ghazalKuch Alfaaz

زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لیے آ پھروں تہذیب یاد دلانے کے لیے آ مستی لیے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ناری ہوئے زلفیں آ پھروں مجھے دیوانہ بنانے کے لیے آ اب لطف اسی ہے وہ ہے وہ ہے مزہ ہے تو اسی ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ اے مری محبوب ستانے کے لیے آ آ رکھ دہن زخم پہ پھروں انگلياں اپنی دل بانسری تیری ہے بجانے کے لیے آ ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لیے آ مانا کہ مری گھر سے ناتے ہی تجھے ہے رہنے کو نہ آ آگ لگانے کے لیے آ پیارے تری صورت سے بھی اچھی ہے جو تصویر ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھے رکھی ہے دکھانے کے لیے آ آشفتہ کہے ہے کوئی دیوانہ کہے ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں دنیا کو بتانے کے لیے آ کچھ روز سے ہم شہر ہے وہ ہے وہ رسوا نہ ہوئے ہیں آ پھروں کوئی الزام لگانے کے لیے آ اب کے جو حقیقت آ جائے تو عاجز اسے لے کر محفل ہے وہ ہے وہ غزل اپنی سنہانے کے لیے آ

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

More from Kaleem Aajiz

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسانے نہیں پسند مجھ کو تیری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تیری بے رخی پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی مترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاںسے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہربانسمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤںے ہے اور بات ور لگ<b

Kaleem Aajiz

1 likes

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا یہ بڑھوا سی ہے روداد صبح مے خانہ زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا نہ آئیں اہل خرد وادی جنوں کی طرف یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا

Kaleem Aajiz

0 likes

شانے کا بے حد خون ج گر جائے ہے پیاری تب زلف کہی تا ب کمر جائے ہے پیاری ج سے دن کوئی غم مجھ پہ گزر جائے ہے پیاری چہرہ ترا ا سے روز نکھر جائے ہے پیاری اک گھر بھی سلامت نہیں اب شہر وفا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آگ لگانے کو کدھر جائے ہے پیاری رہنے دے جفاؤں کی کڑی دھوپ ہے وہ ہے وہ مجھ کو سائے ہے وہ ہے وہ تو ہر بے وجہ ٹھہر جائے ہے پیاری حقیقت بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غم دل سمجھانے ہے وہ ہے وہ اک عمر گزر جائے ہے پیاری ہر چند کوئی نام نہیں مری غزل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ہی طرف سب کی نظر جائے پیاری

Kaleem Aajiz

0 likes

مری شاعری ہے وہ ہے وہ لگ رقص جام لگ مے کی رنگ فشانیوں وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی اندھیرا یہ جو آہ و نالہ و درد ہیں کسی بےوفا کی نشانیاں یہی مری دن کے رفیق ہیں یہی مری رات کی رانیاں یہ مری زبان پہ غزل نہیں ہے وہ ہے وہ سنا رہا ہوں اندھیرا کہ کسی کے عہد شباب پر مٹیں کیسی کیسی جوانیاں کبھی آنسوؤں کو سوکھا گئیں مری سوز دل کی حرارتیں کبھی دل کی ناو ڈبو گئیں مری آنسوؤں کی روانیاں ابھی ا سے کو ا سے کی خبر ک ہاں کہ قدم ک ہاں ہے نظر ک ہاں ابھی مصلحت کا گزر ک ہاں کہ نئی نئی ہیں جوانیاں یہ بیان حال یہ گفتگو ہے میرا نچوڑا ہوا لہو ابھی سن لو مجھ سے کہ پھروں کبھو لگ سنو گے ایسی اندھیرا

Kaleem Aajiz

0 likes

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسان یہ نہیں پسند مجھ کو تری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تری بے رکھ پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی معترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دوں ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاں سے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہرباں سمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤں یہ ہے اور بات ور لگ<b

Kaleem Aajiz

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaleem Aajiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaleem Aajiz's ghazal.