ہمارا گاؤں سنو اپنے میں تلیا گاؤں کا قصہ سناتا ہوں تمہیں لفظوں میں اپنے آج بہرائچ دکھاتا ہوں جہاں پر سڑکیں کچی ہیں جہاں ہر سمت غربت ہے جہاں پر آج بھی لوگوں کو شکشا کی ضرورت ہے جہاں کے لوگ پیسوں کے لیے پردیس جاتے ہیں وہ کھا کے روکھی سوکھی روٹیاں پیسے کماتے ہیں مگر پھروں بھی ہمارے گاؤں کے لوگوں میں الفت ہے ہمیں اس گاؤں سے ہر حال میں بے شک محبت ہے مجھے وہ کھیت وہ بگیا سبھی اب یاد آتے ہیں میں ہوں چھوڑنا میں لیکن مجھے وہ سب بلاتے ہیں ہمارے گاؤں سے کچھ دوری پر سرجو نکلتی ہے نہاؤ جب بھی اس پانی میں تو خوشبو نکلتی ہے بتائیں کس قدر ہم دھوپ میں نہ چھاؤں میں بیٹھے گئے جب بھی ہم اپنے مدرسے تو ناو میں بیٹھے وہ بہتا سرجو کا پانی ہمارا ناو میں ہونا نظارہ کتنا دلکش تھا ہمارا گاؤں میں ہونا
Related Nazm
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں
Gulzar
107 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
دولت نا عطا کرنا مولا شہرت نا عطا کرنا مولا ب سے اتنا عطا کرنا چاہے جنت نا عطا کرنا مولا شمہ وطن کی لو پر جب قربان پتنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ب سے ایک صدا ہی سنیں صدا برفیلی مست ہواؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے ایک دعا ہی اٹھے صدا جلتے تپتے صحراؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیتے جی ا سے مان رکھیں مر کر مریادہ یاد رہے ہم رہیں کبھی نا رہیں م گر ا سے کی سج دھج آباد رہے جن من ہے وہ ہے وہ اچھل دیش پریم کا جلدھی ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں گیتا کا گیان سنے نا سنیں ا سے دھرتی کا یشگان سنیں ہم سبد کیرتن سن نا سکیں بھارت ماں کا جےگان سنیں परवरदिगार,मैं تری دوار پر لے پکار یہ آیا ہوں چاہے اذان نا سنیں کان پر جے جے ہندوستان سنیں جن من ہے وہ ہے وہ اچھل دیش پریم کا جلدھی ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں
Kumar Vishwas
66 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
More from Hameed Sarwar Bahraichi
زندگی کے رنگ مجھے زندگی سے گلہ نہیں مجھے کرنے والے سے گلہ نہیں مجھے سادگی سے گلہ نہیں مجھے بےخودی سے گلہ نہیں مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں مجھے کہوں سے گلہ نہیں مجھے ب سے فقط یہ گلہ رہا مجھے ہر خوشی سے گلہ رہا تیری جستجو سے ہے وہ ہے وہ ڈر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گزر گیا تو ہے وہ ہے وہ بکھر گیا تو میرا حال کیسا یہ حال ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو عشق عشق ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تیری یادیں مجھ کو ستاتا رہیں میری دھڑکنوں کو بڑھا رہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روویج ہوں مجھ کو خبر نہیں یہ اداسیاں مجھے کھا رہیں
Hameed Sarwar Bahraichi
5 likes
محبت محبت حقیقت کہ ج سے کو بھی ملے سلطان ہوں جائے محبت بن ہماری زندگی ویران ہوں جائے محبت ہے تو ممکن ہے زما لگ ہے فسا لگ ہے محبت کا ن گر تو عاشقوں کا کارخا لگ ہے محبت راج ہے دل کا محبت راجدهانی ہے محبت کے بنا تو شہر بھر ہے وہ ہے وہ نا توانی ہے محبت ہے تو دنیا ہے محبت ہے تو ہم جاناں ہیں محبت کی بدولت ہی چمکتے سارے انجم ہیں محبت قیمتی اجازت ہے بڑی مشکل سے ہوتی ہے محبت ماف کرتی ہے ا گر قاتل سے ہوتی ہے محبت تو بھروسا ہے محبت ہی سخاوت ہے محبت آنکھ کی ٹھنڈک محبت رب کی رحمت ہے
Hameed Sarwar Bahraichi
4 likes
نجم اجنبی محبوبہ ہم تجھے جانتے لگ تھے پہلے تجھ کو پہچانتے لگ تھے پہلے آج تجھ کو جو جان پائے ہیں مری اشعار جگمگائے ہیں تو کوئی آن بان والی ہے تو حسینوں ہے وہ ہے وہ شان والی ہے تو سمندر سا گہرا پانی ہے تری ہونے سے سب کہانی ہے تو ملا ہے مجھے منانے سے آج ہے وہ ہے وہ خوش ہوں تری آنے سے تجھ کو ہے وہ ہے وہ راستہ ا گر کہ دوں تجھ کو جینے کا گر ہنر کہ دوں تجھ کو اپنی متاع جاں کہ دوں تجھ کو اپنا ہے وہ ہے وہ ہمنوا کہ دوں میرا تجھ سے ہی رابطہ ہے اب صدیوں صدیوں کا واسطہ ہے اب دور ہے وہ ہے وہ تجھ سے اب کدھر جاؤں تجھ کو ہے وہ ہے وہ دیکھ کر سنور جاؤں مجھ کو سایہ بھی تیرا بھاتا ہے رات دن تو ہی یاد آتا ہے تری ہونے سے میسر ہے سکون بن تری ہے وہ ہے وہ تو کہی بھی لگ ر ہوں ہوں کے انجان اب نہیں جینا بن تری جان اب نہیں جینا جاناں پہ سب کچھ ہے وہ ہے وہ آج ہارا ہوں جاناں مری اور ہے وہ ہے وہ تمہارا ہوں
Hameed Sarwar Bahraichi
3 likes
پیار کی نشانی اک نشانی پل رہی ہے پیار کی اور کیا خواہش کروں سنسر کی ایک نہنہی جان مری دل ہے وہ ہے وہ ہے شکریہ کرتی ر ہوں ہے وہ ہے وہ یار کی اور کیا خواہش کروں سنسر کی اپنے ہاتھوں سے اسے سہلا رہی من ہی من خوش ہوں رہی اور گا رہی ہے خوشی ا سے بات کی مری خدا ہوں لگ پائیں گے کبھی اب ہم جدا یہ جو مری کوکھ ہے وہ ہے وہ ہے پل رہا مل رہی ہے ہر خوشی دلدار کی اور کیا خواہش کروں سنسر کی
Hameed Sarwar Bahraichi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hameed Sarwar Bahraichi.
Similar Moods
More moods that pair well with Hameed Sarwar Bahraichi's nazm.







