یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم بچ کر چلے ہمیشہ م گر قافلوں سے ہم ہونے کو پھروں شکار نئی الجھنوں سے ہم ملتے ہیں روز اپنے کئی دوستوں سے ہم برسوں فریب کھاتے رہے دوسروں سے ہم اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ آئی بڑی مشکلوں سے ہم منزل کی ہے طلب تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساتھ لے چلو واقف ہیں خوب راہ کی باری کیوں سے ہم جن کے پروں پہ صبح کی خوشبو کے رنگ ہیں بچپن ادھار لائے ہیں ان تتلیوں سے ہم کچھ تو ہمارے بیچ کبھی دوریاں بھی ہوں تنگ آ گئے ہیں روز کی نز گرا کیوں سے ہم گزریں ہمارے گھر کی کسی رہگزر سے حقیقت پردے ہٹائیں دیکھیں ا نہیں کھڑ کیوں سے ہم جب بھی کہا کہ یاد ہماری ک ہاں ا نہیں پکڑے گئے ہیں ٹھیک تبھی ہچ کیوں سے ہم
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو
Tehzeeb Hafi
203 likes
More from Aalok Shrivastav
یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم بچ کر چلے ہمیشہ م گر قافلوں سے ہم ہونے کو پھروں شکار نئی الجھنوں سے ہم ملتے ہیں روز اپنے کئی دوستوں سے ہم برسوں فریب کھاتے رہے دوسروں سے ہم اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ آئی بڑی مشکلوں سے ہم منزل کی ہے طلب تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساتھ لے چلو واقف ہیں خوب راہ کی باری کیوں سے ہم جن کے پروں پہ صبح کی خوشبو کے رنگ ہیں بچپن ادھار لائے ہیں ان تتلیوں سے ہم کچھ تو ہمارے بیچ کبھی دوریاں بھی ہوں تنگ آ گئے ہیں روز کی نز گرا کیوں سے ہم گزریں ہمارے گھر کی کسی رہگزر سے حقیقت پردے ہٹائیں دیکھیں ا نہیں کھڑ کیوں سے ہم جب بھی کہا کہ یاد ہماری ک ہاں ا نہیں پکڑے گئے ہیں ٹھیک تبھی ہچ کیوں سے ہم
Aalok Shrivastav
5 likes
ا گر سفر ہے وہ ہے وہ مری ساتھ میرا یار چلے بے پیرہن کرتا ہوا موسم بہار چلے لگا کے سمے کو ٹھوکر جو خاکسار چلے یقین کے بندھو ہمراہ بے شمار چلے نوازنا ہے تو پھروں ا سے طرح نواز مجھے کہ مری بعد میرا ذکر بار بار چلے یہ جسم کیا ہے کوئی پیرہن ادھار کا ہے یہیں سنبھال کے پہنا یہیں اتار چلے یہ نڈھال سے بھرا آ سماں ج ہاں تک ہے و ہاں تلک تری دی کا اقتدار چلے یہی تو ایک تمنا ہے ا سے مسافر کی جو جاناں نہیں تو سفر ہے وہ ہے وہ تمہارا پیار چلے
Aalok Shrivastav
8 likes
ठीक हुआ जो बिक गए सैनिक मुट्ठी भर दीनारों में वैसे भी तो ज़ंग लगा था पुश्तैनी हथियारों में सर्द नसों में चलते चलते गर्म लहू जब बर्फ़ हुआ चार पड़ोसी जिस्म उठा कर झोंक आए अंगारों में खेतों को मुट्ठी में भरना अब तक सीख नहीं पाया यूँँ तो मेरा जीवन बीता सामंती अय्यारों में कैसे उस के चाल-चलन में अंग्रेज़ी अंदाज़ न हो आख़िर उस ने साँसें लीं हैं पच्छिम के दरबारों में नज़दीकी अक्सर दूरी का कारन भी बन जाती है सोच-समझ कर घुलना-मिलना अपने रिश्ते-दारों में चाँद अगर पूरा चमके तो उस के दाग़ खटकते हैं एक न एक बुराई तय है सारे इज़्ज़त-दारों में
Aalok Shrivastav
1 likes
گھر کی امنگوں دیواریں بام و در تھے بابو جی سب کو باندھ کے رکھنے والا خاص ہنر تھے بابو جی تین محلوں ہے وہ ہے وہ ان جیسی قد کاٹھی کا کوئی لگ تھا اچھے خاصے اونچے ملائے گا قد آور تھے بابو جی اب تو ا سے سونے ماتھے پر کورے پن کی چادر ہے اماں جی کی ساری سج دھج سب زیور تھے بابو جی بھیتر سے خالص جذباتی اور اوپر سے ٹھٹھ پتا ا پیش انوٹھا انبوجھا سا اک تیور تھے بابو جی کبھی بڑا سا ہاتھ خرچ تھے کبھی ہتھیلی کی سوجن مری من کا آدھا ساح سے آدھا ڈر تھے بابو جی
Aalok Shrivastav
2 likes
وہی آنگن وہی کھڑکی وہی در یاد آتا ہے اکیلا جب بھی ہوتا ہوں مجھے گھر یاد آتا ہے مری بے ساختہ ہچکی مجھے کھل کر بتاتی ہے تری اپنوں کو گاؤں ہے وہ ہے وہ تو 9 یاد آتا ہے جو اپنے پا سے ہوں ان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہمارے بھائی کو ہی لو بچھڑ کر یاد آتا ہے مئی کے سفر ہے وہ ہے وہ تو کہاں فرصت کہ کچھ سوچیں مگر جب چوٹ لگتی ہے مقدر یاد آتا ہے جون اور نومبر کی گرمی بدن سے جب ٹپکتی ہے تیرتی یاد آتا ہے دسمبر یاد آتا ہے
Aalok Shrivastav
8 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Aalok Shrivastav.
Similar Moods
More moods that pair well with Aalok Shrivastav's ghazal.







