ابھی لگ پردہ گراو ٹھہرو کہ داستاں آگے اور بھی ہے ابھی لگ پردہ گراو ٹھہرو ابھی تو ٹوٹی ہے کچی مٹی ابھی تو ب سے جسم ہی گرے ہیں ابھی تو کردار ہی بجھے ہیں ابھی دستور ہیں روح کے غم ابھی دھڑکتے ہیں غزلوں کے ابھی تو احسا سے جی رہا ہے یہ لو بچا لو جو تھک کے کردار کی ہتھیلی سے گر پڑی ہے یہ لو بچا لو یہیں سے جستجو پھروں بگولا بن کر یہیں سے اٹھےگا کوئی کردار پھروں اسی روشنی کو لے کر کہی تو انجان جستجو کے سرے ملیںگے ابھی لگ پردہ گراو ٹھہرو
Related Nazm
ہیلو سینیشن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے بند کمرے ہے وہ ہے وہ پڑا ہوں اور اک دیوار پر نظریں جمائے مناظر کے عجوبے دیکھتا ہوں اسی دیوار ہے وہ ہے وہ کوئی خلا ہے مجھے جو غار جیسا لگ رہا ہے و ہاں مکڑی نے جال بُن لیا ہے اور اب اپنے ہی جال ہے وہ ہے وہ پھسی ہے وہیں پر ایک مردہ چھپکلی ہے کئی صدیوں سے جو ساکت پڑی ہے اب ا سے پر کائی جمتی جا رہی ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ ایک جنگل دکھ رہا ہے درختوں سے پرندے گر رہے ہیں کلہاڑی شاخ پر لٹکی ہوئی ہے لکڑہارے پہ گیدڑ ہن سے رہے مسلسل تیز بارش ہوں رہی ہے کسی پتے سے گر کر ایک اللہ ری اچانک ایک سمندر بن گیا تو ہے سمندر ناو سے لڑنے لگا ہے مچھیرہ مچھلیوں ہے وہ ہے وہ گھر گیا تو ہے اور اب پتوار سینے سے لگا کر حقیقت نیلے آ سماں کو دیکھتا ہے جو یک دم زرد پڑتا جا رہا ہے حقیقت کیسے ریت بنتا جا رہا ہے مجھے اب صرف صحرا دکھ رہا ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ دھوم کی چادر بچھی ہے م گر حقیقت ایک جگہ سے پھٹ رہی ہے و ہاں پر ایک سایہ ناچتا ہے ج ہاں بھی پیر دھرتا ہے و ہاں پر سنہرے پھول کھلتے جا رہے ہے
Ammar Iqbal
13 likes
آنکھوں کی خاطر ا سے کی آنکھوں کی خاطر یا ا سے کی آنکھوں کے واسطے ا سے سے جدا ہونا ایک گناہ ہے مجھے کہ ہاں یہ بھی ایک سبب ہے ا سے سے جدا یا مہجور لگ ہونے کا کہ جب جب خیال فراق آتا ہے مری ذہن ہے وہ ہے وہ تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی حقیقت آنکھیں ہی تو یاد کرتا ہوں کہ کیا ہوگا جب چھوڑ دوں گا ان آنکھوں کو درمیان سفر کیا حقیقت افسردہ آنکھیں پھروں سہ پائیں گی یہ محجوری مری حقیقت آنکھیں جن ہے وہ ہے وہ ایک عمر تلک کھویا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ حقیقت آنکھیں جو مجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہیں حقیقت آنکھیں جن ہے وہ ہے وہ ہری ہیں ساری یادیں ساری باتیں سارے لمحے اور سب عالم اپنے سکھ دکھ کے حقیقت آنکھیں جو مری ہر خواب کو اپنا خواب مانتی ہیں اور ج سے کے خود کے خواب ما تہتی ہوئے ہیں حقیقت آنکھیں جو اپنے ماضی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بڑی پریشان رہی ہیں حقیقت آنکھیں جو مجھے ایک امید سے دیکھتی ہیں ابھی اور اب ا سے موجودہ حال ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک سکون تلاشتی ہیں مجھ ہے وہ ہے وہ کہی حقیقت آنکھیں جو ابھی بھی سہمی ہوئی ہیں پر ایک کشش ل
Zaan Farzaan
7 likes
" उस का नसीब " नसीब लिखने वाले ने क्या कमाल लिखा है ज़मीर पे मेरे धब्बा उसे रुमाल लिखा है मुरीद हूँ मैं शिक्षा का मज़ीद ज्ञान नहीं है जवाब मुश्किल हो ऐसा उसे सवाल लिखा है लपेट देती है मेरा फ़ुज़ूल बात अगर हो दिमाग़ सुंदरता में भी उसे बवाल लिखा है मुराद मेरी है उस सेे अगर विवाह अभी हो नसीब में मेरे याराँ उसे निहाल लिखा है फ़रीद है वो शुभ उस शख़्स का जवाब नहीं है हयात के रंगों में भी उसे गुलाल लिखा है
