nazmKuch Alfaaz

اپنو کے بن بتائے برے دن یہ چاند یہ تارے یہ اوجھل تھے سارے تھی تنہائی تھا ماتم کچھ آنسو ہمارے ایک ا پیش سی دنیا جو تھی بے رنگ دور تھا گھر سب دور ہمارے حقیقت دن حقیقت رات کچھ فرق نہیں تھا سجائے تھی سب ب سے اندھیرا نہیں تھا تھی امید تھا حوصلہ اور چند خواب کے سہارے تیر کر پار کر دیے دریا حقیقت سارے حقیقت طعنہ حقیقت باتیں حقیقت چھوٹی سی نوکری حقیقت نہنہے سے کاندهو پر خواہش کی ٹوکری حقیقت سڑک حقیقت ن گرا اور ن گرا کے کنارے حقیقت جگنو جو سنتے تھے دکھڑے ہمارے حقیقت درد بخار اور ضرورت مری حقیقت ہر طرف دکھنا صورت تیری تھی غلطی اور مجبوری ساتھ ہمارے کاٹ ہی دیے برے دن بھی سارے یہ چاند یہ تارے یہ اوجھل تھے سارے تھی تنہائی تھا ماتم کچھ آنسو ہمارے

Related Nazm

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

वे डरते हैं किस चीज़ से डरते हैं वे तमाम धन-दौलत गोला-बारूद पुलिस-फ़ौज के बावजूद ? वे डरते हैं कि एक दिन निहत्थे और ग़रीब लोग उन सेे डरना बंद कर देंगे

Gorakh Pandey

33 likes

ا سے کی خوشیاں ساری جھیلیں سوکھ گئی ہیں ا سے کی آنکھیں سوکھ گئی ہیں پیڑوں پر پنچھی بھی چپ ہیں اس کا کا کو کوئی دکھ ہے شاید رستے سونے سونے ہیں سب ا سے نے ٹہلنا چھوڑ دیا ہے ساری غزلیں بے معنی ہیں ا سے نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے حقیقت بھی ہنسنا بھول چکی ہے گلوں نے کھلنا چھوڑ دیا ہے ساون کا موسم جاری ہے زبان ا سے کا غم جاری ہے باقی موسم ٹال دیے ہیں سکھ کوئیں ہے وہ ہے وہ ڈال دیے ہیں چاند کو چھٹی دے دی گئی ہے تاروں کو شاہد و ساقی رکھا ہے آتش دان ہے وہ ہے وہ پھینک دی خوشیاں دل ہے وہ ہے وہ ب سے اک غم رکھا ہے خا لگ پینا چھوڑ دیا ہے سب سے رشتہ توڑ دیا ہے ہاں یہ خوشگوار آنے کو ہے ا سے نے جینا چھوڑ دیا ہے ہر دل خوش ہر چہرہ خوش ہوں حقیقت ہوں خوش تو دنیا خوش ہوں حقیقت اچھی تو سب اچھا ہے اور دنیا ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے یہ سب سن کر خدا نے بولا بول تیری اب خواہش کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا مری خواہش مری خواہش ا سے کی خوشیاں خدا نے بولا تیری خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بولا ا سے کی خوشیاں ا سے کے علا

Varun Anand

30 likes

یاد ہے ایک دن مری میز پہ بیٹھے بیٹھے سگریٹ کی ڈبیا پر جاناں نے ایک سکیچ بنایا تھا آ کر دیکھو ا سے پودھے پر پھول آیا ہے

Gulzar

37 likes

More from Mayank Agarwal

حقیقت لڑکی سینے ہے وہ ہے وہ اتیت کی یادیں دباتے ہوئے اداسی چھپا رہی تھی حقیقت مسکراتے ہوئے اندر ا سے کے آنسوؤں کا سیلاب بھرا ہوا تھا ڈر رہی تھی حقیقت ا نہیں باہر لاتے ہوئے اسے دھوکہ ملا تھا محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ دوست بھی یقیناً مطلبی رہے ا سے کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بڑھایا جو ہاتھ دوستی کا حقیقت کانپ رہی تھی ہاتھ ملاتے ہوئے مکمل ملاقات ادھوری چھوڑ آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اظہار کرنے سے پہلے لب موڑ آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی ب سے یہی بات ادا سے کر گئی ا سے نے پلٹ کر نا دیکھا واپ سے جاتے ہوئے

Mayank Agarwal

7 likes

حقیقت ڈھونڈ رہی ہے بےایمانوں کی بستی ہے وہ ہے وہ حقیقت ضمیر ڈھونڈ رہی ہے سنا ہے شا گرا کے لیے شوہر امیر ڈھونڈ رہی ہے بےروخی سے اجاڑ کر زندگی دیوانے کی حقیقت ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنے وفا کی لکیر ڈھونڈ رہی ہے روحانی عشق ا سے کا مسئلہ ہی نہیں ہے حقیقت سونے کی مٹی والا شریر ڈھونڈ رہی ہے محبت کا پھروں ایک قف سے تیار کیا ہے ا سے نے اب ایک راجکمار ا سے ہے وہ ہے وہ کرنے کو ہم نوا ڈھونڈ رہی ہے یہ دولت یہ سلطنت یہ تخت و تاج میرا مدعا نہیں مری تو شاعری ہے جو مری اندر کانسا ڈھونڈ رہی ہے

Mayank Agarwal

2 likes

غلطی کرلی پیار کر کے ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ وعدوں کو در کنار کر کے ا سے نے چھوڑا ہے مجھے پیار کر کے منافقوں کے خاندان سے ہے واسطہ ا سے کا گیا تو تو ہے حقیقت اچھا ویپار کر کے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ناز تھا طبیعت پر ہماری حقیقت مسکرا رہا ہے ہمیں بیمار کر کے ایک مدت سے ہمیں سکون نہیں ہے توبہ کرلی اظہار کر کے

Mayank Agarwal

5 likes

نجم دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بر سے مجھے کچھ ہوں گیا تو تھا دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا کوئی اپنا تھا جو کھو گیا تو تھا دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش آیا تھا اسپتال کے بستر پہ کچھ پی کر جب ہے وہ ہے وہ سو گیا تو تھا دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ٹھنڈی راتیں اکیلا چاند اور ایک یاد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے کرتی رہتی ہے یہ سب برباد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ گیارہ مہینے کٹ جاتے ہیں چنو بندشوں لمبی ہوتی ہے ہر ایک رات دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا خدا بھی شاید سو جاتا ہے سنی نہیں جاتی کوئی فریاد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاڑوں کی رات اور سر گرا لگ لگے مانے جاناں لگ آؤ مجھے یاد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سب کے بعد بھی محبت ہے اسی سے ان کی آئی تھی بارات دسمبر ہے وہ ہے وہ

Mayank Agarwal

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mayank Agarwal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mayank Agarwal's nazm.