ایک پتھر کی ادھوری مورت چند تانبے کے پرانی سکے کالی چان گرا کے غضب سے زیور اور کئی اچھالکر کے ٹوٹے برتن ایک صحرا ملے زیر زمین لوگ کہتے ہیں کہ صدیوں پہلے آج صحرا ہے ج ہاں وہیں اک شہر ہوا کرتا تھا اور مجھ کو یہ خیال آتا ہے کسی تقریب کسی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ سامنا تجھ سے میرا آج بھی ہوں جاتا ہے ایک لمحے کو ب سے اک پل کے لیے جسم کی آنچ اچٹتی سی نظر سرخ بندیا کی دمک سرسرہٹ تری ملبو سے کی بالوں کی مہک بے خیالی ہے وہ ہے وہ کبھی لم سے کا نہ لگ سا پھول اور پھروں دور تک وہی صحرا وہی صحرا کہ ج ہاں کبھی اک شہر ہوا کرتا تھا
Related Nazm
یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
191 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
پانی کون پکڑ سکتا ہے جب وہ اس دنیا کے شور اور خموشی سے قطع تعلق ہوکر انگلش میں غصہ کرتی ہے میں تو ڈر جاتا ہوں لیکن کمرے کی دیواریں ہنسنے لگتی ہیں وہ اک ایسی آگ ہے جسے صرف دہکنے سے مطلب ہے وہ اک ایسا پھول ہے جس پر اپنی خوشبو بوجھ بنی ہے وہ اک ایسا خواب ہے جس کو دیکھنے والا خود مشکل میں پڑ سکتا ہے اس کو چھونے کی خواہش تو ٹھیک ہے لیکن پانی کون پکڑ سکتا ہے وہ رنگوں سے فرماؤ ہے بلکہ ہر اک رنگ کے شجرے تک سے فرماؤ ہے اس کو علم ہے کن خوابوں سے آنکھیں نیلی پڑھ سکتی ہیں ہم نے جن کو نفرت سے بادہ آشامی کیا وہ ان پیلے پھولوں کی عزت کرتی ہے کبھی کبھی وہ اپنے ہاتھ میں پہنچاتا لے کر ایسی سطرے کھینچتی ہے سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے وہ چاہے تو ہر اک چیز کو اس کے اصل میں لا سکتی ہے صرف اسی کے ہاتھوں سے ساری دنیا ترتیب میں آ سکتی ہے ہر پتھر اس پاؤں سے ٹکرانے کی خواہش میں زندہ ہے لیکن یہ تو اسی ادھورے پن کا جہاں ہے ہر پنجرے میں ایسے قیدی کب ہوتے ہیں ہر کپڑے کی قسمت میں وہ جسم کہاں ہے میری بے مقصد باتوں سے تنگ بھی آ جاتی ہے تو م
Tehzeeb Hafi
88 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
ہم لڑکے ہیں آج آپ کو سب سچ سچ بتاتے ہیں ہم کہ سے لیے اتنا مسکراتے ہیں ہم کو رونا بھی آئی تو کہاں رو پاتے ہیں کوئی دیکھ نہ لے روتا ہوا یہ سوچ کر ڈر جاتے ہیں درد سہتے ہیں اور اپنے آنسوؤں کو پی جاتے ہیں ہم حقیقت ہیں جنہیں اپنے اشک بہانے سے روکا جاتا ہے جنہیں اپنا درد سنہانے سے روکا جاتا ہے ہم حقیقت ہیں جو خود ہی خود کا مزاق بناتے ہیں اور پھروں ایک دوجے سے سچ چھپاتے ہیں ہم سب کچھ کر سکتے ہیں مگر کبھی کھل کر رو نہیں سکتے ہمارا درد ہمارے سوا ای سے دنیا ہے وہ ہے وہ کہاں کوئی سمجھ پاتا ہے سکھ ہے وہ ہے وہ کھل کے ہنستے ہیں اور دکھ ہے وہ ہے وہ جھوٹ موٹھ کا مسکرانا آتا ہے ہم لڑکے ہیں صاحب ہمیں بچپن سے بس یہی سکھایا گیا تو ہے لڑکے روتے نہیں ہیں یہ بول بول کر پتھر دل بنایا گیا تو ہے اپنے من کی کرنے والا ای سے سماج کی نظر ہے وہ ہے وہ ہر لڑکا برا ہے اپنے آنسوؤں کو پی جاؤ دوستوں ہم لڑکے ہیں ہمیں رونا منا ہے
ABhishek Parashar
11 likes
More from Javed Akhtar
