ghazalKuch Alfaaz

گھر کی امنگوں دیواریں بام و در تھے بابو جی سب کو باندھ کے رکھنے والا خاص ہنر تھے بابو جی تین محلوں ہے وہ ہے وہ ان جیسی قد کاٹھی کا کوئی لگ تھا اچھے خاصے اونچے ملائے گا قد آور تھے بابو جی اب تو ا سے سونے ماتھے پر کورے پن کی چادر ہے اماں جی کی ساری سج دھج سب زیور تھے بابو جی بھیتر سے خالص جذباتی اور اوپر سے ٹھٹھ پتا ا پیش انوٹھا انبوجھا سا اک تیور تھے بابو جی کبھی بڑا سا ہاتھ خرچ تھے کبھی ہتھیلی کی سوجن مری من کا آدھا ساح سے آدھا ڈر تھے بابو جی

Related Ghazal

شام تک صبح کی دی سے اتر جاتے ہیں اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں پھروں وہی تلخی حالات مقدر ٹھہری نہشے کیسے بھی ہوں کچھ دن ہے وہ ہے وہ اتر جاتے ہیں اک جدائی کا حقیقت لمحہ کہ جو مرتا ہی نہیں لوگ کہتے تھے کہ سب سمے گزر جاتے ہیں گھر کی گرتی ہوئی دیواریں ہی مجھ سے اچھی راستہ چلتے ہوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں ہم تو بے نام ارادوں کے مسافر ہیں مسئلہ کچھ پتا ہوں تو بتائیں کہ کدھر جاتے ہیں

Waseem Barelvi

9 likes

اپنے ہاتھوں کی لکیروں ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں گر پھول تو جوڑے ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار لگ ڈالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر بھی ہوں اندھیرا بھی ہوں غوطہ زن بھی کوئی بھی نام میرا لے کے بلا لے مجھ کو تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی خود پرستی ہے وہ ہے وہ کہی تو لگ گنوا لے مجھ کو باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو خود کو ہے وہ ہے وہ بانٹ لگ ڈالوں کہی دامن دامن کر دیا تو نے ا گر مری حوالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلے در کے کسی گھر کا ہوں سامان پیاری تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو کل کی بات اور ہے ہے وہ ہے وہ اب سا ر ہوں یا لگ ر ہوں جتنا جی چاہے ترا آج ستاتا لے مجھ کو وعدہ پھروں وعد

Qateel Shifai

6 likes

حیران ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں چھوڑا نہ رشک نے کہ تری گھر کا نام لوں ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار اے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو میں ہے کیا جو کس کے باندھیے میری بلا ڈرے کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر تراش کو میں لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں پھروں بے خودی میں بھول گیا راہ کو یار جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا سمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں غالب خدا کرے کہ سوار سمند ناز دیکھوں علی بہادر عالی گوہر کو میں

Mirza Ghalib

3 likes

تجھ سے وابستہ کوئی غم نہیں رکھنے والے ج سے کو رکھنا ہوں رکھے ہم نہیں رکھنے والے اپنے الجھ ہوئے بالوں کی قسم ہم ا سے بار تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ کوئی خم نہیں رکھنے والے ایک حوا کی محبت کے سوا سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کچھ حضرت عدم نہیں رکھنے والے

Abhishek shukla

2 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Aalok Shrivastav

ठीक हुआ जो बिक गए सैनिक मुट्ठी भर दीनारों में वैसे भी तो ज़ंग लगा था पुश्तैनी हथियारों में सर्द नसों में चलते चलते गर्म लहू जब बर्फ़ हुआ चार पड़ोसी जिस्म उठा कर झोंक आए अंगारों में खेतों को मुट्ठी में भरना अब तक सीख नहीं पाया यूँँ तो मेरा जीवन बीता सामंती अय्यारों में कैसे उस के चाल-चलन में अंग्रेज़ी अंदाज़ न हो आख़िर उस ने साँसें लीं हैं पच्छिम के दरबारों में नज़दीकी अक्सर दूरी का कारन भी बन जाती है सोच-समझ कर घुलना-मिलना अपने रिश्ते-दारों में चाँद अगर पूरा चमके तो उस के दाग़ खटकते हैं एक न एक बुराई तय है सारे इज़्ज़त-दारों में

