یاد آؤ مجھے للہ لگ جاناں یاد کروں اپنی اور مری جوانی کو لگ برباد کروں شرم رونے بھی لگ دے بےکلی سونے بھی لگ دے ا سے طرح تو مری راتوں کو لگ برباد کروں حد ہے پینے کی کہ خود پیر مغاں کہتا ہے ا سے بری طرح جوانی کو لگ برباد کروں یاد آتے ہوں بے حد دل سے بھلانے والو جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یاد کروں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں یاد کروں آ سماں رتبہ محل اپنے بنانے والو دل کا اجڑا ہوا گھر بھی کوئی آباد کروں ہم کبھی آئیں تری گھر م گر آئیں گے ضرور جاناں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ نہیں یاد کروں چاندنی رات ہے وہ ہے وہ گل گشت کو جب جاتے تھے آہ ازرا کبھی ا سے سمے کو بھی یاد کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی شائستہ الطاف ستم ہوں شاید مری ہوتے ہوئے کیوں غیر پہ بیداد کروں صدقے ا سے شوخ کے اندھیرا یہ لکھا ہے ج سے نے عشق ہے وہ ہے وہ اپنی جوانی کو لگ برباد کروں
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Akhtar Shirani
वो कहते हैं रंजिश की बातें भुला दें मोहब्बत करें ख़ुश रहें मुस्कुरा दें ग़ुरूर और हमारा ग़ुरूर-ए-मोहब्बत मह ओ मेहर को उन के दर पर झुका दें जवानी हो गर जावेदानी तो या रब तिरी सादा दुनिया को जन्नत बना दें शब-ए-वस्ल की बे-ख़ुदी छा रही है कहो तो सितारों की शमएँ बुझा दें बहारें सिमट आएँ खिल जाएँ कलियाँ जो हम तुम चमन में कभी मुस्कुरा दें इबादत है इक बे-ख़ुदी से इबारत हरम को मय-ए-मुश्क-बू से बसा दें वो आएँगे आज ऐ बहार-ए-मोहब्बत सितारों के बिस्तर पे कलियाँ बिछा दें बनाता है मुँह तल्ख़ी-ए-मय से ज़ाहिद तुझे बाग़-ए-रिज़वाँ से कौसर मँगा दें जिन्हें उम्र भर याद आना सिखाया वो दिल से तिरी याद क्यूँँकर भुला दें तुम अफ़्साना-ए-क़ैस क्या पूछते हो इधर आओ हम तुम को लैला बना दें ये बे-दर्दियाँ कब तक ऐ दर्द-ए-ग़ुर्बत बुतों को फिर अर्ज़-ए-हरम में बसा दें वो सरमस्तियाँ बख़्श ऐ रश्क-ए-शीरीं कि ख़ुसरू को ख़्वाब-ए-अदम से जगा दें तिरे वस्ल की बे-ख़ुदी कह रही है ख़ुदाई तो क्या हम ख़ुदा को भुला दें उन्हें अपनी सूरत पे यूँँ नाज़ कब था मिरे इश्क़-ए-रुस्वा को 'अख़्तर' दुआ दें
Akhtar Shirani
1 likes
کام آ سکیں لگ اپنی وفائیں تو کیا کریں ا سے بےوفا کو بھول لگ جائیں تو کیا کریں مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں ہے وہ ہے وہ ہے اثر جائیں لگ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں اک دن کی بات ہوں تو اسے بھول جائیں ہم نازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں میسج بدوش ہے مری دنیا کرنے والے تاروں کی مشعل لگ چرائیں تو کیا کریں شب بھر تو ان کی یاد ہے وہ ہے وہ تارے گنا کیے تارے سے دن کو بھی نظر آئیں تو کیا کریں عہد طرب کی یاد ہے وہ ہے وہ رویا کیے بے حد اب مسکرا کے بھول لگ جائیں تو کیا کریں اب جی ہے وہ ہے وہ ہے کہ ان کو بھلا کر ہی دیکھ لیں حقیقت بار بار یاد جو آئیں تو کیا کریں وعدے کے اعتبار ہے وہ ہے وہ تسکین دل تو ہے اب پھروں وہی فریب لگ کھائیں تو کیا کریں ترک وفا بھی جرم محبت صحیح م گر ملنے لگیں وفا کی سزائیں تو کیا کریں
Akhtar Shirani
0 likes
غم زما لگ نہیں اک عذاب ہے ساقی شراب لا مری حالت خراب ہے ساقی شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی شراب لا مجھے پا سے شباب ہے ساقی اٹھا خواب کہ گلشن پہ پھروں برسنے لگی حقیقت مے کہ ج سے کا قدح ماہتاب ہے ساقی نکال پردہ مینا سے دختر رز کو گھٹا ہے وہ ہے وہ ک سے لیے یہ ماہتاب ہے ساقی تو واعظوں کی لگ سن مے کشوں کی خدمت کر گناہ ثواب کی خاطر ثواب ہے ساقی زمانے بھر کے غموں کو ہے دعوت غرہ کہ ایک جام ہے وہ ہے وہ سب کا جواب ہے ساقی چھوؤں گا ج سے کا ہے بشارت حافظ و خیام یہی حقیقت اختر خا لگ خراب ہے ساقی
Akhtar Shirani
0 likes
لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھروں ک ہاں زندگانی پھروں ک ہاں نادان جوانی پھروں ک ہاں دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانیے عمر فانی ہی صحیح یہ عمر فانی پھروں ک ہاں آ کہ ہم بھی اک ترا لگ جھوم کر گاتے چلیں ا سے چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھروں ک ہاں ہے زما لگ عشق سلمیٰ ہے وہ ہے وہ گنوا دے زندگی یہ زما لگ پھروں ک ہاں یہ زندگانی پھروں ک ہاں ایک ہی بستی ہے وہ ہے وہ ہیں آساں ہے ملنا آ ملو کیا خبر لے جائے دور آسمانی پھروں ک ہاں فصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہے یہ چمن یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھروں ک ہاں پھول چن جی کھول کر عیش و طرب کے پھول چن تہذیب پھروں ک ہاں فصل جاواں پھروں ک ہاں آخری رات آ گئی جی بھر کے مل لیں آج تو جاناں سے ملنے دےگا دور آسمانی پھروں ک ہاں آج آئی ہوں تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزل ور لگ اندھیرا پھروں ک ہاں یہ شیر خوانی پھروں ک ہاں
Akhtar Shirani
1 likes
زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئی الہی اب تو اڑائے جائے اور بہار آئی ستم ظریفی فطرت یہ کیا معمہ ہے کہ ج سے کلی کو بھی سونگھوں بو یار ہے وہ ہے وہ آمادہ تبسم آئی چمن کی ہر کلی آغوش عشق ہے بہار بن کے مری جان نو بہار آئی ہیں تش لگ کام ہم ان بادلوں سے پوچھے کوئی ک ہاں بہار کی پریوں کے تخت اتار آئی تری خیال کی بے تا بیاں معاذ اللہ کہ ایک بار بھلائیں تو لاکھ بار آئی حقیقت آئیں یوں مری خواب بے قرار ہے وہ ہے وہ اندھیرا کہ چنو آنکھوں ہے وہ ہے وہ اک صبح خزاں آئی
Akhtar Shirani
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akhtar Shirani.
Similar Moods
More moods that pair well with Akhtar Shirani's ghazal.







