nazmKuch Alfaaz

عورت کی زندگی کبھی کبھی دل کی بات بھی بتا نہیں پاتے سب کی سننے ہے وہ ہے وہ اپنی ہی سنا نہیں پاتے سجا کر رکھتے ہیں ج سے گھر کی دیواروں کو ا سے گھر ہے وہ ہے وہ ہی کھلکر مسکرا نہیں پاتے عجیب زندگی ہے عورت کی بھی ماں باپ کے گھر ہے وہ ہے وہ اپنی جگہ بنا نہیں پاتے ج سے گھر کو چنا ہے تقدیر نے ہمارے لیے ا سے گھر ہے وہ ہے وہ جا کر گھونگھٹ اٹھا نہیں پاتے اب کون دیکھتا ہے چہرے پہ غم ہے یا خوشی سب کے سامنے آنسو بھی اب بہا نہیں پاتے

Related Nazm

ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت

Varun Anand

475 likes

''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए

Amir Ameer

295 likes

"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी

Tehzeeb Hafi

236 likes

رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا

Jaun Elia

216 likes

یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں

Khalil Ur Rehman Qamar

191 likes

More from Muskan Singh

اتنی سی اجازت تری درد کو اپنا بنا لوں اتنی سی اجازت دو تری زخموں پر مرہم لگا دوں اتنی سی اجازت دو تری خوابوں کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ سزا لوں تری یادوں کو دل ہے وہ ہے وہ بسا لوں اتنی سی اجازت دو تیری راتوں کو اپنی رات بنا لوں تجھے آخری ملاقات بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے آنکھوں کا کاجل بنا لوں تجھے گھنگرو والی پائل بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے دھڑکن کی تار بنا لوں تجھے زندگی کا سار بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے سفر کا منزل بنا لوں تجھے کندھے کا تل بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے ہونٹوں کا مسکان بنا لوں تجھے اپنی پہچان بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے اپنی زندگی کا حصہ بنا لوں تجھے اپنی کتاب کا قصہ بنا لوں اتنی سی اجازت دو

Muskan Singh

6 likes

آن لائن کی دنیا اجنبی تو ہم بھی تھے لیکن زمانے کے لیے اسے صرف اپنا سمجھا اپنا بنانے کے لیے بات بات ہے وہ ہے وہ روٹھ کر خفا ہوں جاتا تھا و الا مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بے حد کوشش کی روٹھے یار کو منانے کے لیے اور ی ہاں سمجھتا کوئی نہیں سچی محبت کو دل کھول کر رکھ دیا,اسے حال دل سنہانے کے لیے پھروں بھی نہیں سمجھ پایا حقیقت مری دل ہے وہ ہے وہ جذبات کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی اب اسے چھوڑ دیا زمانے کی ٹھوکر خانے کے لیے محبت ہے وہ ہے وہ تھوڑا سا झुकना,تھوڑا ٹوٹنا ضروری ہے لیکن ہر بار نہیں گر سکتی صرف ایک کو اٹھانے کے لیے بے حد ملیںگے راہ ہے وہ ہے وہ مسافر سفر ابھی تو شروع ہوا بے حد آئیں گے بے حد جائیں گے مجھے بھی کے لیے کبھی بھی گر کر پیار مت کرنا کسی سے اے دوستو ی ہاں لوگ بھروسا بھی توڑتے ہے صرف ہوں سے مٹانے کے لیے ا گر محبت سچی ہوں تو دور تک پاکیزگی نظر آوےگی عشق دل ورنا فریب عشق کرتے ہے لوگ صرف سمے نکالنے کے لیے گر ف سے جاؤ کبھی ایسے جنجال ہے وہ ہے وہ تو پھروں قدم پیچھے کر لینا آپ کی زندگی بچانے ک

Muskan Singh

3 likes

جاناں خوشی ہوں مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا تری لب پر ہیں ہنسی مری حقیقت بولی مت بڑھاو بےچینی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا شہزا گرا مول کیا میرا حقیقت بولی شہزادہ زندگی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا تیرگی ہر سو زیادہ ہیں حقیقت بولی پھیلانے دو روشنی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا ہجر ہے وہ ہے وہ کیسے جیوگے جاناں حقیقت بولی رک جائے گی سان سے مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا خواب ک سے کے دیکھتے ہوں حقیقت بولی آنکھ دیکھو کبھی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا کیوں بےچین رہتے تو جاناں حقیقت بولی قہر ہے دل کی لگی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا جاناں سخن ہی شہزا گرا ہوں حقیقت بولی جاناں شاعری ہوں مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا زندگی پر غم کے سائے ہیں حقیقت بولی جاناں ہر خوشی ہوں مری

Muskan Singh

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Muskan Singh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Muskan Singh's nazm.