nazmKuch Alfaaz

آن لائن کی دنیا اجنبی تو ہم بھی تھے لیکن زمانے کے لیے اسے صرف اپنا سمجھا اپنا بنانے کے لیے بات بات ہے وہ ہے وہ روٹھ کر خفا ہوں جاتا تھا و الا مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بے حد کوشش کی روٹھے یار کو منانے کے لیے اور ی ہاں سمجھتا کوئی نہیں سچی محبت کو دل کھول کر رکھ دیا,اسے حال دل سنہانے کے لیے پھروں بھی نہیں سمجھ پایا حقیقت مری دل ہے وہ ہے وہ جذبات کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی اب اسے چھوڑ دیا زمانے کی ٹھوکر خانے کے لیے محبت ہے وہ ہے وہ تھوڑا سا झुकना,تھوڑا ٹوٹنا ضروری ہے لیکن ہر بار نہیں گر سکتی صرف ایک کو اٹھانے کے لیے بے حد ملیںگے راہ ہے وہ ہے وہ مسافر سفر ابھی تو شروع ہوا بے حد آئیں گے بے حد جائیں گے مجھے بھی کے لیے کبھی بھی گر کر پیار مت کرنا کسی سے اے دوستو ی ہاں لوگ بھروسا بھی توڑتے ہے صرف ہوں سے مٹانے کے لیے ا گر محبت سچی ہوں تو دور تک پاکیزگی نظر آوےگی عشق دل ورنا فریب عشق کرتے ہے لوگ صرف سمے نکالنے کے لیے گر ف سے جاؤ کبھی ایسے جنجال ہے وہ ہے وہ تو پھروں قدم پیچھے کر لینا آپ کی زندگی بچانے ک

Related Nazm

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

"कब" कब ये पेड़ हरे होंगे फिर से कब ये कलियाँ फूटेंगी और ये फूल हसेंगे कब ये झरने अपनी प्यास भरेंगे कब ये नदियाँ शोर मचाएँगी कब ये आज़ाद किए जाएँगे सब पंछी कब जंगल साँसे लेंगे कब सब जाएँगे अपने घर कब हाथों से ज़ंजीरें खोली जाएँगी कब हम ऐसों को पूछेगा कोई और ये फ़क़ीरों को भी क़िस्से में लाया जाएगा कब इन काँटों की भी क़ीमत होगी और मिट्टी सोने के भाव में आएगी कब लोगों की ग़लती टाली जाएगी कब ये हवाएँ पायल पहने झूमेगी कब अंबर से परियाँ उतरेंगी कब पत्थरों से भी ख़ुशबू आएगी कब हंसों के जोड़ें नदियों पे बैठेंगे बरखा गीत बनाएगी और मोर उठा के पर कत्थक करते देखे जाएँगे नीलकमल पानी से इश्क़ लड़ाएंगे मछलियाँ ख़ुशी के गोते मारेंगी कब कोयल की कूक सुनाई देगी कब भॅंवरे फिर गुन- गुन करते लौटेंगे बागों में और कब ये प्यारी तितलियाँ कलर फेकेंगी फिर सब कुछ डूबा होगा रंगों में कब ये दुनिया रौशन होगी कब ये जुगनू अपने रंग में आएँगे कब ये सब मुमकिन है कब सबके ही सपने पूरे होंगे कब अपने मन के मुताबिक़ होगा सब कुछ कब ये बहारें लोटेंगी कब वो तारीख़ आएगी बस मुझ को ही नहीं सब को इंतिज़ार है तेरे ' बर्थडे ' का

BR SUDHAKAR

16 likes

بھارت کے اے سپوتو ہمت د کھائے جاؤ دنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤ مردہ دلی کا اڑے پھینکو زمین پر جاناں زندہ دلی کا ہر سو پرچم زلف یار جاؤ لاؤ لگ بھول کر بھی دل ہے وہ ہے وہ خیال پستی خوش حالی وطن کا بیڑا اٹھائے جاؤ تن من مٹائے جاؤ جاناں نام قومیت پر راہ وطن ہے وہ ہے وہ اپنی جانیں لڑائے جاؤ کم ہمتی کا دل سے نام و نشاں مٹا دو جرأت کا لوح دل پر نقشہ جمائے جاؤ اے ہندوو مسلماناں آپ سے ہے وہ ہے وہ ان دنوں جاناں خوبصورت گھٹائے جاؤ الفت دیش دروہی جاؤ بکرم کی راج نیتی یاد خدا کی پالیسی کی سارے ج ہاں کے دل پر عظمت بٹھائے جاؤ ج سے کش مکش نے جاناں کو ہے ا سے دودمان مٹایا جاناں سے ہوں ج سے دودمان جاناں ا سے کو مٹائے جاؤ جن خا لگ جنگیوں نے یہ دن تمہیں د کھائے اب ان کی یاد اپنے دل ہے وہ ہے وہ بھلائے جاؤ بے خوف گائے جاؤ ہندوستان ہمارا اور وندے ماترم کے نعرے لگائے جاؤ جن دیش سیوکوں سے حاصل ہے فیض جاناں کو ان دیش سیوکوں کی جے جے منائے جاؤ ج سے ملک کا ہوں کھاتے دن رات آب و دا لگ ا سے ملک پر سروں کی بھیٹیں چڑھائے جاؤ پھانسی کا جیل کا

