nazmKuch Alfaaz

حقیقت جو شاعر تھا حقیقت جو شاعر تھا چپ سا رہتا تھا بہکی بہکی سی باتیں کرتا تھا آنکھیں کانوں پہ رکھ کے سنتا تھا گنگی خاموشیوں کی آوازیں جمع کرتا تھا چاند کے سائے اور گیلی سی نور کی بوندیں روکھے روکھے سے رات کے پتے اوک ہے وہ ہے وہ بھر کے کھرکھراتا تھا سمے کے ا سے گھنیری جنگل ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچے پکے سے لمحے چنتا تھا ہاں وہی حقیقت عجیب سا شاعر رات کو اٹھ کے کہنیوں کے بل چاند کی لوٹایا چوما کرتا تھا چاند سے گر کے مر گیا تو ہے حقیقت لوگ کہتے ہیں خود کشی کی ہے

Gulzar9 Likes

Related Nazm

مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو

Gulzar

68 likes

نثری نجم نثر ابا نجم اماں دونوں کو انکار ہے یہ جو نثری نجم ہے یہ ک سے کی پیدا وار ہے صرف لفاظی پہ مبنی ہے یہ تجری گرا چھوؤں گا ج سے ہے وہ ہے وہ عنقا ہیں معانی لفظ پردہ دار ہے نثر ہے گر نثر تو حقیقت نجم ہوں سکتی نہیں نجم جو ہوں نثر کی مانند حقیقت بے کار ہے قافیہ کی کوئی آزمایا لگ ہے قید ردیف بے در و دیوار کا یہ گھر بھی کیا سخن ساز ہے بہر سے آزاد قید وزن سے ہے بے نیاز واہ کیا مدر پدر آزاد یہ دلدار ہے مرتبے ہے وہ ہے وہ میر و مومن سے ہے ہر کوئی بلند ان ہے وہ ہے وہ ہر بے بحر تاکتے سے بڑا فنکار ہے ج سے کے چمچے جتنے زیادہ ہوں حقیقت اتنا ہی عظیم آج کل مصرع اٹھانا ایک کاروبار ہے داد صرف اپنوں کو دیتے ہیں گروہ اندر گروہ ان کے ٹولے سے جو باہر ہوں گیا تو مردار ہے بن گیا تو استاد و علامہ ی ہاں ہر بے شعور کور چشم اہل نظر ہونے کا دعویدار ہے شاعری بانہوں شاعری ہے ہے ذرا محنت طلب اور محنت ہی حقیقت اجازت ہے ج سے سے ان کو آر ہے پاپ میوزک کے لیے بحر کشف مدعا ہے نثری شاعری ہر روایت سے بغاوت کی یہ دعویدار ہے طبع معنی دل گر لگ بخشی ہوں

Aasi Rizvi

13 likes

ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت

Varun Anand

475 likes

ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم مری شہرت میرا ڈنکا مری اعزاز کا سن کر کبھی یہ لگ سمجھ لینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چوٹی کا لکھاری ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوٹا سا بیوپاری ہوں مری آرت پہ برسوں سے جو مہنگے دام بکتا ہے حقیقت تری غم کا سودا ہے تیری آنکھیں تری آنسو تیری چاہت تری جذبے ی ہاں سیلفوں پہ رکھے ہیں وہی تو ہے وہ ہے وہ نے بیچے ہیں تمہاری بات چھڑ جائے تو باتیں بیچ دیتا ہوں ضرورت کچھ زیادہ ہوں تو یادیں بیچ دیتا ہوں تمہارے نام کے صدقے بے حد بڑھانے کمایا ہے نئی گاڑی خری گرا ہے نیا بنگلہ بنایا ہے م گر کیوں مجھ کو لگتا ہے مری اندر کا بیوپاری تمہیں کو بیچ آیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم

