نجم دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بر سے مجھے کچھ ہوں گیا تو تھا دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا کوئی اپنا تھا جو کھو گیا تو تھا دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش آیا تھا اسپتال کے بستر پہ کچھ پی کر جب ہے وہ ہے وہ سو گیا تو تھا دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ٹھنڈی راتیں اکیلا چاند اور ایک یاد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے کرتی رہتی ہے یہ سب برباد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ گیارہ مہینے کٹ جاتے ہیں چنو بندشوں لمبی ہوتی ہے ہر ایک رات دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا خدا بھی شاید سو جاتا ہے سنی نہیں جاتی کوئی فریاد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاڑوں کی رات اور سر گرا لگ لگے مانے جاناں لگ آؤ مجھے یاد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سب کے بعد بھی محبت ہے اسی سے ان کی آئی تھی بارات دسمبر ہے وہ ہے وہ
Related Nazm
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں
ZafarAli Memon
25 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
More from Mayank Agarwal
حقیقت ڈھونڈ رہی ہے بےایمانوں کی بستی ہے وہ ہے وہ حقیقت ضمیر ڈھونڈ رہی ہے سنا ہے شا گرا کے لیے شوہر امیر ڈھونڈ رہی ہے بےروخی سے اجاڑ کر زندگی دیوانے کی حقیقت ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنے وفا کی لکیر ڈھونڈ رہی ہے روحانی عشق ا سے کا مسئلہ ہی نہیں ہے حقیقت سونے کی مٹی والا شریر ڈھونڈ رہی ہے محبت کا پھروں ایک قف سے تیار کیا ہے ا سے نے اب ایک راجکمار ا سے ہے وہ ہے وہ کرنے کو ہم نوا ڈھونڈ رہی ہے یہ دولت یہ سلطنت یہ تخت و تاج میرا مدعا نہیں مری تو شاعری ہے جو مری اندر کانسا ڈھونڈ رہی ہے
Mayank Agarwal
2 likes
حقیقت لڑکی سینے ہے وہ ہے وہ اتیت کی یادیں دباتے ہوئے اداسی چھپا رہی تھی حقیقت مسکراتے ہوئے اندر ا سے کے آنسوؤں کا سیلاب بھرا ہوا تھا ڈر رہی تھی حقیقت ا نہیں باہر لاتے ہوئے اسے دھوکہ ملا تھا محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ دوست بھی یقیناً مطلبی رہے ا سے کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بڑھایا جو ہاتھ دوستی کا حقیقت کانپ رہی تھی ہاتھ ملاتے ہوئے مکمل ملاقات ادھوری چھوڑ آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اظہار کرنے سے پہلے لب موڑ آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی ب سے یہی بات ادا سے کر گئی ا سے نے پلٹ کر نا دیکھا واپ سے جاتے ہوئے
Mayank Agarwal
7 likes
غلطی کرلی پیار کر کے ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ وعدوں کو در کنار کر کے ا سے نے چھوڑا ہے مجھے پیار کر کے منافقوں کے خاندان سے ہے واسطہ ا سے کا گیا تو تو ہے حقیقت اچھا ویپار کر کے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ناز تھا طبیعت پر ہماری حقیقت مسکرا رہا ہے ہمیں بیمار کر کے ایک مدت سے ہمیں سکون نہیں ہے توبہ کرلی اظہار کر کے
Mayank Agarwal
5 likes
اپنو کے بن بتائے برے دن یہ چاند یہ تارے یہ اوجھل تھے سارے تھی تنہائی تھا ماتم کچھ آنسو ہمارے ایک ا پیش سی دنیا جو تھی بے رنگ دور تھا گھر سب دور ہمارے حقیقت دن حقیقت رات کچھ فرق نہیں تھا سجائے تھی سب ب سے اندھیرا نہیں تھا تھی امید تھا حوصلہ اور چند خواب کے سہارے تیر کر پار کر دیے دریا حقیقت سارے حقیقت طعنہ حقیقت باتیں حقیقت چھوٹی سی نوکری حقیقت نہنہے سے کاندهو پر خواہش کی ٹوکری حقیقت سڑک حقیقت ن گرا اور ن گرا کے کنارے حقیقت جگنو جو سنتے تھے دکھڑے ہمارے حقیقت درد بخار اور ضرورت مری حقیقت ہر طرف دکھنا صورت تیری تھی غلطی اور مجبوری ساتھ ہمارے کاٹ ہی دیے برے دن بھی سارے یہ چاند یہ تارے یہ اوجھل تھے سارے تھی تنہائی تھا ماتم کچھ آنسو ہمارے
Mayank Agarwal
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mayank Agarwal.
Similar Moods
More moods that pair well with Mayank Agarwal's nazm.







