zara si der ko aae the khvab ankhon men phir us ke baad musalsal azaab ankhon men vo jis ke naam ki nisbat se raushni tha vajud khatak raha hai vahi aftab ankhon men jinhen mata-e-dil-o-jan samajh rahe the ham vo aaine bhi hue be-hijab ankhon men ajab tarah ka hai mausam ki khaak udti hai vo din bhi the ki khile the gulab ankhon men mire ghhazal tiri vahshaton ki khair ki hai bahut dinon se bahut iztirab ankhon men na jaane kaisi qayamat ka pesh-khema hai ye uljhanen tiri be-intisab ankhon men javaz kya hai mire kam-sukhan bata to sahi ba-nam-e-khush-nigahi har javab ankhon men zara si der ko aae the khwab aankhon mein phir us ke baad musalsal azab aankhon mein wo jis ke nam ki nisbat se raushni tha wajud khatak raha hai wahi aaftab aankhon mein jinhen mata-e-dil-o-jaan samajh rahe the hum wo aaine bhi hue be-hijab aankhon mein ajab tarah ka hai mausam ki khak udti hai wo din bhi the ki khile the gulab aankhon mein mere ghazal teri wahshaton ki khair ki hai bahut dinon se bahut iztirab aankhon mein na jaane kaisi qayamat ka pesh-khema hai ye uljhanen teri be-intisab aankhon mein jawaz kya hai mere kam-sukhan bata to sahi ba-nam-e-khush-nigahi har jawab aankhon mein
Related Ghazal
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا
Zubair Ali Tabish
102 likes
More from Iftikhar Arif
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ سمے ک سے کی رعونت پہ خاک ڈال گیا تو یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ جانے آواز کون سے عذاب ہے وہ ہے وہ ہے ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے غضب غصہ ہے ا سے بےوفا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی ہے مصلحت جبر احتیاط تو پھروں ہم اپنا حال کہی گے چھپا کے لہجے ہے وہ ہے وہ
Iftikhar Arif
1 likes
وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی قید ہے وہ ہے وہ ہوں قید سے رہائی ہے وہ ہے وہ بھی لہو کی آگ ہے وہ ہے وہ جل بجھ گئے بدن تو کھلا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی خسارہ ہے نا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی بدلتے رہتے ہیں موسم گزرتا رہتا ہے سمے م گر یہ دل کہ وہیں کا وہیں جدائی ہے وہ ہے وہ بھی لحاظ حرمت پیمان لگ پا سے ہم خوابی غضب طرح کے تصادم تھے آشنائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ د سے بر سے سے کسی خواب کے عذاب ہے وہ ہے وہ ہوں وہی عذاب در آیا ہے ا سے دہائی ہے وہ ہے وہ بھی تصادم دل و دنیا ہے وہ ہے وہ دل کی ہار کے بعد حجاب آنے لگا ہے غزل سرائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا رہا ہوں اب ا سے کی طرف اسی کی طرف جو مری ساتھ تھا مری شکستہ پائی ہے وہ ہے وہ بھی
Iftikhar Arif
0 likes
یہ بستی جانی پہچانی بے حد ہے ی ہاں وعدوں کی ارزانی بے حد ہے شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں م گر لہجوں ہے وہ ہے وہ ویرانی بے حد ہے سبک ظرفوں کے آب ہے وہ ہے وہ نہیں لفظ م گر شوق گل افشانی بے حد ہے ہے بازاروں ہے وہ ہے وہ پانی سر سے اونچا مری گھر ہے وہ ہے وہ بھی تغیانی بے حد ہے لگ جانے کب مری صحرا ہے وہ ہے وہ آئی حقیقت اک دریا کہ طوفانی بے حد ہے لگ جانے کب مری آنگن ہے وہ ہے وہ برسے حقیقت اک بادل کہ نقصانی بے حد ہے
Iftikhar Arif
0 likes
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا ا سے ایک خواب کی حسرت ہے وہ ہے وہ جل بجھیں آنکھیں حقیقت ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا کریں تو ک سے سے کریں نارسائیوں کا گلہ سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا دلوں کی بات بدن کی زبان سے کہ دیتے یہ چاہتے تھے م گر دل ادھر نہیں آیا عجیب ہی تھا مری دور گمراہی کا رفیق بچھڑ گیا تو تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا حریم لفظ و معانی سے نسبتیں بھی رہیں م گر سلیقہ عرض ہنر نہیں آیا
Iftikhar Arif
2 likes
थकन तो अगले सफ़र के लिए बहाना था उसे तो यूँँ भी किसी और सम्त जाना था वही चराग़ बुझा जिस की लौ क़यामत थी उसी पे ज़र्ब पड़ी जो शजर पुराना था मता-ए-जाँ का बदल एक पल की सरशारी सुलूक ख़्वाब का आँखों से ताजिराना था हवा की काट शगूफ़ों ने जज़्ब कर ली थी तभी तो लहजा-ए-ख़ुशबू भी जारेहाना था वही फ़िराक़ की बातें वही हिकायत-ए-वस्ल नई किताब का एक इक वरक़ पुराना था क़बा-ए-ज़र्द निगार-ए-ख़िज़ाँ पे सजती थी तभी तो चाल का अंदाज़ ख़ुसरवाना था
Iftikhar Arif
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iftikhar Arif.
Similar Moods
More moods that pair well with Iftikhar Arif's ghazal.







