nazmKuch Alfaaz

سمے کو آتے لگ جاتے لگ گزرنے دیکھا لگ اترتے ہوئے دیکھا کبھی الہام کی صورت جمع ہوتے ہوئے اک جگہ م گر دیکھا ہے شاید آیا تھا حقیقت خوابوں سے دبے پاؤں ہی اور جب آیا خیالوں کو بھی احسا سے لگ تھا آنکھ کا رنگ طلوع ہوتے ہوئے دیکھا ج سے دن ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چوما تھا م گر سمے کو پہچانا لگ تھا چند تتلاۓ ہوئے بولوں ہے وہ ہے وہ آہٹ بھی سنی دودھ کا دانت گرا تھا تو و ہاں بھی دیکھا بوسکی بیٹی مری چکنی سی ریشم کی ڈلی لپٹی لپٹائی ہوئی ریشمی تانگوں ہے وہ ہے وہ پڑی تھی مجھ کو احسا سے نہیں تھا کہ و ہاں سمے پڑا ہے پالنا کھول کے جب ہے وہ ہے وہ نے اتارا تھا اسے بستر پر لوری کے بولوں سے اک بار چھوا تھا ا سے کو بڑھتے ناخونوں ہے وہ ہے وہ ہر بار تراشا بھی تھا چوڑیاں چڑھتی اترتی تھیں کلائی پہ مسلسل اور ہاتھوں سے اترتی کبھی چڑھتی تھیں کتابیں مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ و ہاں سمے لکھا ہے سمے کو آتے لگ جاتے لگ گزرنے دیکھا جمع ہوتے ہوئے دیکھا م گر ا سے کو ہے وہ ہے وہ نے ا سے بر سے بوسکی اٹھارہ بر سے کی ہوں گی چند تتلاۓ ہوئے بولوں ہے وہ ہے وہ

Gulzar1 Likes

Related Nazm

حقیقت لڑکی سینے ہے وہ ہے وہ اتیت کی یادیں دباتے ہوئے اداسی چھپا رہی تھی حقیقت مسکراتے ہوئے اندر ا سے کے آنسوؤں کا سیلاب بھرا ہوا تھا ڈر رہی تھی حقیقت ا نہیں باہر لاتے ہوئے اسے دھوکہ ملا تھا محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ دوست بھی یقیناً مطلبی رہے ا سے کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بڑھایا جو ہاتھ دوستی کا حقیقت کانپ رہی تھی ہاتھ ملاتے ہوئے مکمل ملاقات ادھوری چھوڑ آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اظہار کرنے سے پہلے لب موڑ آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی ب سے یہی بات ادا سے کر گئی ا سے نے پلٹ کر نا دیکھا واپ سے جاتے ہوئے

Mayank Agarwal

7 likes

یار یار تھا ہے وہ ہے وہ تمہارا یا قاف یوں کوئی سیڑھی منزل تک پہنچ گئے پیچھے دیکھا تک نہیں جو سیکھ کسی نے نہیں حقیقت سیکھ پیڑوں نے دی چھاؤں لیتے رہے م گر تمہاری آری رکی نہیں بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلا کرتے ساتھ ہم سانپ سیڑھی اترا یہ زندگی ہے وہ ہے وہ کب بھنبھک تک لگی نہیں سپنے بھی ساتھ بنے تھے بے حد نومی گرا بھی تھی کئی بادلوں کی سیر پر نکل گئے جاناں پر ہے وہ ہے وہ نہیں ا گر رخصت کی ہوتی خبر ذرا سی بھی تب ماں سے دو روٹی زیادہ بنواتا نہیں ارپت ہے وہ ہے وہ نے گھوم پھروں کر یہی بات ہے معنی کئی ملیںگے ان کے چنو یہ ظالم اکیلے نہیں

Arpit Sharma

13 likes

وجہیں سنو جانے سے اعتراض نہیں مجھے پر جاؤ تو لوٹ آنے کی وجہیں چھوڑ جانا آج نہ صحیح کل گتھی پابندی کیا صحیح ہے نہ کھینچ کر توڑ دینا یا بہتر ہے گرہیں رہنے دینا اور وقت پر چھوڑ دینا عدد رابطوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لازم ہیں رسوائیاں بھی جب منائے کوئی تو اور روٹھنا فقیر کرنا پھروں مان جانا بات بگڑ جاتی ہے چپ رہنے سے بھی سب چپ چاپ سہنے سے بھی کہنا کہ دینا کہنے دینا خاموشیوں کے بھروسے مت رہنا اب جاؤ پر لوٹ آنے کی وجہیں چھوڑ جانا

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

11 likes

मुश्किल और आसानी में से एक अगर चुनना हो तो हम आसानी ही चुनते हैं मुश्किल बात गले के एवज़ पेट के पास से आती है उस को बाहर आते आते एक ज़माना लगता है मुश्किल है ये कह पाना के "यार, मुझे ग़म खाता है जैसे जैसे रात उतरती है तो रोना आता है" हो सालों का रिश्ता चाहे ये भी कहना मुश्किल है "जब तक ज़ख़्म नहीं भरता ये तू तो हाल सुनेगा ना ? तू तो बहुत क़रीब है मेरे तू तो मदद करेगा ना ?" बस इतनी सी बात बताने में सदियां लग जाती हैं आख़िर में हम बहुत सोच कर फिर आसानी चुनते है कह देते हैं, "हाँ मैं बढ़िया, मुझ को क्या ही होना है" वो भी 'बढ़िया' कह देता है बात ख़तम हो जाती है