Shubham Rai 'shubh'
10 likes
"पहला इश्क़" तअर्रुफ़ हुआ था अभी ही उन से वक़्त कहाँ ज़्यादा गुज़रा है बातें होती थी बहुत ही उन से वक़्त कहाँ ज़्यादा सुधरा है अंकों में दिलचस्पी मुझे उर्दू का थोड़ा-सा ज्ञान था वो अंग्रेज़ी से वाक़िफ़ बहुत लेकिन शून्य सा अभिमान था पसंद उन की आँखों में काजल और उन पर वो चश्मा था उन्हें पसंद मेरी घनी दाढ़ी और आँखों में सुरमा था कभी ये ला दो तो कभी वो ला दो मैं ने की हर ख़्वाहिश पूरी लेकिन महरम बनाने की मेरी ख़्वाहिश रह गई अधूरी कहा था उन्होंने पहले ही मुझ से रख दो अपने माँ-बाप को अर्ज़ी पर ज़फ़र डरता खोने से उन को और कहा जैसी रब की मर्ज़ी न जाने कौन सा लज़ीज़ वक़्त था की इश्क़ की रसोई को हम ने पकाया अगर अलाहिदा करना ही था मक़्सद तो फिर क्यूँँ हम दोनों को मिलाया
ZafarAli Memon
14 likes
''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए
Amir Ameer
295 likes
More from Gulzar
حقیقت پل کی ساتویں سیڑھی پہ بیٹھا کہتا رہتا تھا کسی تھیلے ہے وہ ہے وہ بھر کے گر خیال اپنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دروازے پہ ہرکارے کی صورت جا کے دھڑکاتی چمکتی ہوئی بوندیں بارش کی کسی کی جیب ہے وہ ہے وہ بھر کے گلے ہے وہ ہے وہ بادلوں کا ایک مفلر ڈال کر آتا حقیقت بھیگا بھیگا سا رہتا کسی کے کان ہے وہ ہے وہ دو بالیوں سے چاند پہناتا مچھیرے کی کوئی لڑکی ا گر ملتی گرجتے بادلوں کو باندھ کر بالوں کے جوڑے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھنک کی بینی دے آتا مجھے گر کہکشاں کو بانٹنے کا حق دیا ہوتا خدا نے تو کوئی فٹ پاتھ سے بولا اے اولاد شاعر کی بے حد کھائی ہیں روکھی روٹیاں ہے وہ ہے وہ نے جو لا سکتا ہے تو اک بار کچھ سالان ہی لا کر دے
Gulzar
2 likes
حقیقت جو شاعر تھا حقیقت جو شاعر تھا چپ سا رہتا تھا بہکی بہکی سی باتیں کرتا تھا آنکھیں کانوں پہ رکھ کے سنتا تھا گنگی خاموشیوں کی آوازیں جمع کرتا تھا چاند کے سائے اور گیلی سی نور کی بوندیں روکھے روکھے سے رات کے پتے اوک ہے وہ ہے وہ بھر کے کھرکھراتا تھا سمے کے ا سے گھنیری جنگل ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچے پکے سے لمحے چنتا تھا ہاں وہی حقیقت عجیب سا شاعر رات کو اٹھ کے کہنیوں کے بل چاند کی لوٹایا چوما کرتا تھا چاند سے گر کے مر گیا تو ہے حقیقت لوگ کہتے ہیں خود کشی کی ہے
Gulzar
9 likes
دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرا دیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھنا زور سے بج نہ اٹھے پیروں کی آواز کہیں کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ٹوٹے نے کوئی جاگ نہ جائے دیکھو جاگ جائےگا کوئی خواب تو مر جائےگا
Gulzar
3 likes
کہی کچھ دور سے کانوں ہے وہ ہے وہ پڑتی ہے اردو تو لگتا ہے دن جاڑوں کے ہیں کھڑکی کھلی ہے دھوپ اندر آ رہی ہے
Gulzar
5 likes
دل ہے وہ ہے وہ ایسے ٹھہر گئے ہیں غم چنو جنگل ہے وہ ہے وہ شام کے سائے جاتے جاتے سہم کے رک جائیں ذات در ذات دیکھیں ادا سے را ہوں پر کیسے بجھتے ہوئے اجالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک دھول ہی دھول اڑتی ہے
Gulzar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gulzar.
Similar Moods
More moods that pair well with Gulzar's nazm.







