ghazalKuch Alfaaz

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنائی گئی آ سماں بنایا گیا تو برائے عشق یہ سارا ج ہاں بنایا گیا تو تمہاری نا کو ہی آخر ہے وہ ہے وہ ہاں بنایا گیا تو یقین کے چاک پہ رکھ کر گماں بنایا گیا تو جاناں ا سے کے پا سے ہوں ج سے کو تمہاری چاہ لگ تھی ک ہاں پہ پیا سے تھی دریا ک ہاں بنایا گیا تو ہمارے ساتھ کوئی دو قدم بھی چل لگ سکا کسی کے واسطے اک کارواں بنایا گیا تو بدل کے دیکھ لو جاناں جسم چاہے اوروں سے وہیں پہ ٹھیک ہے ج سے کو ج ہاں بنایا گیا تو کسی کو جب بھی ضرورت پڑی سیاہی کی ہمارا جسم جلا کر دھواں بنایا گیا تو ب سے ایک ہے وہ ہے وہ ہی تھا بستی ہے وہ ہے وہ بولنے والا تو سب سے پہلے مجھے بے زبان بنایا گیا تو

Yasir Khan9 Likes

Related Ghazal

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

183 likes

حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا

Javed Akhtar

62 likes

پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی

Kumar Vishwas

53 likes

More from Yasir Khan

کسی نے حال جو پوچھا کبھی محبت سے لپٹ کے رویا بے حد دیر ا سے سے شدت سے ہمارا ساتھ جو چھوٹا تو ا سے ہے وہ ہے وہ حیرت کیا ہمارے ہاتھ تو چھوٹے ہوئے تھے مدت سے یہ اور بات کہ بینائی جا چکی مری تمہارے خواب رکھے ہیں م گر حفاظت سے جب ا سے نے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ کو گلے لگایا تھا ہر ایک آنکھ مجھے تک رہی تھی حیرت سے یہ کاروبار سیاست بے حد ہی اچھا ہے ب سے آپ جھوٹ کو بیچو بڑی اپناپن سے

Yasir Khan

4 likes

تمہارے کام اگر آئی مسکرانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کوئی حرج نہیں میرے ٹوٹ جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فروخت ہوں گئی ہر اجازت جو دل مکان ہے وہ ہے وہ تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنا خرچ ہوا ہوں اسے کمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی جان سے جاؤں گا ہے یہ سچ لیکن اسے بھی زخم تو آئیں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک لفظ محبت نہ بن سکا مجھ سے ہزار بار مٹا ہوں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں تو صرف خبر ہے چراغ جلنے کی ہمارے ہاتھ جلے ہیں اسے جلانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے وصل کی مستی تھی اور مے خانہ شراب لے کے گیا تو تھا شراب خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ عمارتوں ہے وہ ہے وہ محبت کا دیوتا ہے حقیقت ہمارے ہاتھ کٹے ہیں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ

Yasir Khan

8 likes

جن کو معلوم نہیں ہوگا دعا کا زار حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاک بتائیں گے خدا کا زار حقیقت یہ کہتے ہیں محبت ہے وہ ہے وہ سزا پاؤگے اور ہے وہ ہے وہ خوب سمجھتا ہوں سزا کا زار زبان کانٹوں سے ہے وہ ہے وہ خوشبو کے معانی پوچھوں زبان اب آپ بتائیں گے وفا کا زار

Yasir Khan

21 likes

عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہے یار جاناں کیا ہوں کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہے عشق ہے عشق کوئی کھیل نہیں بچوں کا حقیقت چلا جائے جسے مات سے ڈر لگتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری حسن کا شیدائی نہیں ہوں سکتا روز بنتی ہوئی خیرات سے ڈر لگتا ہے ہم نے حالات بدلنے کی دعا مانگی تھی اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے دل تو کرتا ہے کہ بارش ہے وہ ہے وہ نہائیں یاسر گھر جو تکبر ہوں تو برسات سے ڈر لگتا ہے

Yasir Khan

15 likes

مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تو تھا کوئی کل رات مجھ ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تھا بے حد مشکل ہے ا سے کا لوٹ آنا حقیقت پوری بات کب سن کر گیا تو تھا مجھے پہچانتا بھی ہے کوئی اب ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے یہ دیکھنے ہی گھر گیا تو تھا زما لگ ج سے کو دریا کہ رہا ہے ہماری آنکھ سے بہ کر گیا تو تھا کئی صدیوں سے سوکھا پڑ رہا ہے ی ہاں اک بے وجہ پیاسا مر گیا تو تھا ہمارا بوجھ تھا سر پر ہمارے تمہارے ساتھ تو نوکر گیا تو تھا یہ مت سمجھا غلطیاں ک سے سے ہوئی تھی بتا الزام ک سے کے سر گیا تو تھا

Yasir Khan

7 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Yasir Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Yasir Khan's ghazal.