Siddharth Saaz

11 likes

ہمارا گاؤں سنو اپنے میں تلیا گاؤں کا قصہ سناتا ہوں تمہیں لفظوں میں اپنے آج بہرائچ دکھاتا ہوں جہاں پر سڑکیں کچی ہیں جہاں ہر سمت غربت ہے جہاں پر آج بھی لوگوں کو شکشا کی ضرورت ہے جہاں کے لوگ پیسوں کے لیے پردیس جاتے ہیں وہ کھا کے روکھی سوکھی روٹیاں پیسے کماتے ہیں مگر پھروں بھی ہمارے گاؤں کے لوگوں میں الفت ہے ہمیں اس گاؤں سے ہر حال میں بے شک محبت ہے مجھے وہ کھیت وہ بگیا سبھی اب یاد آتے ہیں میں ہوں چھوڑنا میں لیکن مجھے وہ سب بلاتے ہیں ہمارے گاؤں سے کچھ دوری پر سرجو نکلتی ہے نہاؤ جب بھی اس پانی میں تو خوشبو نکلتی ہے بتائیں کس قدر ہم دھوپ میں نہ چھاؤں میں بیٹھے گئے جب بھی ہم اپنے مدرسے تو ناو میں بیٹھے وہ بہتا سرجو کا پانی ہمارا ناو میں ہونا نظارہ کتنا دلکش تھا ہمارا گاؤں میں ہونا

Hameed Sarwar Bahraichi

9 likes

More from Gulzar

حقیقت پل کی ساتویں سیڑھی پہ بیٹھا کہتا رہتا تھا کسی تھیلے ہے وہ ہے وہ بھر کے گر خیال اپنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دروازے پہ ہرکارے کی صورت جا کے دھڑکاتی چمکتی ہوئی بوندیں بارش کی کسی کی جیب ہے وہ ہے وہ بھر کے گلے ہے وہ ہے وہ بادلوں کا ایک مفلر ڈال کر آتا حقیقت بھیگا بھیگا سا رہتا کسی کے کان ہے وہ ہے وہ دو بالیوں سے چاند پہناتا مچھیرے کی کوئی لڑکی ا گر ملتی گرجتے بادلوں کو باندھ کر بالوں کے جوڑے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھنک کی بینی دے آتا مجھے گر کہکشاں کو بانٹنے کا حق دیا ہوتا خدا نے تو کوئی فٹ پاتھ سے بولا اے اولاد شاعر کی بے حد کھائی ہیں روکھی روٹیاں ہے وہ ہے وہ نے جو لا سکتا ہے تو اک بار کچھ سالان ہی لا کر دے

Gulzar

2 likes

حقیقت جو شاعر تھا حقیقت جو شاعر تھا چپ سا رہتا تھا بہکی بہکی سی باتیں کرتا تھا آنکھیں کانوں پہ رکھ کے سنتا تھا گنگی خاموشیوں کی آوازیں جمع کرتا تھا چاند کے سائے اور گیلی سی نور کی بوندیں روکھے روکھے سے رات کے پتے اوک ہے وہ ہے وہ بھر کے کھرکھراتا تھا سمے کے ا سے گھنیری جنگل ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچے پکے سے لمحے چنتا تھا ہاں وہی حقیقت عجیب سا شاعر رات کو اٹھ کے کہنیوں کے بل چاند کی لوٹایا چوما کرتا تھا چاند سے گر کے مر گیا تو ہے حقیقت لوگ کہتے ہیں خود کشی کی ہے

Gulzar

9 likes

دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرا دیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھنا زور سے بج نہ اٹھے پیروں کی آواز کہیں کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ٹوٹے نے کوئی جاگ نہ جائے دیکھو جاگ جائےگا کوئی خواب تو مر جائےگا

Gulzar

3 likes

ایک بوچھار تھا حقیقت بے وجہ بنا برسے کسی ابر کی سہمی سی نمی سے جو بھیگو دیتا تھا ایک بوچار ہی تھا حقیقت جو کبھی دھوپ کی افشاں بھر کے دور تک سنتے ہوئے چہروں پہ اکتاتے دیتا تھا نیم تاریک سے ہال ہے وہ ہے وہ آنکھیں چمک اٹھتی تھیں سر ہلاتا تھا کبھی جھوم کے ٹہنی کی طرح لگتا تھا جھونکا ہوا کا تھا کوئی چھیڑ گیا تو ہے گنگناتا تھا تو کھلتے ہوئے بادل کی طرح مسکراہٹ ہے وہ ہے وہ کئی طربوں کی جھنکار چھپی تھی گلی قاسم سے چلی ایک غزل کی جھنکار تھا حقیقت ایک آواز کی بوچھار تھا حقیقت

Gulzar

3 likes

کہی کچھ دور سے کانوں ہے وہ ہے وہ پڑتی ہے اردو تو لگتا ہے دن جاڑوں کے ہیں کھڑکی کھلی ہے دھوپ اندر آ رہی ہے

Gulzar

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Gulzar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Gulzar's nazm.