عجیب سا عمل ہے یہ یہ ایک حرامی گفتگو اور ایکطرفہ ایک ایسے بے وجہ سے خیال ج سے کی شکل ہے خیال ہی ثبوت ہے
Related Nazm
مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے
Zubair Ali Tabish
19 likes
جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
کب تک خیر مناتے ہم الفت کے کوچوں سے ثابت کیسے بچکر آتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم بڑی بڑی باتیں کر دی تھیں ان پر جان لٹائیں گے حکم کریں حقیقت آسمان سے تارے بھی لے آئیں گے پر قسمت اور قدرت اک تھالی کے چٹے بٹے کھٹے تھے کوشش اپنی پوری رہتی پر انگور تو بےوقوف تھے بگڑا ڈھائیں جو ان کے منا کا ان کو چٹنی کھانی تھی بیچارا دل بیوقوف تھا کچھ اپنی نادانی تھی آزمائش سے دل کی خاطر کیا جگت سے ڈر جاتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ہم نے پوری چھیڑی لگائی م گر مئی نا مل پائی پھروں ہم نے امید چھوڑ دی خود سے نینسکھ ایک لڑائی اب باتوں ہے وہ ہے وہ نا آئیں گے ان چنو ہی بن جائیں گے ان کی جانب نا سر و ساماں نام اندھیرا کہ لائیں گے لیکن ہم تھے ساون والے اور اوپر سے دل کے چھالے چھوڑ ریوڑی ان کی خاطر ہم نے روکھی سوکھی کھائی اونٹ سو گیا تو الٹی کروٹ جمکے لی ا سے نے جمائی پڑتے اولوں ہے وہ ہے وہ اب دیکھو اپنا سر منڈواتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ادھر پری
Saurabh Mehta 'Alfaaz'
10 likes
شرطیں حقیقت ایک لمحہ جو ا سے کی مری عمیق قربت کی روشنی تھا ہماری دونوں کی زندگی تھا عجیب شرطوں پہ جل رہا ہے حقیقت لمحہ کروٹ بدل رہا ہے حقیقت کہ رہی ہے کہ مجھ سے ملنے کی آرزو جاناں جب اتنی زیادہ شدید کر لو کہ سان سے لینے ہے وہ ہے وہ مشکلیں ہوں تو مجھ کو آ کر گلے لگانا اور اپنی ساری اُکھڑتی سانسوں کی قید پریاں چھڑا لے جانا لہذا اک دن ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو بندشوں تمام اپنی اُکھڑتی سانسوں کی قید پریاں بچانے نکلا چھڑانے نکلا تو بھیڈ جانا کسے خبر تھی کہ مری سانسیں جب ایک منزل پہ جا دعائیں تو ا سے کی شرطیں نکار دیںگی حقیقت ایک لمحہ جو ا سے کی مری عمیق قربت کی روشنی تھا ہماری دونوں کی زندگی تھا انداز وصل شرطوں کو کر گیا تو ہے کسی اندھیرے ہے وہ ہے وہ مر گیا تو ہے
ZARKHEZ
4 likes
سفر کے سمے تمہاری یاد مری دل کا داغ ہے لیکن سفر کے سمے تو بے طرح یاد آتی ہوں بر سے بر سے کی ہوں عادت کا جب حساب تو پھروں بے حد ستاتی ہوں جانم بے حد ستاتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھول جاؤں م گر کیسے بھول جاؤں بھلا عذاب جاں کی حقیقت کا اپنی افسا لگ مری سفر کے حقیقت لمحے تمہاری پر حالی حقیقت بات بات مجھے بار بار سمجھانا یہ پانچ کرتے ہیں دیکھو یہ پانچ پاجامے ڈلے ہوئے ہیں قمر بند ان ہے وہ ہے وہ اور دیکھو یہ شیوباک سے ہے اور یہ ہے اولڈ اسپائ سے نہیں حضور کی جھونجل کا اب کوئی باعث یہ ڈائری ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ پتے ہیں اور نمبر اسے خیال سے بکسے کی جیب ہے وہ ہے وہ رکھنا ہے عرض حضرت غائب دماغ بن گرا کی کہ اپنے عیب کی حالت کو غیب ہے وہ ہے وہ رکھنا یہ تین کوٹ ہیں پتلون ہیں یہ ٹائیاں ہیں بندھی ہوئی ہیں یہ سب جاناں کو کچھ نہیں کرنا یہ ویلیم ہے اونٹل ہے اور ٹرپٹی نال جاناں ان کے ساتھ مری جاں ڈرنک سے ڈرنا بے حد زیادہ لگ پینا کہ کچھ لگ یاد آئی جو چھوڑنا ہے وہ ہے وہ ہوا تھا حقیقت اب دوبارہ لگ ہوں ہوں جاناں سخن
