حقیقت ڈھونڈ رہی ہے بےایمانوں کی بستی ہے وہ ہے وہ حقیقت ضمیر ڈھونڈ رہی ہے سنا ہے شا گرا کے لیے شوہر امیر ڈھونڈ رہی ہے بےروخی سے اجاڑ کر زندگی دیوانے کی حقیقت ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنے وفا کی لکیر ڈھونڈ رہی ہے روحانی عشق ا سے کا مسئلہ ہی نہیں ہے حقیقت سونے کی مٹی والا شریر ڈھونڈ رہی ہے محبت کا پھروں ایک قف سے تیار کیا ہے ا سے نے اب ایک راجکمار ا سے ہے وہ ہے وہ کرنے کو ہم نوا ڈھونڈ رہی ہے یہ دولت یہ سلطنت یہ تخت و تاج میرا مدعا نہیں مری تو شاعری ہے جو مری اندر کانسا ڈھونڈ رہی ہے
Related Nazm
''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए
Amir Ameer
295 likes
"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी
Tehzeeb Hafi
236 likes
رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا
Jaun Elia
216 likes
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضروری بات کہنی ہوں کوئی وعدہ نبھانا ہوں اسے آواز دینی ہوں اسے واپ سے بلانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدد کرنی ہوں ا سے کی یار کی ڈھار سے باندھنا ہوں بے حد دیری لگ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے موسموں کی سیر ہے وہ ہے وہ دل کو لگانا ہوں کسی کو یاد رکھنا ہوں کسی کو بھول جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوں حقیقت اور تھی کچھ ا سے کو جا کے یہ بتانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ
Muneer Niyazi
108 likes
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے
Tehzeeb Hafi
180 likes
More from Mayank Agarwal
حقیقت لڑکی سینے ہے وہ ہے وہ اتیت کی یادیں دباتے ہوئے اداسی چھپا رہی تھی حقیقت مسکراتے ہوئے اندر ا سے کے آنسوؤں کا سیلاب بھرا ہوا تھا ڈر رہی تھی حقیقت ا نہیں باہر لاتے ہوئے اسے دھوکہ ملا تھا محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ دوست بھی یقیناً مطلبی رہے ا سے کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بڑھایا جو ہاتھ دوستی کا حقیقت کانپ رہی تھی ہاتھ ملاتے ہوئے مکمل ملاقات ادھوری چھوڑ آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اظہار کرنے سے پہلے لب موڑ آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی ب سے یہی بات ادا سے کر گئی ا سے نے پلٹ کر نا دیکھا واپ سے جاتے ہوئے
Mayank Agarwal
7 likes
غلطی کرلی پیار کر کے ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ وعدوں کو در کنار کر کے ا سے نے چھوڑا ہے مجھے پیار کر کے منافقوں کے خاندان سے ہے واسطہ ا سے کا گیا تو تو ہے حقیقت اچھا ویپار کر کے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ناز تھا طبیعت پر ہماری حقیقت مسکرا رہا ہے ہمیں بیمار کر کے ایک مدت سے ہمیں سکون نہیں ہے توبہ کرلی اظہار کر کے
Mayank Agarwal
5 likes
اپنو کے بن بتائے برے دن یہ چاند یہ تارے یہ اوجھل تھے سارے تھی تنہائی تھا ماتم کچھ آنسو ہمارے ایک ا پیش سی دنیا جو تھی بے رنگ دور تھا گھر سب دور ہمارے حقیقت دن حقیقت رات کچھ فرق نہیں تھا سجائے تھی سب ب سے اندھیرا نہیں تھا تھی امید تھا حوصلہ اور چند خواب کے سہارے تیر کر پار کر دیے دریا حقیقت سارے حقیقت طعنہ حقیقت باتیں حقیقت چھوٹی سی نوکری حقیقت نہنہے سے کاندهو پر خواہش کی ٹوکری حقیقت سڑک حقیقت ن گرا اور ن گرا کے کنارے حقیقت جگنو جو سنتے تھے دکھڑے ہمارے حقیقت درد بخار اور ضرورت مری حقیقت ہر طرف دکھنا صورت تیری تھی غلطی اور مجبوری ساتھ ہمارے کاٹ ہی دیے برے دن بھی سارے یہ چاند یہ تارے یہ اوجھل تھے سارے تھی تنہائی تھا ماتم کچھ آنسو ہمارے
Mayank Agarwal
2 likes
نجم دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بر سے مجھے کچھ ہوں گیا تو تھا دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا کوئی اپنا تھا جو کھو گیا تو تھا دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش آیا تھا اسپتال کے بستر پہ کچھ پی کر جب ہے وہ ہے وہ سو گیا تو تھا دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ٹھنڈی راتیں اکیلا چاند اور ایک یاد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے کرتی رہتی ہے یہ سب برباد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ گیارہ مہینے کٹ جاتے ہیں چنو بندشوں لمبی ہوتی ہے ہر ایک رات دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا خدا بھی شاید سو جاتا ہے سنی نہیں جاتی کوئی فریاد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاڑوں کی رات اور سر گرا لگ لگے مانے جاناں لگ آؤ مجھے یاد دسمبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سب کے بعد بھی محبت ہے اسی سے ان کی آئی تھی بارات دسمبر ہے وہ ہے وہ
Mayank Agarwal
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mayank Agarwal.
Similar Moods
More moods that pair well with Mayank Agarwal's nazm.







