دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرا دیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھنا زور سے بج نہ اٹھے پیروں کی آواز کہیں کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ٹوٹے نے کوئی جاگ نہ جائے دیکھو جاگ جائےگا کوئی خواب تو مر جائےگا
Related Nazm
''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए
Amir Ameer
295 likes
یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
191 likes
کتنا عرصہ لگا نا امی گرا کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بفری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے نا خداوں ہے وہ ہے وہ اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق ہے وہ ہے وہ کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر ہے وہ ہے وہ گزاری م گر آج پھروں ا سے جگہ ہیں ج ہاں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ماوں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاری تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے کہنیوں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا منا ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا تو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ حقیقت آفات ٹوٹی ہیں جن کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک ص گرا بعد پھروں سامنا ہے وبا کے دنوں ہے وہ ہے وہ کسے ہوش رہتا ہے ک سے ہاتھ کو کھڑکیاں ہے کسے تھامنا ہے اک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پرکار لے کر یہ
Tehzeeb Hafi
21 likes
سودائی غضب دل ہے لگ جیتا ہے لگ مرتا ہے لگ سینے ہے وہ ہے وہ ٹھہرتا ہے لگ باہر ہی نکلتا ہے غضب جاں ہے مشین ہے کہ تو آئی جھجھکتی ہے کہ تو آئی تو نامعلوم کیا ہوگا پریشاں ہے کہ دنیا کیا کہے گی پشیمان ہے کہ اپنے با ہمی رشتے ہے وہ ہے وہ حقیقت دم ہے لگ حقیقت خم ہے م گر پھروں بھی بلکتی ہے کہ تنہائی نے ایسا مار رکھا ہے لگ تو آئی تو میرا کیا بنےگا غضب تو ہے لگ اپنوں ہے وہ ہے وہ لگ غیروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ غم اندوز خلوت ہے وہ ہے وہ لگ جان افروز جلوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے ڈر ہے کہ تجھ سے میل ہوگا تو ک ہاں ہوگا کسی سرسبز وا گرا ہے وہ ہے وہ کے ا سے ویران کوٹیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی دنیا ہے وہ ہے وہ یا پھروں تراشتے کے پار عقبہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب ہے وہ ہے وہ ہوں مفکر بھی محقق بھی مصنف بھی م گر افسو سے عاشق بھی گیا تو گزرا سا شاعر بھی بعید از عقل بھی اور رسم دنیا سے بھی بے گانا جو انجانے ہے وہ ہے وہ تجھ سے ڈھیر سارا پیار کر بیٹھا ب ہر صورت ا گر کچھ واقعہ ہے تو فقط یہ ہے میرا دل تجھ پہ شیدا ہے مری
Dharmesh bashar
11 likes
مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے
Zubair Ali Tabish
19 likes
More from Gulzar
حقیقت پل کی ساتویں سیڑھی پہ بیٹھا کہتا رہتا تھا کسی تھیلے ہے وہ ہے وہ بھر کے گر خیال اپنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دروازے پہ ہرکارے کی صورت جا کے دھڑکاتی چمکتی ہوئی بوندیں بارش کی کسی کی جیب ہے وہ ہے وہ بھر کے گلے ہے وہ ہے وہ بادلوں کا ایک مفلر ڈال کر آتا حقیقت بھیگا بھیگا سا رہتا کسی کے کان ہے وہ ہے وہ دو بالیوں سے چاند پہناتا مچھیرے کی کوئی لڑکی ا گر ملتی گرجتے بادلوں کو باندھ کر بالوں کے جوڑے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھنک کی بینی دے آتا مجھے گر کہکشاں کو بانٹنے کا حق دیا ہوتا خدا نے تو کوئی فٹ پاتھ سے بولا اے اولاد شاعر کی بے حد کھائی ہیں روکھی روٹیاں ہے وہ ہے وہ نے جو لا سکتا ہے تو اک بار کچھ سالان ہی لا کر دے
Gulzar
2 likes
क्या लिए जाते हो तुम कंधों पे यारो इस जनाज़े में तो कोई भी नहीं है, दर्द है कोई, न हसरत है, न ग़म है मुस्कुराहट की अलामत है न कोई आह का नुक़्ता और निगाहों की कोई तहरीर न आवाज़ का कतरा क़ब्र में क्या दफ़्न करने जा रहे हो? सिर्फ़ मिट्टी है ये मिट्टी- मिट्टी को मिट्टी में दफ़नाते हुए रोेते हो क्यूँ ?
Gulzar
3 likes
اکیلے کہ سے دودمان سیدھا سہل صاف ہے رستہ دیکھو نہ کسی شاخ کا سایہ ہے نہ دیوار کی چل کر نہ کسی آنکھ کی آہٹ نہ کسی چہرے کا شور دور تک کوئی نہیں کوئی نہیں کوئی نہیں چند قدموں کے نشان ہاں کبھی ملتے ہیں کہیں ساتھ چلتے ہیں جو کچھ دور فقط چند قدم اور پھروں ٹوٹ کے گر جاتے ہیں یہ کہتے ہوئے اپنی تنہائی لیے آپ چلو تنہا اکیلے ساتھ آئی جو یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں کہ سے دودمان سیدھا سہل صاف ہے رستہ دیکھو
Gulzar
2 likes
عجیب سا عمل ہے یہ یہ ایک حرامی گفتگو اور ایکطرفہ ایک ایسے بے وجہ سے خیال ج سے کی شکل ہے خیال ہی ثبوت ہے
Gulzar
4 likes
سمے کو آتے لگ جاتے لگ گزرنے دیکھا لگ اترتے ہوئے دیکھا کبھی الہام کی صورت جمع ہوتے ہوئے اک جگہ م گر دیکھا ہے شاید آیا تھا حقیقت خوابوں سے دبے پاؤں ہی اور جب آیا خیالوں کو بھی احسا سے لگ تھا آنکھ کا رنگ طلوع ہوتے ہوئے دیکھا ج سے دن ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چوما تھا م گر سمے کو پہچانا لگ تھا چند تتلاۓ ہوئے بولوں ہے وہ ہے وہ آہٹ بھی سنی دودھ کا دانت گرا تھا تو و ہاں بھی دیکھا بوسکی بیٹی مری چکنی سی ریشم کی ڈلی لپٹی لپٹائی ہوئی ریشمی تانگوں ہے وہ ہے وہ پڑی تھی مجھ کو احسا سے نہیں تھا کہ و ہاں سمے پڑا ہے پالنا کھول کے جب ہے وہ ہے وہ نے اتارا تھا اسے بستر پر لوری کے بولوں سے اک بار چھوا تھا ا سے کو بڑھتے ناخونوں ہے وہ ہے وہ ہر بار تراشا بھی تھا چوڑیاں چڑھتی اترتی تھیں کلائی پہ مسلسل اور ہاتھوں سے اترتی کبھی چڑھتی تھیں کتابیں مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ و ہاں سمے لکھا ہے سمے کو آتے لگ جاتے لگ گزرنے دیکھا جمع ہوتے ہوئے دیکھا م گر ا سے کو ہے وہ ہے وہ نے ا سے بر سے بوسکی اٹھارہ بر سے کی ہوں گی چند تتلاۓ ہوئے بولوں ہے وہ ہے وہ
Gulzar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gulzar.
Similar Moods
More moods that pair well with Gulzar's nazm.







