nazmKuch Alfaaz

“अधूरी नज़्म” हाँ वो तो शाइ'र है , और सखी मैं मैं हूँ नज़्म उसी की एक अधूरी जो कई बरसों पहले लिखते-लिखते छूट गई उन हाथों से ही अधूरी जिन पत्थर से हाथों को नरमी से कुछ और नई नज़्मों को बुनना था उलझन के धागों को फिर सुलझा के और नए लफ़्ज़ न सिर्फ़ पिरोने थे उन को पहले से ज़्यादा तराशना था उन को और भी ज़्यादा निखारना था लेकिन मैं जो उस की पहली नज़्म हूँ क्यूँ आज अधूरेपन से बोझिल हूँ मुझ सेे नज़रे मिलते ही उस ने तो बैचेनी से भी पन्ने पलटे हैं पर इक हाथ रहा उस का मुझ पर जो बोझ नई नज़्मों का संभाले था वो ठहरता साथ एक लम्हा मेरे तो शायद मेरा हो कर रह जाता यूँँ ही अक्सर पहली मोहब्बत सी पहली नज़्म अधूरी रह जाती है क्योंकि कभी वो ख़ुद मुझ को कह न सका उस ने मुझ को सिर्फ़ लिखा है अब तक वो कह दे तो मैं पूरी हो जाऊँ उस की आवाज़ से ज़िंदा हो जाऊँ उसे पता है मैं पूरी होते ही ख़ुद से उस को पूरा कर दूँगी और अधूरी हो जाऊँगी फिर से वो भी अधूरा रह जाएगा फिर से

Related Nazm

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں

ZafarAli Memon

25 likes

دریچہ ہا خیال چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور یہ سب دریچہ ہا خیال جو تمہاری ہی سمت کھلتے ہیں بند کر دوں کچھ ا سے طرح کہ ی ہاں یاد کی اک کرن بھی آ لگ سکے چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور خود بھی لگ یاد آؤں تمہیں چنو جاناں صرف اک کہانی تھیں چنو ہے وہ ہے وہ صرف اک فسا لگ تھا

Jaun Elia

27 likes

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

More from Meenakshi Masoom

تجھ سے مل کر تجھ سے مل کر ایک دفع ہی بات ہوئی پھروں ا سے دل ہے وہ ہے وہ بےچینی دن رات ہوئی ا سے پاگل دل کی فرمائش ہے تیرا چہرہ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ بھرنے کی خواہش ہے خوابوں ہے وہ ہے وہ تیرا چہرہ آئی ہاتھوں سے ریت کی طرح فسلا جائے جاتے جاتے مری ہونٹوں پر ٹھہرے تو سارے کے سارے الفاظ لے گیا تو خنک خنک کر مجھ سے تیری باتیں کرتی تھیں ان چوڑیوں کی بھی تو آواز لے گیا تو اک مدت سے تجھے نہیں دیکھا بھلا مجھے خود کا بھی کیسے ہوش رہے پھروں سے تیری آہٹ سننے کو اب مری پائل بلکل خاموش رہے تری ہاتھوں روز سلجھنے کی چاہتیں لیے مری زلفیں الجھي الجھي رہتی ہیں تو کیا جانے کہ موسم سرما ہے وہ ہے وہ اب کیسے مری سانسیں تنہا سرد ہوائیں سہتی ہیں نبھائیے ہے وہ ہے وہ تری نام کی مہن گرا جب ہے وہ ہے وہ نے اپنے کورے آنچل پر پونچھی ا سے بات سے خفا مری ا سے آنچل نے خود پر گہرا داغ لیا تری آنے کی جھوٹی خبروں سے اکتا کر ان کانوں نے جھمکوں سے ویراغ لیا تری کپڑوں پر صرف استری کرنے کے ہی کتنے خواب لیے اپنی ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو ک

Meenakshi Masoom

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Meenakshi Masoom.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Meenakshi Masoom's nazm.