ghazalKuch Alfaaz

غم زما لگ نہیں اک عذاب ہے ساقی شراب لا مری حالت خراب ہے ساقی شباب کے لیے توبہ عذاب ہے ساقی شراب لا مجھے پا سے شباب ہے ساقی اٹھا خواب کہ گلشن پہ پھروں برسنے لگی حقیقت مے کہ ج سے کا قدح ماہتاب ہے ساقی نکال پردہ مینا سے دختر رز کو گھٹا ہے وہ ہے وہ ک سے لیے یہ ماہتاب ہے ساقی تو واعظوں کی لگ سن مے کشوں کی خدمت کر گناہ ثواب کی خاطر ثواب ہے ساقی زمانے بھر کے غموں کو ہے دعوت غرہ کہ ایک جام ہے وہ ہے وہ سب کا جواب ہے ساقی چھوؤں گا ج سے کا ہے بشارت حافظ و خیام یہی حقیقت اختر خا لگ خراب ہے ساقی

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Akhtar Shirani

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھروں ک ہاں زندگانی پھروں ک ہاں نادان جوانی پھروں ک ہاں دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانیے عمر فانی ہی صحیح یہ عمر فانی پھروں ک ہاں آ کہ ہم بھی اک ترا لگ جھوم کر گاتے چلیں ا سے چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھروں ک ہاں ہے زما لگ عشق سلمیٰ ہے وہ ہے وہ گنوا دے زندگی یہ زما لگ پھروں ک ہاں یہ زندگانی پھروں ک ہاں ایک ہی بستی ہے وہ ہے وہ ہیں آساں ہے ملنا آ ملو کیا خبر لے جائے دور آسمانی پھروں ک ہاں فصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہے یہ چمن یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھروں ک ہاں پھول چن جی کھول کر عیش و طرب کے پھول چن تہذیب پھروں ک ہاں فصل جاواں پھروں ک ہاں آخری رات آ گئی جی بھر کے مل لیں آج تو جاناں سے ملنے دےگا دور آسمانی پھروں ک ہاں آج آئی ہوں تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزل ور لگ اندھیرا پھروں ک ہاں یہ شیر خوانی پھروں ک ہاں

Akhtar Shirani

1 likes

کام آ سکیں لگ اپنی وفائیں تو کیا کریں ا سے بےوفا کو بھول لگ جائیں تو کیا کریں مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں ہے وہ ہے وہ ہے اثر جائیں لگ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں اک دن کی بات ہوں تو اسے بھول جائیں ہم نازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں میسج بدوش ہے مری دنیا کرنے والے تاروں کی مشعل لگ چرائیں تو کیا کریں شب بھر تو ان کی یاد ہے وہ ہے وہ تارے گنا کیے تارے سے دن کو بھی نظر آئیں تو کیا کریں عہد طرب کی یاد ہے وہ ہے وہ رویا کیے بے حد اب مسکرا کے بھول لگ جائیں تو کیا کریں اب جی ہے وہ ہے وہ ہے کہ ان کو بھلا کر ہی دیکھ لیں حقیقت بار بار یاد جو آئیں تو کیا کریں وعدے کے اعتبار ہے وہ ہے وہ تسکین دل تو ہے اب پھروں وہی فریب لگ کھائیں تو کیا کریں ترک وفا بھی جرم محبت صحیح م گر ملنے لگیں وفا کی سزائیں تو کیا کریں

