ذرا سا اللہ ری کہی آج ا گر ابھرتا ہے سمندروں ہی کے لہجے ہے وہ ہے وہ بات کرتا ہے کھلی چھتوں کے دیے کب کے بجھ گئے ہوتے کوئی تو ہے جو ہواؤں کے پر کترتا ہے شرافتوں کی ی ہاں کوئی اہمیت ہی نہیں کسی کا کچھ لگ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے یہ دیکھنا ہے کہ صحرا بھی ہے سمندر بھی حقیقت مری تش لگ لبی ک سے کے نام کرتا ہے جاناں آ گئے ہوں تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ چاند ک ہاں روز روز اترتا ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی کیسی وکالت ہوں پھروں نہیں چلتی جب آ سماں سے کوئی فیصلہ اترتا ہے
Related Ghazal
ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں
Jawwad Sheikh
50 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
ی ہاں جاناں دیکھنا رتبہ ہمارا ہماری ریت ہے دریا ہمارا کسی سے کل پتا جی کہ رہے تھے محبت کھا گئی لڑکا ہمارا تعلق ختم کرنے جا رہی ہے کہی گروہ لگ دے بچہ ہمارا
Kushal Dauneria
67 likes
More from Waseem Barelvi
اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے مجھ تک مری حصے کی دھوپ آنے دے ایک نظر ہے وہ ہے وہ کئی زمانے دیکھے تو بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے بابا دنیا جیت کے ہے وہ ہے وہ دکھلا دوں گا اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ا سے باغ کا ایک پرندہ ہوں مری ہی آواز ہے وہ ہے وہ مجھ کو گانے دے پھروں تو یہ اونچا ہی ہوتا جائےگا بچپن کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چاند آ جانے دے فصلیں پک جائیں تو کھیت سے بچھڑیںگی روتی آنکھ کو پیار ک ہاں سمجھانے دے
Waseem Barelvi
7 likes
حقیقت مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہی چا ہوں جسے سارا زما لگ چاہتا ہے کرنا ک ہاں ہے ا سے کا منشا حقیقت میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضا سمے کا کچھ بھی ہوں یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے
Waseem Barelvi
6 likes
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے حقیقت جتنی دور ہوں اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے م گر جب پا سے آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مری اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی یہی سب دیکھتا ہے اور کبیر رونے لگتا ہے سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت پرائے کھیتوں پہ اپنوں ہے وہ ہے وہ جھگڑا ہونے لگتا ہے یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے
Waseem Barelvi
10 likes
صرف تیرا نام لے کر رہ گیا تو آج دیوا لگ بے حد کچھ کہ گیا تو کیا مری تقدیر ہے وہ ہے وہ منزل نہیں فاصلہ کیوں مسکرا کر رہ گیا تو زندگی دنیا ہے وہ ہے وہ ایسا خوشی تھی جو ذرا پلکوں پہ ٹھہرا بہ گیا تو اور کیا تھا ا سے کی پرسش کا جواب اپنے ہی آنسو چھپا کر رہ گیا تو ا سے سے پوچھ اے کامیاب زندگی ج سے کا افسا لگ ادھورا رہ گیا تو ہاں یہ کیا دیوانگی تھی اے مسئلہ جو لگ کہنا چاہیے تھا کہ گیا تو
Waseem Barelvi
2 likes
رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسا جائے میری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائے ہم نے جس راہ کو چھوڑا پھروں اسے چھوڑ دیا اب نہ جائیں گے ادھر چاہے زمانہ جائے میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے میں گناہوں کا طرف دار نہیں ہوں پھروں بھی رات کو دن کی نگاہوں سے نہ دیکھا جائے کچھ بڑی سوچوں میں یہ سوچیں بھی شامل ہیں چھپائیں کس بہانے سے کوئی شہر جلایا جائے
Waseem Barelvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Waseem Barelvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.







