گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہوئے کیا لکھتے ہوں باہر نکلو دیکھو کیا حال ہے دنیا کا یہ کیا عالم ہے سونی آنکھیں ہیں سبھی خوشیوں سے خالی چنو آؤ ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشیوں کی چمک ہم لکھ دیں یہ جو ماتھے ہیں اداسی کی لکیروں کے تلے آؤ ان ماتھوں پہ قسمت کی دمک ہم لکھ دیں چہروں سے گہری یہ بیتابی مٹا کے آؤ ان پہ امید کی اک اجلی کرن ہم لکھ دیں دور تک جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ویرانے نظر آتے ہیں آؤ ویرانوں پر اب ایک چمن ہم لکھ دیں لفظ در لفظ سمندر سا بہے موج ب موج بہر نغمات ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر کوہ ستم حل ہوں جائے دنیا دنیا لگ رہے ایک غزل ہوں جائے
Related Nazm
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
More from Javed Akhtar
مری رستے ہے وہ ہے وہ اک موڑ تھا اور ا سے موڑ پر پیڑ تھا ایک برگد کا اونچا شوالہ ج سے کے سائے ہے وہ ہے وہ میرا بے حد سمے بیتا ہے لیکن ہمیشہ یہی ہے وہ ہے وہ نے سوچا کہ رستے ہے وہ ہے وہ یہ موڑ ہی ا سے لیے ہے کہ یہ پیڑ ہے عمر کی آندھیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ ایک دن گر گیا تو ہے موڑ لیکن ہے اب تک وہیں کا وہیں دیکھتا ہوں تو آگے بھی رستے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے موڑ ہی موڑ ہیں پیڑ کوئی نہیں راستوں ہے وہ ہے وہ مجھے یوں تو مل جاتے ہیں مہرباں پھروں بھی ہر موڑ پر پوچھتا ہے یہ دل حقیقت جو اک چھاؤں تھی کھو گئی ہے ک ہاں
Javed Akhtar
0 likes
کچھ جاناں نے کہا کچھ ہے وہ ہے وہ نے کہا اور بڑھتے بڑھتے بات بڑھی دل اوب گیا تو دل ڈوب گیا تو اور گہری کالی رات بڑھی جاناں اپنے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر سارے دروازے بند کیے بیٹھے ہیں کڑوے گھونٹ پیے اوڑھے ہیں نبھائیے کی چادر کچھ جاناں سوچو کچھ ہے وہ ہے وہ سوچوں کیوں اونچی ہیں یہ دیواریں کب تک ہم ان پر سر ماریں کب تک یہ اندھیرے رہنے ہیں کی لگ کے یہ گھیرے رہنے ہیں چلو اپنے دروازے کھولیں اور گھر کے باہر آئیں ہم دل ٹھہرے ج ہاں ہیں برسوں سے حقیقت اک نکڑ ہے خوبصورت کا کب تک ا سے نکڑ پر ٹھہرے اب ا سے کے آگے جائیں ہم ب سے تھوڑی دور اک دریا ہے ج ہاں ایک اجالا بہتا ہے واں لہروں لہروں ہیں کرنیں اور کرنوں کرنوں ہیں لہریں ان کرنوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان لہروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم دل کو خوب نہانے دیں سینوں ہے وہ ہے وہ جو اک پتھر ہے ا سے پتھر کو گھل جانے دیں دل کے اک کونے ہے وہ ہے وہ بھی چھپی گر تھوڑی سی بھی خوبصورت ہے ا سے خوبصورت کو دھل جانے دیں دونوں کی طرف سے ج سے دن بھی اظہار ندا
Javed Akhtar
3 likes
ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت تمام حیرت تمام حیرت یہ کیا تماشا یہ کیا سماں ہے یہ کیا عیاں ہے یہ کیا ن ہاں ہے اتھاہ میک اپ ہے اک خلا کا لگ جانے کب سے لگ جانے کب تک ک ہاں تلک ہے ہماری دی کی انتہا ہے جسے سمجھتے ہیں ہم فلک ہے یہ رات کا چھلنی چھلنی سا کالا آ سماں ہے کہ ج سے ہے وہ ہے وہ جگنو کی شکل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے شمار سورج پگھل رہے ہیں شہاب ثاقب ہے یا ہمیشہ کی ٹھنڈی کالی فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو آگ کے تیر چل رہے ہیں کروڑ ہا نوری برسوں کے فاصلوں ہے وہ ہے وہ پھیلی یہ کہکشائیں خلا گھیرے ہیں یا خلاوں کی قید ہے وہ ہے وہ ہے یہ کون ک سے کو لیے چلا ہے ہر ایک لمحہ کروڑوں میلوں کی جو مسافت ہے ان کو آخر ک ہاں ہے جانا ا گر ہے ان کا کہی کوئی آخری ہری تو حقیقت ک ہاں ہے ج ہاں کہی ہے سوال یہ ہے و ہاں سے آگے کوئی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے کوئی فلک ہے ا گر نہیں ہے تو یہ نہیں کتنی دور تک ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت<
Javed Akhtar
0 likes
दिल वो सहरा था कि जिस सहरा में हसरतें रेत के टीलों की तरह रहती थीं जब हवादिस की हवा उन को मिटाने के लिए चलती थी यहाँ मिटती थीं कहीं और उभर आती थीं शक्ल खोते ही नई शक्ल में ढल जाती थीं दिल के सहरा पे मगर अब की बार सानेहा गुज़रा कुछ ऐसा कि सुनाए न बने आँधी वो आई कि सारे टीले ऐसे बिखरे कि कहीं और उभर ही न सके यूँँ मिटे हैं कि कहीं और बनाए न बने अब कहीं टीले नहीं रेत नहीं रेत का ज़र्रा नहीं दिल में अब कुछ नहीं दिल को सहरा भी अगर कहिए तो कैसे कहिए
Javed Akhtar
1 likes
ये आए दिन के हंगा में ये जब देखो सफ़र करना यहाँ जाना वहाँ जाना इसे मिलना उसे मिलना हमारे सारे लम्हे ऐसे लगते हैं कि जैसे ट्रेन के चलने से पहले रेलवे-स्टेशन पर जल्दी जल्दी अपने डब्बे ढूँडते कोई मुसाफ़िर हों जिन्हें कब साँस भी लेने की मोहलत है कभी लगता है तुम को मुझ से मुझ को तुम से मिलने का ख़याल आए कहाँ इतनी भी फ़ुर्सत है मगर जब संग-दिल दुनिया मेरा दिल तोड़ती है तो कोई उम्मीद चलते चलते जब मुँह मोड़ती है तो कभी कोई ख़ुशी का फूल जब इस दिल में खिलता है कभी जब मुझ को अपने ज़ेहन से कोई ख़याल इन'आम मिलता है कभी जब इक तमन्ना पूरी होने से ये दिल ख़ाली सा होता है कभी जब दर्द आ के पलकों पे मोती पिरोता है तो ये एहसास होता है ख़ुशी हो ग़म हो हैरत हो कोई जज़्बा हो इस में जब कहीं इक मोड़ आए तो वहाँ पल भर को सारी दुनिया पीछे छूट जाती है वहाँ पल भर को इस कठ-पुतली जैसी ज़िंदगी की डोरी टूट जाती है मुझे उस मोड़ पर बस इक तुम्हारी ही ज़रूरत है मगर ये ज़िंदगी की ख़ूब-सूरत इक हक़ीक़त है कि मेरी राह में जब ऐसा कोई मोड़ आया है तो हर उस मोड़ पर मैं ने तुम्हें हम-राह पाया है
Javed Akhtar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's nazm.