Khalil Ur Rehman Qamar

34 likes

" तुम उसे अच्छा कहो " वो डाँटता है तुम उसे अच्छा कहो वो मानता है तुम उसे अच्छा कहो हर शख़्स बस तकलीफ़ देता है यहाँ वो प्यार करता तुम उसे अच्छा कहो सब शक्ल सूरत देखते ही हैं यहाँ दिखता उसे गुण तुम उसे अच्छा कहो सब बेवजह ही छोड़ जाते आजकल वो साथ देता तुम उसे अच्छा कहो शुभ बाँटना बस प्यार ही है चाहता अच्छा लगे तो तुम उसे अच्छा कहो

Shubham Rai 'shubh'

11 likes

More from Gulzar

حقیقت پل کی ساتویں سیڑھی پہ بیٹھا کہتا رہتا تھا کسی تھیلے ہے وہ ہے وہ بھر کے گر خیال اپنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دروازے پہ ہرکارے کی صورت جا کے دھڑکاتی چمکتی ہوئی بوندیں بارش کی کسی کی جیب ہے وہ ہے وہ بھر کے گلے ہے وہ ہے وہ بادلوں کا ایک مفلر ڈال کر آتا حقیقت بھیگا بھیگا سا رہتا کسی کے کان ہے وہ ہے وہ دو بالیوں سے چاند پہناتا مچھیرے کی کوئی لڑکی ا گر ملتی گرجتے بادلوں کو باندھ کر بالوں کے جوڑے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھنک کی بینی دے آتا مجھے گر کہکشاں کو بانٹنے کا حق دیا ہوتا خدا نے تو کوئی فٹ پاتھ سے بولا اے اولاد شاعر کی بے حد کھائی ہیں روکھی روٹیاں ہے وہ ہے وہ نے جو لا سکتا ہے تو اک بار کچھ سالان ہی لا کر دے

Gulzar

2 likes

دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرا دیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھنا زور سے بج نہ اٹھے پیروں کی آواز کہیں کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ٹوٹے نے کوئی جاگ نہ جائے دیکھو جاگ جائےگا کوئی خواب تو مر جائےگا

Gulzar

3 likes

क्या लिए जाते हो तुम कंधों पे यारो इस जनाज़े में तो कोई भी नहीं है, दर्द है कोई, न हसरत है, न ग़म है मुस्कुराहट की अलामत है न कोई आह का नुक़्ता और निगाहों की कोई तहरीर न आवाज़ का कतरा क़ब्र में क्या दफ़्न करने जा रहे हो? सिर्फ़ मिट्टी है ये मिट्टी- मिट्टी को मिट्टी में दफ़नाते हुए रोेते हो क्यूँ ?

Gulzar

3 likes

ایک بوچھار تھا حقیقت بے وجہ بنا برسے کسی ابر کی سہمی سی نمی سے جو بھیگو دیتا تھا ایک بوچار ہی تھا حقیقت جو کبھی دھوپ کی افشاں بھر کے دور تک سنتے ہوئے چہروں پہ اکتاتے دیتا تھا نیم تاریک سے ہال ہے وہ ہے وہ آنکھیں چمک اٹھتی تھیں سر ہلاتا تھا کبھی جھوم کے ٹہنی کی طرح لگتا تھا جھونکا ہوا کا تھا کوئی چھیڑ گیا تو ہے گنگناتا تھا تو کھلتے ہوئے بادل کی طرح مسکراہٹ ہے وہ ہے وہ کئی طربوں کی جھنکار چھپی تھی گلی قاسم سے چلی ایک غزل کی جھنکار تھا حقیقت ایک آواز کی بوچھار تھا حقیقت

Gulzar

3 likes

کہی کچھ دور سے کانوں ہے وہ ہے وہ پڑتی ہے اردو تو لگتا ہے دن جاڑوں کے ہیں کھڑکی کھلی ہے دھوپ اندر آ رہی ہے

Gulzar

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Gulzar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Gulzar's nazm.