یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ سایۂ چشم میں حیراں رخ روشن کا جمال سرخیٔ لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب شیشۂ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ اک سخن اور کہ پھر رنگ تکلم تیرا حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
جاناں ثروت کو پڑھتی ہوں کتنی اچھی لڑکی ہوں بات نہیں سنتی ہوں کیوں غزلیں بھی تو سنتی ہوں کیا رشتہ ہے شاموں سے سورج کی کیا لگتی ہوں لوگ نہیں ڈرتے رب سے جاناں لوگوں سے ڈرتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جیتا ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کیوں مجھ پہ مرتی ہوں آدم اور سدھر جائے جاناں بھی حد ہی کرتی ہوں ک سے نے جینز کری ممنوع پہنو اچھی لگتی ہوں
Ali Zaryoun
48 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
دربار ہے وہ ہے وہ اب سطوت شاہی کی علامت دربان کا اسا ہے کہ مصنف کا ہے آوارہ ہے پھروں کوہ ندا پر جو ناروا تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے ج سے دھجی کو گلیوں ہے وہ ہے وہ لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا الم ہے ج سے نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خا لگ جم ہے حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروں کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
بات ب سے سے نکل چلی ہے دل کی حالت سنبھل چلی ہے اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہے اب طبیعت بہل چلی ہے خوشی خوناب ہوں چلے ہیں غم کی رنگت بدل چلی ہے یا یوںہی بجھ رہی ہیں شمعیں یا شب ہجر ٹل چلی ہے لاکھ پیغام ہوں گئے ہیں جب صبا ایک پل چلی ہے جاؤ اب سو رہو ستارو درد کی رات ڈھل چلی ہے
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
دل ہے وہ ہے وہ اب یوں تری بھولے ہوئے غم آتے ہیں چنو بچھڑے ہوئے کعبے ہے وہ ہے وہ صنم آتے ہیں اک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن مری منزل کی طرف تری قدم آتے ہیں رقص مے تیز کروں ساز کی لے تیز کروں سو میخا لگ سفیران حرم آتے ہیں کچھ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ حقیقت تو جب آتے ہیں مائل ب کرم آتے ہیں اور کچھ دیر لگ گزرے شب فرقت سے کہو دل بھی کم دکھتا ہے حقیقت یاد بھی کم آتے ہیں
Faiz Ahmad Faiz
5 likes
قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحاں دست کہوں کر چکے ہیں ہم کچھ ان کی دسترسی کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی کوئے ستم ہے وہ ہے وہ سب کو خفا کر چکے ہیں ہم اب اپنا اختیار ہے چاہے ج ہاں چلیں رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم ان کی نظر ہے وہ ہے وہ کیا کریں فیکا ہے اب بھی رنگ جتنا لہو تھا صرف قبا کر چکے ہیں ہم کچھ اپنے دل کی پربھاکر کا بھی شکرا لگ چاہیے سو بار ان کی پربھاکر کا گلہ کر چکے ہیں ہم
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.







