ghazalKuch Alfaaz

یہ سوچنا غلط ہے کہ جاناں پر نظر نہیں مصروف ہم بے حد ہیں م گر بے خبر نہیں اب تو خود اپنے خون نے بھی صاف کہ دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آپ کا ر ہوں گا م گر عمر بھر نہیں آ ہی گئے ہیں خواب تو پھروں جائیں گے ک ہاں آنکھوں سے آگے ان کی کوئی رہگزر نہیں کتنا جیئیں ک ہاں سے جیئیں اور ک سے لیے یہ اختیار ہم پہ ہے تقدیر پر نہیں ماضی کی راکھ الٹیں تو چنگاریاں ملیں بے شک کسی کو چاہو م گر ا سے دودمان نہیں

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

More from Aalok Shrivastav

گھر کی امنگوں دیواریں بام و در تھے بابو جی سب کو باندھ کے رکھنے والا خاص ہنر تھے بابو جی تین محلوں ہے وہ ہے وہ ان جیسی قد کاٹھی کا کوئی لگ تھا اچھے خاصے اونچے ملائے گا قد آور تھے بابو جی اب تو ا سے سونے ماتھے پر کورے پن کی چادر ہے اماں جی کی ساری سج دھج سب زیور تھے بابو جی بھیتر سے خالص جذباتی اور اوپر سے ٹھٹھ پتا ا پیش انوٹھا انبوجھا سا اک تیور تھے بابو جی کبھی بڑا سا ہاتھ خرچ تھے کبھی ہتھیلی کی سوجن مری من کا آدھا ساح سے آدھا ڈر تھے بابو جی

Aalok Shrivastav

2 likes

یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہم بچ کر چلے ہمیشہ م گر قافلوں سے ہم ہونے کو پھروں شکار نئی الجھنوں سے ہم ملتے ہیں روز اپنے کئی دوستوں سے ہم برسوں فریب کھاتے رہے دوسروں سے ہم اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ آئی بڑی مشکلوں سے ہم منزل کی ہے طلب تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساتھ لے چلو واقف ہیں خوب راہ کی باری کیوں سے ہم جن کے پروں پہ صبح کی خوشبو کے رنگ ہیں بچپن ادھار لائے ہیں ان تتلیوں سے ہم کچھ تو ہمارے بیچ کبھی دوریاں بھی ہوں تنگ آ گئے ہیں روز کی نز گرا کیوں سے ہم گزریں ہمارے گھر کی کسی رہگزر سے حقیقت پردے ہٹائیں دیکھیں ا نہیں کھڑ کیوں سے ہم جب بھی کہا کہ یاد ہماری ک ہاں ا نہیں پکڑے گئے ہیں ٹھیک تبھی ہچ کیوں سے ہم

Aalok Shrivastav

5 likes

ا گر سفر ہے وہ ہے وہ مری ساتھ میرا یار چلے بے پیرہن کرتا ہوا موسم بہار چلے لگا کے سمے کو ٹھوکر جو خاکسار چلے یقین کے بندھو ہمراہ بے شمار چلے نوازنا ہے تو پھروں ا سے طرح نواز مجھے کہ مری بعد میرا ذکر بار بار چلے یہ جسم کیا ہے کوئی پیرہن ادھار کا ہے یہیں سنبھال کے پہنا یہیں اتار چلے یہ نڈھال سے بھرا آ سماں ج ہاں تک ہے و ہاں تلک تری دی کا اقتدار چلے یہی تو ایک تمنا ہے ا سے مسافر کی جو جاناں نہیں تو سفر ہے وہ ہے وہ تمہارا پیار چلے

Aalok Shrivastav

8 likes

हमेशा ज़िंदगी की हर कमी को जीते रहते हैं जिसे हम जी नहीं पाए उसी को जीते रहते हैं हमारे दुख की बारिश को कोई दामन नहीं मिलता हमारी आँख के बादल नमी को जीते रहते हैं किसी के साथ हैं रस्में किसी के साथ हैं क़स में किसी के साथ जीना है किसी को जीते रहते हैं हमें मा'लूम है इक दिन भरोसा टूट जाएगा मगर फिर भी सराबों में नदी को जीते रहते हैं हमारे साथ चलती है तुम्हारे प्यार की ख़ुशबू लगाई थी जो तुम ने उस लगी को जीते रहते हैं चहकते घर महकते खेत और वो गाँव की गलियाँ जिन्हें हम छोड़ आए उन सभी को जीते रहते है ख़ुदा के नाम-लेवा हम भी हैं तुम भी हो और वो भी मगर अफ़सोस सब अपनी ख़ुदी को जीते रहते हैं

Aalok Shrivastav

4 likes

تو وفا کر کے بھول جا مجھ کو اب ذرا یوں بھی آزما مجھ کو یہ زما لگ برا نہیں ہے م گر اپنی دی سے دیکھنا مجھ کو بے صدا کاغذوں ہے وہ ہے وہ آگ لگا آج کی رات گنگنا مجھ کو تجھ کو ک سے ک سے ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا آخر تو بھی ک سے ک سے سے مانگتا مجھ کو اب کسی اور کا پجاری ہے ج سے نے مانا تھا دیوتا مجھ کو

Aalok Shrivastav

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aalok Shrivastav.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aalok Shrivastav's ghazal.