Jaun Elia
6 likes
More from Gulzar
حقیقت پل کی ساتویں سیڑھی پہ بیٹھا کہتا رہتا تھا کسی تھیلے ہے وہ ہے وہ بھر کے گر خیال اپنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دروازے پہ ہرکارے کی صورت جا کے دھڑکاتی چمکتی ہوئی بوندیں بارش کی کسی کی جیب ہے وہ ہے وہ بھر کے گلے ہے وہ ہے وہ بادلوں کا ایک مفلر ڈال کر آتا حقیقت بھیگا بھیگا سا رہتا کسی کے کان ہے وہ ہے وہ دو بالیوں سے چاند پہناتا مچھیرے کی کوئی لڑکی ا گر ملتی گرجتے بادلوں کو باندھ کر بالوں کے جوڑے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھنک کی بینی دے آتا مجھے گر کہکشاں کو بانٹنے کا حق دیا ہوتا خدا نے تو کوئی فٹ پاتھ سے بولا اے اولاد شاعر کی بے حد کھائی ہیں روکھی روٹیاں ہے وہ ہے وہ نے جو لا سکتا ہے تو اک بار کچھ سالان ہی لا کر دے
Gulzar
2 likes
دیکھو آہستہ چلو اور بھی آہستہ ذرا دیکھنا سوچ سنبھل کر ذرا پاؤں رکھنا زور سے بج نہ اٹھے پیروں کی آواز کہیں کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ٹوٹے نے کوئی جاگ نہ جائے دیکھو جاگ جائےگا کوئی خواب تو مر جائےگا
Gulzar
3 likes
حقیقت جو شاعر تھا حقیقت جو شاعر تھا چپ سا رہتا تھا بہکی بہکی سی باتیں کرتا تھا آنکھیں کانوں پہ رکھ کے سنتا تھا گنگی خاموشیوں کی آوازیں جمع کرتا تھا چاند کے سائے اور گیلی سی نور کی بوندیں روکھے روکھے سے رات کے پتے اوک ہے وہ ہے وہ بھر کے کھرکھراتا تھا سمے کے ا سے گھنیری جنگل ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچے پکے سے لمحے چنتا تھا ہاں وہی حقیقت عجیب سا شاعر رات کو اٹھ کے کہنیوں کے بل چاند کی لوٹایا چوما کرتا تھا چاند سے گر کے مر گیا تو ہے حقیقت لوگ کہتے ہیں خود کشی کی ہے
Gulzar
9 likes
क्या लिए जाते हो तुम कंधों पे यारो इस जनाज़े में तो कोई भी नहीं है, दर्द है कोई, न हसरत है, न ग़म है मुस्कुराहट की अलामत है न कोई आह का नुक़्ता और निगाहों की कोई तहरीर न आवाज़ का कतरा क़ब्र में क्या दफ़्न करने जा रहे हो? सिर्फ़ मिट्टी है ये मिट्टी- मिट्टी को मिट्टी में दफ़नाते हुए रोेते हो क्यूँ ?
Gulzar
3 likes
ایک بوچھار تھا حقیقت بے وجہ بنا برسے کسی ابر کی سہمی سی نمی سے جو بھیگو دیتا تھا ایک بوچار ہی تھا حقیقت جو کبھی دھوپ کی افشاں بھر کے دور تک سنتے ہوئے چہروں پہ اکتاتے دیتا تھا نیم تاریک سے ہال ہے وہ ہے وہ آنکھیں چمک اٹھتی تھیں سر ہلاتا تھا کبھی جھوم کے ٹہنی کی طرح لگتا تھا جھونکا ہوا کا تھا کوئی چھیڑ گیا تو ہے گنگناتا تھا تو کھلتے ہوئے بادل کی طرح مسکراہٹ ہے وہ ہے وہ کئی طربوں کی جھنکار چھپی تھی گلی قاسم سے چلی ایک غزل کی جھنکار تھا حقیقت ایک آواز کی بوچھار تھا حقیقت
Gulzar
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gulzar.
Similar Moods
More moods that pair well with Gulzar's nazm.