दिल वो सहरा था कि जिस सहरा में हसरतें रेत के टीलों की तरह रहती थीं जब हवादिस की हवा उन को मिटाने के लिए चलती थी यहाँ मिटती थीं कहीं और उभर आती थीं शक्ल खोते ही नई शक्ल में ढल जाती थीं दिल के सहरा पे मगर अब की बार सानेहा गुज़रा कुछ ऐसा कि सुनाए न बने आँधी वो आई कि सारे टीले ऐसे बिखरे कि कहीं और उभर ही न सके यूँँ मिटे हैं कि कहीं और बनाए न बने अब कहीं टीले नहीं रेत नहीं रेत का ज़र्रा नहीं दिल में अब कुछ नहीं दिल को सहरा भी अगर कहिए तो कैसे कहिए
Javed Akhtar
1 likes
گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہوئے کیا لکھتے ہوں باہر نکلو دیکھو کیا حال ہے دنیا کا یہ کیا عالم ہے سونی آنکھیں ہیں سبھی خوشیوں سے خالی چنو آؤ ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشیوں کی چمک ہم لکھ دیں یہ جو ماتھے ہیں اداسی کی لکیروں کے تلے آؤ ان ماتھوں پہ قسمت کی دمک ہم لکھ دیں چہروں سے گہری یہ بیتابی مٹا کے آؤ ان پہ امید کی اک اجلی کرن ہم لکھ دیں دور تک جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ویرانے نظر آتے ہیں آؤ ویرانوں پر اب ایک چمن ہم لکھ دیں لفظ در لفظ سمندر سا بہے موج ب موج بہر نغمات ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر کوہ ستم حل ہوں جائے دنیا دنیا لگ رہے ایک غزل ہوں جائے
Javed Akhtar
1 likes
مری رستے ہے وہ ہے وہ اک موڑ تھا اور ا سے موڑ پر پیڑ تھا ایک برگد کا اونچا شوالہ ج سے کے سائے ہے وہ ہے وہ میرا بے حد سمے بیتا ہے لیکن ہمیشہ یہی ہے وہ ہے وہ نے سوچا کہ رستے ہے وہ ہے وہ یہ موڑ ہی ا سے لیے ہے کہ یہ پیڑ ہے عمر کی آندھیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ ایک دن گر گیا تو ہے موڑ لیکن ہے اب تک وہیں کا وہیں دیکھتا ہوں تو آگے بھی رستے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے موڑ ہی موڑ ہیں پیڑ کوئی نہیں راستوں ہے وہ ہے وہ مجھے یوں تو مل جاتے ہیں مہرباں پھروں بھی ہر موڑ پر پوچھتا ہے یہ دل حقیقت جو اک چھاؤں تھی کھو گئی ہے ک ہاں
Javed Akhtar
0 likes
जाने किस की तलाश उन की आँखों में थी आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे जितना भी वो चले इतने ही बिछ गए राह में फ़ासले ख़्वाब मंज़िल थे और मंज़िलें ख़्वाब थीं रास्तों से निकलते रहे रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे जिन पे सब चलते हैं ऐसे सब रास्ते छोड़ के एक अंजान पगडंडी की उँगली था में हुए इक सितारे से उम्मीद बाँधे हुए सम्त की हर गुमाँ को यक़ीं मान के अपने दिल से कोई धोका खाते हुए जान के सहरा सहरा समुंदर को वो ढूँडते कुछ सराबों की जानिब रहे गामज़न यूँँ नहीं था कि उन को ख़बर ही न थी ये समुंदर नहीं लेकिन उन को कहीं शायद एहसास था ये फ़रेब उन को महव-ए-सफ़र रक्खेगा ये सबब था कि था और कोई सबब जो लिए उन को फिरता रहा मंज़िलों मंज़िलों रास्ते रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे अक्सर ऐसा हुआ शहर-दर-शहर और बस्ती बस्ती किसी भी दरीचे में कोई चराग़-ए-मोहब्बत न था बे-रुख़ी से भरी सारी गलियों में सारे मकानों के दरवाज़े यूँँ बंद थे जैसे इक सर्द ख़ामोश लहजे में वो कह रहे हों मुरव्वत का और मेहरबानी का मस्कन कहीं और होगा यहाँ तो नहीं है यही एक मंज़र समेटे थे शहरों के पथरीले सब रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे