محبت محبت حقیقت کہ ج سے کو بھی ملے سلطان ہوں جائے محبت بن ہماری زندگی ویران ہوں جائے محبت ہے تو ممکن ہے زما لگ ہے فسا لگ ہے محبت کا ن گر تو عاشقوں کا کارخا لگ ہے محبت راج ہے دل کا محبت راجدهانی ہے محبت کے بنا تو شہر بھر ہے وہ ہے وہ نا توانی ہے محبت ہے تو دنیا ہے محبت ہے تو ہم جاناں ہیں محبت کی بدولت ہی چمکتے سارے انجم ہیں محبت قیمتی اجازت ہے بڑی مشکل سے ہوتی ہے محبت ماف کرتی ہے ا گر قاتل سے ہوتی ہے محبت تو بھروسا ہے محبت ہی سخاوت ہے محبت آنکھ کی ٹھنڈک محبت رب کی رحمت ہے
Related Nazm
میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
नज़्म - बेबसी तेरे साथ गुज़रे दिनों की कोई एक धुँदली सी तस्वीर जब भी कभी सामने आएगी तो हमें एक दुआ थामने आएगी, बुढ़ापे की गहराइयों में उतरते हुए तेरी बे-लौस बाँहों के घेरे नहीं भूल पाएँगे हम हम को तेरे तवस्सुत से हँसते हुए जो मिले थे वो चेहरे नहीं भूल पाएँगे हम तेरे पहलू में लेटे हुओं का अजब क़र्ब है जो रात भर अपनी वीरान आँखों से तुझे तकते थे और तेरे शादाब शानों पे सिर रख के मरने की ख़्वाहिश में जीते रहे पर तेरे लम्स का कोई इशारा मुयस्सर नहीं था मगर इस जहाँ का कोई एक हिस्सा उन्हें तेरे बिस्तर से बेहतर नहीं था पर मोहब्बत को इस सब से कोई इलाका नहीं था एक दुख तो हम बहरहाल हम अपने सीनों में ले के मरेंगे कि हम ने मोहब्बत के दावे किए तेरे माथे पर सिंदूर टाँका नहीं इस सेे क्या फ़र्क पड़ता है दूर हैं तुझ सेे या पास हैं हम को कोई आदमी तो नहीं, हम तो एहसास हैं जो रहे तो हमेशा रहेंगे और गए तो मुड़ कर वापिस नहीं आएँगे
Tehzeeb Hafi
33 likes
ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں
Gulzar
107 likes
مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے
Zubair Ali Tabish
19 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
More from Hameed Sarwar Bahraichi
زندگی کے رنگ مجھے زندگی سے گلہ نہیں مجھے کرنے والے سے گلہ نہیں مجھے سادگی سے گلہ نہیں مجھے بےخودی سے گلہ نہیں مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں مجھے کہوں سے گلہ نہیں مجھے ب سے فقط یہ گلہ رہا مجھے ہر خوشی سے گلہ رہا تیری جستجو سے ہے وہ ہے وہ ڈر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گزر گیا تو ہے وہ ہے وہ بکھر گیا تو میرا حال کیسا یہ حال ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو عشق عشق ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تیری یادیں مجھ کو ستاتا رہیں میری دھڑکنوں کو بڑھا رہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روویج ہوں مجھ کو خبر نہیں یہ اداسیاں مجھے کھا رہیں
Hameed Sarwar Bahraichi
5 likes
نجم اجنبی محبوبہ ہم تجھے جانتے لگ تھے پہلے تجھ کو پہچانتے لگ تھے پہلے آج تجھ کو جو جان پائے ہیں مری اشعار جگمگائے ہیں تو کوئی آن بان والی ہے تو حسینوں ہے وہ ہے وہ شان والی ہے تو سمندر سا گہرا پانی ہے تری ہونے سے سب کہانی ہے تو ملا ہے مجھے منانے سے آج ہے وہ ہے وہ خوش ہوں تری آنے سے تجھ کو ہے وہ ہے وہ راستہ ا گر کہ دوں تجھ کو جینے کا گر ہنر کہ دوں تجھ کو اپنی متاع جاں کہ دوں تجھ کو اپنا ہے وہ ہے وہ ہمنوا کہ دوں میرا تجھ سے ہی رابطہ ہے اب صدیوں صدیوں کا واسطہ ہے اب دور ہے وہ ہے وہ تجھ سے اب کدھر جاؤں تجھ کو ہے وہ ہے وہ دیکھ کر سنور جاؤں مجھ کو سایہ بھی تیرا بھاتا ہے رات دن تو ہی یاد آتا ہے تری ہونے سے میسر ہے سکون بن تری ہے وہ ہے وہ تو کہی بھی لگ ر ہوں ہوں کے انجان اب نہیں جینا بن تری جان اب نہیں جینا جاناں پہ سب کچھ ہے وہ ہے وہ آج ہارا ہوں جاناں مری اور ہے وہ ہے وہ تمہارا ہوں
Hameed Sarwar Bahraichi
3 likes
ہمارا گاؤں سنو اپنے میں تلیا گاؤں کا قصہ سناتا ہوں تمہیں لفظوں میں اپنے آج بہرائچ دکھاتا ہوں جہاں پر سڑکیں کچی ہیں جہاں ہر سمت غربت ہے جہاں پر آج بھی لوگوں کو شکشا کی ضرورت ہے جہاں کے لوگ پیسوں کے لیے پردیس جاتے ہیں وہ کھا کے روکھی سوکھی روٹیاں پیسے کماتے ہیں مگر پھروں بھی ہمارے گاؤں کے لوگوں میں الفت ہے ہمیں اس گاؤں سے ہر حال میں بے شک محبت ہے مجھے وہ کھیت وہ بگیا سبھی اب یاد آتے ہیں میں ہوں چھوڑنا میں لیکن مجھے وہ سب بلاتے ہیں ہمارے گاؤں سے کچھ دوری پر سرجو نکلتی ہے نہاؤ جب بھی اس پانی میں تو خوشبو نکلتی ہے بتائیں کس قدر ہم دھوپ میں نہ چھاؤں میں بیٹھے گئے جب بھی ہم اپنے مدرسے تو ناو میں بیٹھے وہ بہتا سرجو کا پانی ہمارا ناو میں ہونا نظارہ کتنا دلکش تھا ہمارا گاؤں میں ہونا
Hameed Sarwar Bahraichi
9 likes
پیار کی نشانی اک نشانی پل رہی ہے پیار کی اور کیا خواہش کروں سنسر کی ایک نہنہی جان مری دل ہے وہ ہے وہ ہے شکریہ کرتی ر ہوں ہے وہ ہے وہ یار کی اور کیا خواہش کروں سنسر کی اپنے ہاتھوں سے اسے سہلا رہی من ہی من خوش ہوں رہی اور گا رہی ہے خوشی ا سے بات کی مری خدا ہوں لگ پائیں گے کبھی اب ہم جدا یہ جو مری کوکھ ہے وہ ہے وہ ہے پل رہا مل رہی ہے ہر خوشی دلدار کی اور کیا خواہش کروں سنسر کی
Hameed Sarwar Bahraichi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hameed Sarwar Bahraichi.
Similar Moods
More moods that pair well with Hameed Sarwar Bahraichi's nazm.







