ghazalKuch Alfaaz

یہ صد رنگی افلاک جو رہتے ہیں بے زبان پڑے اشارہ کر دیں تو سورج ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ آن پڑے سکوت زیست کو آمادہ بغاوت کر لہو اچھال کہ کچھ زندگی ہے وہ ہے وہ جان پڑے ہمارے شہر کی بینائیوں پہ روتے ہیں تمام شہر کے منظر لہو لہان پڑے اٹھے ہیں ہاتھ مری حرمت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے لیے مزہ جب آئی کہ اب پاؤں آسمان پڑے کسی مکین کی آمد کے انتظار ہے وہ ہے وہ ہیں مری باندی ہے وہ ہے وہ خالی کئی مکان پڑے

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

More from Rahat Indori

شجر ہیں اب ثمر آثار مری چلے آتے ہیں دعویدار مری مہاجر ہیں لگ اب انصار مری مخالف ہیں بے حد ا سے بار مری ی ہاں اک بوند کا محتاج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر ہیں سمندر پار مری ابھی مردوں ہے وہ ہے وہ روحیں پھونک ڈالیں ا گر چاہیں تو یہ بیمار مری ہوائیں اوڑھ کر سویا تھا دشمن گئے بیکار سارے وار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ کر دشمنوں ہے وہ ہے وہ ب سے گیا تو ہوں ی ہاں ہمدرد ہیں دو چار مری ہنسی ہے وہ ہے وہ ٹال دینا تھا مجھے بھی غلطیاں کیوں ہوں گئے سرکار مری تصور ہے وہ ہے وہ لگ جانے کون آیا مہک اٹھے در و دیوار مری تمہارا نام دنیا جانتی ہے بے حد رسوا ہیں اب اشعار مری بھنور ہے وہ ہے وہ رک گئی ہے ناو مری کنارے رہ گئے ا سے پار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں ابھی سوئے ہیں پہرے دار مری

Rahat Indori

4 likes

فیصلے لمحات کے جالے پہ بھاری ہوں گئے باپ حاکم تھا م گر بیٹے بھکاری ہوں گئے دیویان پہنچیں تھیں اپنے بال بکھرائے ہوئے دیوتا مندیر سے نکلے اور پجاری ہوں گئے روشنی کی جنگ ہے وہ ہے وہ تاریکیاں پیدا ہوئیں چاند پاگل ہوں گیا تو تارے بھکاری ہوں گئے رکھ دیے جائیں گے نیزے لفظ اور ہونٹوں کے بیچ ظل سبحانی کے احکامات جاری ہوں گئے نرم و چھوؤں گا ہلکے پھلکے روئی چنو خواب تھے آنسوؤں ہے وہ ہے وہ بھیگنے کے بعد بھاری ہوں گئے

Rahat Indori

2 likes

اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے راہ ہے وہ ہے وہ تیرگی ہوں گی مری آنسو رکھ لے تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے حقیقت کوئی جسم نہیں ہے کہ اسے چھو بھی سکیں ہاں ا گر نام ہی رکھنا ہے تو خوشبو رکھ لے تجھ کو اندیکھی بلن گرا ہے وہ ہے وہ سفر کرنا ہے احتیاطاً مری ہمت مری بازو رکھ لے مری خواہش ہے کہ آنگن ہے وہ ہے وہ لگ دیوار اٹھے مری بھائی مری حصے کی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رکھ لے

Rahat Indori

0 likes

अपने दीवार-ओ-दर से पूछते हैं घर के हालात घर से पूछते हैं क्यूँँ अकेले हैं क़ाफ़िले वाले एक इक हम-सफ़र से पूछते हैं क्या कभी ज़िंदगी भी देखेंगे बस यही उम्र-भर से पूछते हैं जुर्म है ख़्वाब देखना भी क्या रात-भर चश्म-ए-तर से पूछते हैं ये मुलाक़ात आख़िरी तो नहीं हम जुदाई के डर से पूछते हैं ज़ख़्म का नाम फूल कैसे पड़ा तेरे दस्त-ए-हुनर से पूछते हैं कितने जंगल हैं इन मकानों में बस यही शहर भर से पूछते हैं ये जो दीवार है ये किस की है हम इधर वो उधर से पूछते हैं हैं कनीज़ें भी इस महल में क्या शाह-ज़ादों के डर से पूछते हैं क्या कहीं क़त्ल हो गया सूरज रात से रात-भर से पूछते हैं कौन वारिस है छाँव का आख़िर धूप में हम-सफ़र से पूछते हैं ये किनारे भी कितने सादा हैं कश्तियों को भँवर से पूछते हैं वो गुज़रता तो होगा अब तन्हा एक इक रहगुज़र से पूछते हैं

Rahat Indori

1 likes

محبتوں کے سفر پر نکل کے دیکھوں گا یہ پل صراط ا گر ہے تو چل کے دیکھوں گا سوال یہ ہے کہ رفتار ک سے کی کتنی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آفتاب سے آگے نکل کے دیکھوں گا مزاق اچھا رہے گا یہ چاند تاروں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج شام سے پہلے ہی ڈھل کے دیکھوں گا حقیقت مری حکم کو پڑنا جان لیتا ہے ا گر یہ سچ ہے تو لہجہ بدل کے دیکھوں گا اجالے بانٹنے والوں پہ کیا گزرتی ہے کسی چراغ کی مانند جل کے دیکھوں گا غضب نہیں کہ وہی روشنی مجھ مل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر سے کسی دن نکل کے دیکھوں گا

Rahat Indori

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rahat Indori.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.