زندگی کے رنگ مجھے زندگی سے گلہ نہیں مجھے کرنے والے سے گلہ نہیں مجھے سادگی سے گلہ نہیں مجھے بےخودی سے گلہ نہیں مجھے کہکشاں سے گلہ نہیں مجھے کہوں سے گلہ نہیں مجھے ب سے فقط یہ گلہ رہا مجھے ہر خوشی سے گلہ رہا تیری جستجو سے ہے وہ ہے وہ ڈر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گزر گیا تو ہے وہ ہے وہ بکھر گیا تو میرا حال کیسا یہ حال ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو عشق عشق ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تیری یادیں مجھ کو ستاتا رہیں میری دھڑکنوں کو بڑھا رہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روویج ہوں مجھ کو خبر نہیں یہ اداسیاں مجھے کھا رہیں
Related Nazm
کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Faiz Ahmad Faiz
160 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
More from Hameed Sarwar Bahraichi
محبت محبت حقیقت کہ ج سے کو بھی ملے سلطان ہوں جائے محبت بن ہماری زندگی ویران ہوں جائے محبت ہے تو ممکن ہے زما لگ ہے فسا لگ ہے محبت کا ن گر تو عاشقوں کا کارخا لگ ہے محبت راج ہے دل کا محبت راجدهانی ہے محبت کے بنا تو شہر بھر ہے وہ ہے وہ نا توانی ہے محبت ہے تو دنیا ہے محبت ہے تو ہم جاناں ہیں محبت کی بدولت ہی چمکتے سارے انجم ہیں محبت قیمتی اجازت ہے بڑی مشکل سے ہوتی ہے محبت ماف کرتی ہے ا گر قاتل سے ہوتی ہے محبت تو بھروسا ہے محبت ہی سخاوت ہے محبت آنکھ کی ٹھنڈک محبت رب کی رحمت ہے
Hameed Sarwar Bahraichi
4 likes
نجم اجنبی محبوبہ ہم تجھے جانتے لگ تھے پہلے تجھ کو پہچانتے لگ تھے پہلے آج تجھ کو جو جان پائے ہیں مری اشعار جگمگائے ہیں تو کوئی آن بان والی ہے تو حسینوں ہے وہ ہے وہ شان والی ہے تو سمندر سا گہرا پانی ہے تری ہونے سے سب کہانی ہے تو ملا ہے مجھے منانے سے آج ہے وہ ہے وہ خوش ہوں تری آنے سے تجھ کو ہے وہ ہے وہ راستہ ا گر کہ دوں تجھ کو جینے کا گر ہنر کہ دوں تجھ کو اپنی متاع جاں کہ دوں تجھ کو اپنا ہے وہ ہے وہ ہمنوا کہ دوں میرا تجھ سے ہی رابطہ ہے اب صدیوں صدیوں کا واسطہ ہے اب دور ہے وہ ہے وہ تجھ سے اب کدھر جاؤں تجھ کو ہے وہ ہے وہ دیکھ کر سنور جاؤں مجھ کو سایہ بھی تیرا بھاتا ہے رات دن تو ہی یاد آتا ہے تری ہونے سے میسر ہے سکون بن تری ہے وہ ہے وہ تو کہی بھی لگ ر ہوں ہوں کے انجان اب نہیں جینا بن تری جان اب نہیں جینا جاناں پہ سب کچھ ہے وہ ہے وہ آج ہارا ہوں جاناں مری اور ہے وہ ہے وہ تمہارا ہوں
Hameed Sarwar Bahraichi
3 likes
ہمارا گاؤں سنو اپنے میں تلیا گاؤں کا قصہ سناتا ہوں تمہیں لفظوں میں اپنے آج بہرائچ دکھاتا ہوں جہاں پر سڑکیں کچی ہیں جہاں ہر سمت غربت ہے جہاں پر آج بھی لوگوں کو شکشا کی ضرورت ہے جہاں کے لوگ پیسوں کے لیے پردیس جاتے ہیں وہ کھا کے روکھی سوکھی روٹیاں پیسے کماتے ہیں مگر پھروں بھی ہمارے گاؤں کے لوگوں میں الفت ہے ہمیں اس گاؤں سے ہر حال میں بے شک محبت ہے مجھے وہ کھیت وہ بگیا سبھی اب یاد آتے ہیں میں ہوں چھوڑنا میں لیکن مجھے وہ سب بلاتے ہیں ہمارے گاؤں سے کچھ دوری پر سرجو نکلتی ہے نہاؤ جب بھی اس پانی میں تو خوشبو نکلتی ہے بتائیں کس قدر ہم دھوپ میں نہ چھاؤں میں بیٹھے گئے جب بھی ہم اپنے مدرسے تو ناو میں بیٹھے وہ بہتا سرجو کا پانی ہمارا ناو میں ہونا نظارہ کتنا دلکش تھا ہمارا گاؤں میں ہونا
Hameed Sarwar Bahraichi
9 likes
پیار کی نشانی اک نشانی پل رہی ہے پیار کی اور کیا خواہش کروں سنسر کی ایک نہنہی جان مری دل ہے وہ ہے وہ ہے شکریہ کرتی ر ہوں ہے وہ ہے وہ یار کی اور کیا خواہش کروں سنسر کی اپنے ہاتھوں سے اسے سہلا رہی من ہی من خوش ہوں رہی اور گا رہی ہے خوشی ا سے بات کی مری خدا ہوں لگ پائیں گے کبھی اب ہم جدا یہ جو مری کوکھ ہے وہ ہے وہ ہے پل رہا مل رہی ہے ہر خوشی دلدار کی اور کیا خواہش کروں سنسر کی
Hameed Sarwar Bahraichi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hameed Sarwar Bahraichi.
Similar Moods
More moods that pair well with Hameed Sarwar Bahraichi's nazm.