Aalok Shrivastav

1 likes

تو وفا کر کے بھول جا مجھ کو اب ذرا یوں بھی آزما مجھ کو یہ زما لگ برا نہیں ہے م گر اپنی دی سے دیکھنا مجھ کو بے صدا کاغذوں ہے وہ ہے وہ آگ لگا آج کی رات گنگنا مجھ کو تجھ کو ک سے ک سے ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا آخر تو بھی ک سے ک سے سے مانگتا مجھ کو اب کسی اور کا پجاری ہے ج سے نے مانا تھا دیوتا مجھ کو

Aalok Shrivastav

3 likes

یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم بچ کر چلے ہمیشہ م گر قافلوں سے ہم ہونے کو پھروں شکار نئی الجھنوں سے ہم ملتے ہیں روز اپنے کئی دوستوں سے ہم برسوں فریب کھاتے رہے دوسروں سے ہم اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ آئی بڑی مشکلوں سے ہم منزل کی ہے طلب تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساتھ لے چلو واقف ہیں خوب راہ کی باری کیوں سے ہم جن کے پروں پہ صبح کی خوشبو کے رنگ ہیں بچپن ادھار لائے ہیں ان تتلیوں سے ہم کچھ تو ہمارے بیچ کبھی دوریاں بھی ہوں تنگ آ گئے ہیں روز کی نز گرا کیوں سے ہم گزریں ہمارے گھر کی کسی رہگزر سے حقیقت پردے ہٹائیں دیکھیں ا نہیں کھڑ کیوں سے ہم جب بھی کہا کہ یاد ہماری ک ہاں ا نہیں پکڑے گئے ہیں ٹھیک تبھی ہچ کیوں سے ہم

Aalok Shrivastav

5 likes

کسی اور نے تو بنا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں تری آ سماں سے جدا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں یہ زمین مری زمین ہے یہ جہان میرا جہان ہے کسی دوسرے سے ملا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں کہی دھوپ ہے کہی چاندنی کہی رنگ ہے کہی روشنی کہی آنسوؤں سے دھلا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں اسے چھو سکون یہ جنون ہے مری روح کو یہ سکون ہے ی ہاں کب کسی کا ہوا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں گریں بجلیاں مری راہ پر کئی آندھیاں بھی چلیں م گر کبھی بادلوں سا جھکا نہیں میرا آ سماں میرا آ سماں

Aalok Shrivastav

1 likes

हमेशा ज़िंदगी की हर कमी को जीते रहते हैं जिसे हम जी नहीं पाए उसी को जीते रहते हैं हमारे दुख की बारिश को कोई दामन नहीं मिलता हमारी आँख के बादल नमी को जीते रहते हैं किसी के साथ हैं रस्में किसी के साथ हैं क़स में किसी के साथ जीना है किसी को जीते रहते हैं हमें मा'लूम है इक दिन भरोसा टूट जाएगा मगर फिर भी सराबों में नदी को जीते रहते हैं हमारे साथ चलती है तुम्हारे प्यार की ख़ुशबू लगाई थी जो तुम ने उस लगी को जीते रहते हैं चहकते घर महकते खेत और वो गाँव की गलियाँ जिन्हें हम छोड़ आए उन सभी को जीते रहते है ख़ुदा के नाम-लेवा हम भी हैं तुम भी हो और वो भी मगर अफ़सोस सब अपनी ख़ुदी को जीते रहते हैं

Aalok Shrivastav

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aalok Shrivastav.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aalok Shrivastav's ghazal.