدح ماہتاب ہے ساقی نکال پردہ مینا سے دختر رز کو گھٹا ہے وہ ہے وہ ک سے لیے یہ ماہتاب ہے ساقی تو واعظوں کی لگ سن مے کشوں کی خدمت کر گناہ ثواب کی خاطر ثواب ہے ساقی زمانے بھر کے غموں کو ہے دعوت غرہ کہ ایک جام ہے وہ ہے وہ سب کا جواب ہے ساقی چھوؤں گا ج سے کا ہے بشارت حافظ و خیام یہی حقیقت اختر خا لگ خراب ہے ساقی

Akhtar Shirani

0 likes

वो कहते हैं रंजिश की बातें भुला दें मोहब्बत करें ख़ुश रहें मुस्कुरा दें ग़ुरूर और हमारा ग़ुरूर-ए-मोहब्बत मह ओ मेहर को उन के दर पर झुका दें जवानी हो गर जावेदानी तो या रब तिरी सादा दुनिया को जन्नत बना दें शब-ए-वस्ल की बे-ख़ुदी छा रही है कहो तो सितारों की शमएँ बुझा दें बहारें सिमट आएँ खिल जाएँ कलियाँ जो हम तुम चमन में कभी मुस्कुरा दें इबादत है इक बे-ख़ुदी से इबारत हरम को मय-ए-मुश्क-बू से बसा दें वो आएँगे आज ऐ बहार-ए-मोहब्बत सितारों के बिस्तर पे कलियाँ बिछा दें बनाता है मुँह तल्ख़ी-ए-मय से ज़ाहिद तुझे बाग़-ए-रिज़वाँ से कौसर मँगा दें जिन्हें उम्र भर याद आना सिखाया वो दिल से तिरी याद क्यूँँकर भुला दें तुम अफ़्साना-ए-क़ैस क्या पूछते हो इधर आओ हम तुम को लैला बना दें ये बे-दर्दियाँ कब तक ऐ दर्द-ए-ग़ुर्बत बुतों को फिर अर्ज़-ए-हरम में बसा दें वो सरमस्तियाँ बख़्श ऐ रश्क-ए-शीरीं कि ख़ुसरू को ख़्वाब-ए-अदम से जगा दें तिरे वस्ल की बे-ख़ुदी कह रही है ख़ुदाई तो क्या हम ख़ुदा को भुला दें उन्हें अपनी सूरत पे यूँँ नाज़ कब था मिरे इश्क़-ए-रुस्वा को 'अख़्तर' दुआ दें

Akhtar Shirani

1 likes

یاد آؤ مجھے للہ لگ جاناں یاد کروں اپنی اور مری جوانی کو لگ برباد کروں شرم رونے بھی لگ دے بےکلی سونے بھی لگ دے ا سے طرح تو مری راتوں کو لگ برباد کروں حد ہے پینے کی کہ خود پیر مغاں کہتا ہے ا سے بری طرح جوانی کو لگ برباد کروں یاد آتے ہوں بے حد دل سے بھلانے والو جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یاد کروں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں یاد کروں آ سماں رتبہ محل اپنے بنانے والو دل کا اجڑا ہوا گھر بھی کوئی آباد کروں ہم کبھی آئیں تری گھر م گر آئیں گے ضرور جاناں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ نہیں یاد کروں چاندنی رات ہے وہ ہے وہ گل گشت کو جب جاتے تھے آہ ازرا کبھی ا سے سمے کو بھی یاد کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی شائستہ الطاف ستم ہوں شاید مری ہوتے ہوئے کیوں غیر پہ بیداد کروں صدقے ا سے شوخ کے اندھیرا یہ لکھا ہے ج سے نے عشق ہے وہ ہے وہ اپنی جوانی کو لگ برباد کروں

Akhtar Shirani

0 likes

یوں تو ک سے پھول سے رنگت لگ گئی وعدے لگ گئی اے محبت مری پہلو سے م گر تو لگ گئی مٹ چلے مری امیدوں کی طرح حرف م گر آج تک تری خطوں سے تری خوشبو لگ گئی کب بہاروں پہ تری رنگ کا سایہ لگ پڑا کب تری گیسوؤں کو باد سحر چھو لگ گئی تری گیسو معمبر کو کبھی چھیڑا تھا مری ہاتھوں سے ابھی تک تری خوشبو لگ گئی

Akhtar Shirani

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Akhtar Shirani.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Akhtar Shirani's ghazal.