Akhtar Shirani

0 likes

वो कहते हैं रंजिश की बातें भुला दें मोहब्बत करें ख़ुश रहें मुस्कुरा दें ग़ुरूर और हमारा ग़ुरूर-ए-मोहब्बत मह ओ मेहर को उन के दर पर झुका दें जवानी हो गर जावेदानी तो या रब तिरी सादा दुनिया को जन्नत बना दें शब-ए-वस्ल की बे-ख़ुदी छा रही है कहो तो सितारों की शमएँ बुझा दें बहारें सिमट आएँ खिल जाएँ कलियाँ जो हम तुम चमन में कभी मुस्कुरा दें इबादत है इक बे-ख़ुदी से इबारत हरम को मय-ए-मुश्क-बू से बसा दें वो आएँगे आज ऐ बहार-ए-मोहब्बत सितारों के बिस्तर पे कलियाँ बिछा दें बनाता है मुँह तल्ख़ी-ए-मय से ज़ाहिद तुझे बाग़-ए-रिज़वाँ से कौसर मँगा दें जिन्हें उम्र भर याद आना सिखाया वो दिल से तिरी याद क्यूँँकर भुला दें तुम अफ़्साना-ए-क़ैस क्या पूछते हो इधर आओ हम तुम को लैला बना दें ये बे-दर्दियाँ कब तक ऐ दर्द-ए-ग़ुर्बत बुतों को फिर अर्ज़-ए-हरम में बसा दें वो सरमस्तियाँ बख़्श ऐ रश्क-ए-शीरीं कि ख़ुसरू को ख़्वाब-ए-अदम से जगा दें तिरे वस्ल की बे-ख़ुदी कह रही है ख़ुदाई तो क्या हम ख़ुदा को भुला दें उन्हें अपनी सूरत पे यूँँ नाज़ कब था मिरे इश्क़-ए-रुस्वा को 'अख़्तर' दुआ दें

Akhtar Shirani

1 likes

لگ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے شراب پینے دے خا لگ خراب پینے دے ابھی سے اپنی نصیحت کا زہر دے لگ مجھے ابھی تو پینے دے اور بے حساب پینے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں چھلکتا ہوا گناہ ہے یہ تو ا سے گناہ کو بے احتساب پینے دے پھروں ایسا سمے ک ہاں ہم ک ہاں شراب ک ہاں طلسم دہر ہے نقش بر آب پینے دے مری دماغ کی دنیا کا آفتاب ہے یہ ملا کے برف ہے وہ ہے وہ یہ آفتاب پینے دے کسی حسی لگ کے بوسوں شراب آرز کے قابل اب لگ رہے تو ان لبوں سے ہمیشہ شراب پینے دے سمجھ کے ا سے کو غفور الرحیم پیتا ہوں لگ چھیڑ ذکر عذاب و ثواب پینے دے جو روح ہوں چکی اک بار داغ دار مری تو اور ہونے دے لیکن شراب پینے دے شراب خانے ہے وہ ہے وہ یہ شور کیوں مچایا ہے خاموش اختر خا لگ خراب پینے دے

Akhtar Shirani

0 likes

لگ تمہارا حسن جواں رہا لگ ہمارا عشق جواں رہا لگ حقیقت جاناں رہے لگ حقیقت ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا لگ حقیقت باغ ہیں لگ گھٹائیں ہیں لگ حقیقت پھول ہیں لگ فضائیں ہیں لگ حقیقت نکہتیں لگ ہوائیں ہیں لگ حقیقت بے خو گرا کا سماں رہا لگ حقیقت دل ہے اب لگ جوانیاں لگ حقیقت کرنے والے کی اندھیرا لگ حقیقت غم لگ خوشی فشانی لگ حقیقت غزلوں کا نشان رہا لگ چمن ہے حقیقت لگ بہار ہے لگ حقیقت بلبلیں لگ ہزار ہے یہی چار سمت پکار ہے لگ حقیقت رت ہے اب لگ سماں رہا لگ حقیقت عمر ہے لگ مسرتیں لگ حقیقت عیش ہے لگ حقیقت عشرتیں لگ حقیقت آرزوئیں لگ حسرتیں لگ خوشی کا نام و نشاں رہا لگ نشان ہے ساقی و جام کا لگ حقیقت بادہ ہا چمن ادا لگ مغنیہ رہی محوساز لگ ساز مست فغاں رہا یہ بہار گلشن آب و گل ہے فنا اثر تو ہوں کیوں خجل حقیقت گل افسردہ ہے میرا دل کہ ہمیشہ نذر خزاں رہا نہیں دل پامال ساقیا لا بھی دے قدح بہار اٹھا بھی دے ابھی سن ہے لا کے پلا بھی دے کہ ہمیشہ کون جواں رہا ک ہوں کیا کہ رنج رسیدہ ہوں ہے وہ ہے وہ ب رنگ ابر رمیدہ ہوں نف سے شمیم پر

Akhtar Shirani

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Akhtar Shirani.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Akhtar Shirani's ghazal.