और कभी यूँँ हुआ आरज़ू के मुसाफ़िर थे जलती सुलगती हुई धूप में कुछ दरख़्तों ने साए बिछाए मगर उन को ऐसा लगा साए में जो सुकून और आराम है मंज़िलों तक पहुँचने न देगा उन्हें और यूँँ भी हुआ महकी कलियों ने ख़ुशबू के पैग़ाम भेजे उन्हें उन को ऐसा लगा चंद कलियों पे कैसे क़नाअ'त करें उन को तो ढूँढ़ना है वो गुलशन कि जिस को किसी ने अभी तक है देखा नहीं जाने क्यूँँ था उन्हें इस का पूरा यक़ीं देर हो या सवेर उन को लेकिन कहीं ऐसे गुलशन के मिल जाएँगे रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे धूप ढलने लगी बस ज़रा देर में रात हो जाएगी आरज़ू के मुसाफ़िर जो हैं उन के क़दमों तले जो भी इक राह है वो भी शायद अँधेरे में खो जाएगी आरज़ू के मुसाफ़िर भी अपने थके-हारे बे-जान पैरों पे कुछ देर तक लड़खड़ाएँगे और गिर के सो जाएँगे सिर्फ़ सन्नाटा सोचेगा ये रात भर मंज़िलें तो उन्हें जाने कितनी मिलीं ये मगर मंज़िलों को समझते रहे जाने क्यूँँ रास्ते जाने किस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे और फिर इक सवेरे की उजली किरन तीरगी चीर के जगमगा देगी जब अन-गिनत रहगुज़ारों पे बिखरे हुए उन के नक़्श-ए-क़दम आफ़ियत-गाहों में रहने वाले ये हैरत से मजबूर हो के कहेंगे ये नक़्श-ए-क़दम सिर्फ़ नक़्श-ए-क़दम ही नहीं ये तो दरयाफ़्त हैं ये तो ईजाद हैं ये तो अफ़्कार हैं ये तो अश'आर हैं ये कोई रक़्स हैं ये कोई राग हैं इन से ही तो हैं आरास्ता सारी तहज़ीब ओ तारीख़ के वक़्त के ज़िंदगी के सभी रास्ते वो मुसाफ़िर मगर जानते-बूझते भी रहे बे-ख़बर जिस को छू लें क़दम वो तो बस राह थी उन की मंज़िल दिगर थी अलग चाह थी जो नहीं मिल सके उस की थी आरज़ू जो नहीं है कहीं उस की थी जुस्तुजू शायद इस वास्ते आरज़ू के मुसाफ़िर भटकते रहे
Javed Akhtar
1 likes
آنکھ کھل گئی مری ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ پھروں زندہ پیٹ کے اندھیروں سے ذہن کے دھندلکوں تک ایک سانپ کے جیسا رینگتا خیال آیا آج تیسرا دن ہے آج تیسرا دن ہے اک عجیب خموشی منجمد ہے کمرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک خو اور اک چھت اور چار دیواریں مجھ سے بے تعلق سب سب مری تماشائی سامنے کی کھڑکی سے تیز دھوپ کی کرنیں آ رہی ہیں بستر پر چبھ رہی ہیں چہرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے دودمان نوکیلی ہیں چنو ڈ گر کے طنز مری غربت پر آنکھ کھل گئی مری آج جگ ہوں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صرف کھول باقی ہے آج مری بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈیوٹی ہے میرا ڈھانچا اپنی مردہ آنکھوں سے دیکھتا ہے کمرے کو آج تیسرا دن ہے آج تیسرا دن ہے دوپہر کی گرمی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے ارادہ قدموں سے اک سڑک پہ چلتا ہوں تنگ سی سڑک پر ہیں دونوں سمت دکانیں خالی خالی آنکھوں سے ہر دکان کا تختہ صرف دیکھ سکتا ہوں اب پڑھا نہیں جاتا لوگ آتے جاتے ہیں پا سے سے گزرنے ہیں پھروں بھی کتنے دھندلے ہیں سب ہیں چنو بے چہرہ شور ان دکانوں کا راہ
Javed Akhtar
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's nazm.