Lal Chand Falak

14 likes

ترک عشق سنو پریمکا اوئے انامیکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے نہیں لکھتا لکھتے ہوں گے جو لکھتے ہوں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں لکھتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں لکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں بکنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ میرا من کرتا ہے جاناں میری گیت ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو میری غزل ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری کویتا ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری نجم ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں جانوں جب ہے وہ ہے وہ تمہیں نہیں لکھتا اور ہے وہ ہے وہ کیوں لکھوں تمہارے لیے کیا کیا ہے جاناں نے ہمارے لیے وہی سمجھداری بھری باتیں جو جاناں ہمیشہ سے کرتی آئی ہوں جب بھی ملتی سمجھداری بھری باتیں کرتی اور ہے وہ ہے وہ پاگلوں کی طرح تمہاری ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ 9 ہی چپ رہتا تھا کیونکہ کبھی تو جواب نہیں ہوتے تھے اور کبھی ہے وہ ہے وہ سنکوچ جاتا مگر جاناں کرتی تھی کیوں ن

Rakesh Mahadiuree

22 likes

ا سے کی خوشیاں ساری جھیلیں سوکھ گئی ہیں ا سے کی آنکھیں سوکھ گئی ہیں پیڑوں پر پنچھی بھی چپ ہیں اس کا کا کو کوئی دکھ ہے شاید رستے سونے سونے ہیں سب ا سے نے ٹہلنا چھوڑ دیا ہے ساری غزلیں بے معنی ہیں ا سے نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے حقیقت بھی ہنسنا بھول چکی ہے گلوں نے کھلنا چھوڑ دیا ہے ساون کا موسم جاری ہے زبان ا سے کا غم جاری ہے باقی موسم ٹال دیے ہیں سکھ کوئیں ہے وہ ہے وہ ڈال دیے ہیں چاند کو چھٹی دے دی گئی ہے تاروں کو شاہد و ساقی رکھا ہے آتش دان ہے وہ ہے وہ پھینک دی خوشیاں دل ہے وہ ہے وہ ب سے اک غم رکھا ہے خا لگ پینا چھوڑ دیا ہے سب سے رشتہ توڑ دیا ہے ہاں یہ خوشگوار آنے کو ہے ا سے نے جینا چھوڑ دیا ہے ہر دل خوش ہر چہرہ خوش ہوں حقیقت ہوں خوش تو دنیا خوش ہوں حقیقت اچھی تو سب اچھا ہے اور دنیا ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے یہ سب سن کر خدا نے بولا بول تیری اب خواہش کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا مری خواہش مری خواہش ا سے کی خوشیاں خدا نے بولا تیری خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بولا ا سے کی خوشیاں ا سے کے علا

Varun Anand

30 likes

More from Muskan Singh

اتنی سی اجازت تری درد کو اپنا بنا لوں اتنی سی اجازت دو تری زخموں پر مرہم لگا دوں اتنی سی اجازت دو تری خوابوں کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ سزا لوں تری یادوں کو دل ہے وہ ہے وہ بسا لوں اتنی سی اجازت دو تیری راتوں کو اپنی رات بنا لوں تجھے آخری ملاقات بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے آنکھوں کا کاجل بنا لوں تجھے گھنگرو والی پائل بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے دھڑکن کی تار بنا لوں تجھے زندگی کا سار بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے سفر کا منزل بنا لوں تجھے کندھے کا تل بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے ہونٹوں کا مسکان بنا لوں تجھے اپنی پہچان بنا لوں اتنی سی اجازت دو تجھے اپنی زندگی کا حصہ بنا لوں تجھے اپنی کتاب کا قصہ بنا لوں اتنی سی اجازت دو

Muskan Singh

6 likes

عورت کی زندگی کبھی کبھی دل کی بات بھی بتا نہیں پاتے سب کی سننے ہے وہ ہے وہ اپنی ہی سنا نہیں پاتے سجا کر رکھتے ہیں ج سے گھر کی دیواروں کو ا سے گھر ہے وہ ہے وہ ہی کھلکر مسکرا نہیں پاتے عجیب زندگی ہے عورت کی بھی ماں باپ کے گھر ہے وہ ہے وہ اپنی جگہ بنا نہیں پاتے ج سے گھر کو چنا ہے تقدیر نے ہمارے لیے ا سے گھر ہے وہ ہے وہ جا کر گھونگھٹ اٹھا نہیں پاتے اب کون دیکھتا ہے چہرے پہ غم ہے یا خوشی سب کے سامنے آنسو بھی اب بہا نہیں پاتے

Muskan Singh

4 likes

جاناں خوشی ہوں مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا تری لب پر ہیں ہنسی مری حقیقت بولی مت بڑھاو بےچینی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا شہزا گرا مول کیا میرا حقیقت بولی شہزادہ زندگی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا تیرگی ہر سو زیادہ ہیں حقیقت بولی پھیلانے دو روشنی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا ہجر ہے وہ ہے وہ کیسے جیوگے جاناں حقیقت بولی رک جائے گی سان سے مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا خواب ک سے کے دیکھتے ہوں حقیقت بولی آنکھ دیکھو کبھی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا کیوں بےچین رہتے تو جاناں حقیقت بولی قہر ہے دل کی لگی مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا جاناں سخن ہی شہزا گرا ہوں حقیقت بولی جاناں شاعری ہوں مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بولا زندگی پر غم کے سائے ہیں حقیقت بولی جاناں ہر خوشی ہوں مری

Muskan Singh

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Muskan Singh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Muskan Singh's nazm.