ghazalKuch Alfaaz

زخم پر چھڑکیں ک ہاں طفلان بے پروا نمک کیا مزہ ہوتا ا گر پتھر ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا نمک گرد راہ یار ہے سامان ناز زخم دل ور لگ ہوتا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ ک سے دودمان پیدا نمک مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوج یوں نالہ بلبل کا درد اور خندہ گل کا نمک شور جولان تھا کنار بحر پر ک سے کا کہ آج گرد ساحل ہے ب زخم موج دریا نمک داد دیتا ہے مری زخم ج گر کی واہ واہ یاد کرتا ہے مجھے دیکھے ہے حقیقت ج سے جا نمک چھوڑ کر جانا تن مجروح عاشق چھڑا کر ہے دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک غیر کی منت لگ کھینچوں گا پہ توفیر درد زخم مثل خندہ قاتل ہے سر تا پا نمک یاد ہیں تاکتے تجھے حقیقت دن کہ وجد ذوق ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم سے گرتا تو ہے وہ ہے وہ پلکوں سے چنتا تھا نمک ا سے عمل ہے وہ ہے وہ عیش کی لذت نہیں ملتی سرسری زور نسبت مے سے رکھتا ہے ازارا کا نمک

Related Ghazal

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

More from Mirza Ghalib

दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया

Mirza Ghalib

0 likes

غم نہیں ہوتا ہے نحیف و زار کو بیش از یک نہفس فکر آشیاں سے کرتے ہیں روشن شم ماتم خانہ ہم محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال ہیں ورق گردانی نہیرنگ یک بت خانہ ہم باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم زوف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمناہیں سرسری جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زندان خانہ ہم بس کہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم دیدہ ساغر کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم بس کہ ہر یک مو زلف افشاں سے ہے تار شعاع شانہ صفت کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم مشک از خود رفتگی سے ہیں بگلزار خیال آشنا تعبیر خواب سبزہ بیگانہ ہم فرت بے خوابی سے ہیں شب ہا ہجر یار میں جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے پر فشاں سوختن ہیں صورت پروانہ ہم حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم کشتی عالم بطوفان تغافل دے کہ ہیں عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی

Mirza Ghalib

0 likes

ذکر میرا بب گرا بھی اسے جھمکے نہیں غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں وعدہ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق مژدہ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں شاہد ہستی مطلق کی کمر تراش ہے عالم لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جھمکے نہیں اللہ ری اپنا بھی حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے دریا لیکن ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں حسرت اے ذوق خرابی کہ حقیقت طاقت لگ رہی عشق پر عربدہ کی گوں زیر مزار تن رنجور نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کہتا ہوں کہ ہم لیںگے خوشگوار ہے وہ ہے وہ تمہیں ک سے رعونت سے حقیقت کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں ظلم کر ظلم ا گر لطف دریغ آتا ہوں تو ت غافل ہے وہ ہے وہ کسی رنگ سے معذور نہیں صاف در گرا کش پیما لگ جم ہیں ہم لوگ وائے حقیقت بادہ کہ افشردہ انگور نہیں ہوں ظہوری کے مقابل ہے وہ ہے وہ خفائی تاکتے مری دعوی پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں

Mirza Ghalib

2 likes

ہوں سے کو ہے نشاط کار کیا کیا لگ ہوں مرنا تو جینے کا مزہ کیا تجاہل پیشگی سے مدعا کیا ک ہاں تک اے سرپا ناز کیا کیا نوازش ہا بے جا دیکھتا ہوں شکایت ہا رنگیں کا گلہ کیا نگاہ بے مہابا چاہتا ہوں ت غافل ہا تمکین آزما کیا فروغ شعلہ خ سے یک نف سے ہے ہوں سے کو پا سے نامو سے وفا کیا نف سے موج محیط بے خو گرا ہے ت غافل ہا ساقی کا گلہ کیا دماغ عطر پیراہن نہیں ہے غم آوارگی ہا صبا کیا دل ہر قطرہ ہے ساز انل بحر ہم ا سے کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا مہابا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ضامن ادھر دیکھ شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا سن اے غارت گر جن سے وفا سن شکست شیشہ دل کی صدا کیا کیا ک سے نے ج گر داری کا دعویٰ شکیب خاطر عاشق بھلا کیا یہ قاتل وعدہ دل پامال آزما کیوں یہ کافر فت لگ طاقت ربا کیا بلا جاں ہے تاکتے ا سے کی ہر بات عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا

Mirza Ghalib

0 likes

رون گرا ہوئی ہے کوکب شہریار کی اتراے کیوں لگ خاک سر رہ گزاری کی جب ا سے کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں ہے وہ ہے وہ کیوں نمود لگ ہوں لالہ زار کی بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے کیونکر لگ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی

Mirza Ghalib

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.