nazmKuch Alfaaz

دسمبر کا مہی لگ اور دہلی کی سر گرا ستاروں کی جھلملا تی جھرمٹ سے پرے آسمان کے ایک سنسان گوشے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پونم کا ٹھٹھرتا ہوا کوئی چاند چنو بادلوں ہے وہ ہے وہ تقاضا ہے متواتر ہچکولے ہولے ہولے تنہا مسافر اور دور تک کوہرے کی چادر ہے وہ ہے وہ لپٹی بل کھاتی سڑکیں دھند کی غمدیدہ ہے وہ ہے وہ کھویا ہوا انڈیا گیٹ ٹھنڈ ہے وہ ہے وہ ٹھوکریں تقاضا مسافر خوش نصیب ہے بادلوں ہے وہ ہے وہ گھ سے جاتا ہے چاند مری ماہ جون کی رونقیں پھیلی ہیں تمام ستاروں سے روشن سجے دھجے بازار ہم چشم خانوں کی خوشبوئیں ج ہاں پھیلی ہیں ہر سو بازار کی گرم فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مے کی سرمستی ہے وہ ہے وہ ڈوبا ہوا ہے ملائے گا شہر کا شباب تنہا مسافر کی چند روزہ مسافت بھی کیا اجازت ہے یاروں ہم وطنوں سے دور اپنوں سے دور جمنا تٹ پر چنو بن ماجھی کے ناو بوٹ کلب کے سرد پانی ہے وہ ہے وہ چنو تیرتا رکتا ہوا کوئی تنہا حباب تنہا مسافر سوچتا ہے کوئی ہے ج سے کا حقیقت ہاتھ تھام لے ہولے ہولے کوئی ہے جو ا سے کے ساتھ کچھ دور چلے ہولے ہولے دھند ہے وہ ہے وہ کھو

Related Nazm

تمام رات ستاروں سے بات رہتی تھی کہ صبح ہوتے ہی گھر سے پھول آتے تھے حقیقت ک سے کے نقش ابھرتے تھے تیغ پر اپنی حقیقت ک سے خیال ہے وہ ہے وہ ہم جنگ جیت جاتے تھے ہمیں بھی قحط ہے وہ ہے وہ ایک چشمہ زر میسر تھی کوئی ہتھیلیاں بھر بھر کے مے پلاتا تھا بھرا ہوا تھا سمندر انہی خزانو سے نکال لیتے تھے جو خواب را سے آتا تھا حقیقت مری ساتھ رہا کرتا خوشدلی سے بے حد کہ ان دنوں میرا دنیا پر ہاتھ پڑتا تھا ہماری جیب بھری رہتی داستانو سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خیال کا جنگل بھی ساتھ پڑتا تھا حقیقت سارے دن کا تھکا خوابگاہ ہے وہ ہے وہ آتا تھپک تھپک کے سلاتا تو ہاتھ سو جاتے نسیم صبح کسی لہر ہے وہ ہے وہ جگاتی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور اٹھتے اٹھتے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن کے ایک ہوں جاتے سروں سے کھینچ لیا سمے نے وفا کا لحاف حقیقت پردے اٹھ گئے جو تاینات رہتے تھے بچھڑ گیا تو ہے حقیقت سنگین موسموں ہے وہ ہے وہ کہی حقیقت مری دل پر صدا ج سے کے ہاتھ رہتے تھے حقیقت بو گل ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے گلستاں ہے وہ ہے وہ لائی تھی و ہاں بھی جا کے ا سے کا نشان دیکھ لیا<b

Tehzeeb Hafi

46 likes

غصہ کر گیا تو ساون کا مہی لگ حقیقت چلتی سہانی ہوا اور ا سے ہوا ہے وہ ہے وہ اڑتے اولیں دوپٹے اور لہراتے گھنگھریالے بھورے بالوں کے بیچ سے جھانکتا حقیقت خوبصورت روحانی چہرہ اور ا سے مانگوں دیسی چہرے پر بڑی صداقت اور نزاکت کے ساتھ سجے ان مخملی اولیں ہونٹوں کا ہولے سے یہ کہنا اجی سنتے ہوں غصہ کر گیا تو

Alankrat Srivastava

6 likes

ہے وہ ہے وہ نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت نغمہ ہوں جسے پیار کی محفل نہ ملی حقیقت مسافر ہوں جسے کوئی بھی منزل نہ ملی زخم پائے ہیں بہاروں کی تمنا کی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی کسی گیسو کسی آنچل کا سہارا بھی نہیں راستے ہے وہ ہے وہ کوئی دھندلا سا ستارہ بھی نہیں میری نظروں نے نظاروں کی تمنا کی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی دل ہے وہ ہے وہ ناکام امیدوں کے بسیرے پائے روشنی لینے کو نکلا تو اندھیرے پائے رنگ اور نور کے دھاروں کی تمنا کی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی میری راہوں سے جدا ہوں گئیں راہیں ان کی آج جستجو دل شکستہ نظر آتی ہیں نگاہیں ان کی جن سے ای سے دل نے سہاروں کی تمنا کی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی پیار مانگا تو سسکتے ہوئے ارمان ملے چین چاہا تو امڈتے ہوئے طوفان ملے ڈوبتے دل نے کناروں کی تمنا کی تھی ہے وہ ہے

Sahir Ludhianvi

9 likes

ا سے ترنگے کا ہر اک دھاگا ا سے ترنگے کا ہر اک دھاگا یہ کہ کر رو پڑا ہے حقیقت پڑا ہے جو دھرا پر حقیقت مری گھٹاتے سے بڑا ہے ا سے ترنگے کا ہر اک دھاگا حقیقت پتا جو پتر سے سنتا تھا سب ویروں کے قصے آج ا سے کی ویرتا پر گرو سے تھا گدگدایا اور حقیقت ماں جو کھڑی تھی اشرو نینوں ہے وہ ہے وہ سنجو کر ا سے نے اپنے دودھ سے ماٹی کا سارا رن چکایا حقیقت بہن جو سوچتی تھی آئےگا راکھی بندھانے بھائی خود لگ آ سکا آیا تو کیول کرانے ہی آیا پتی ج سے کی مانگ ہے وہ ہے وہ ج سے نے جڑے تھے خود ستارے تم آج حقیقت خود ہی ستارہ بن ستاروں ہے وہ ہے وہ سمایا اور حقیقت بھائی بڑا جس کا لکھن سا تھا انوج تو آج خود ہی کہ رہا ہے ویر تو سب سے بڑا ہے ا سے ترنگے کا ہر اک دھاگا یہ کہ کر رو پڑا ہے حقیقت پڑا ہے جو دھرا پر حقیقت مری گھٹاتے سے بڑا ہے ا سے ترنگے کا ہر اک دھاگا

Divyansh Potter "Masoom"

2 likes

कुछ शोख़ इशारों से दरिया के किनारों से इन चाँद सितारों से कोई नज़्म नहीं बनती कुछ शोख़ इशारे.. 'तुम' दरिया के किनारे ...'तुम' ये चाँद सितारे तुम' लो नज़्म हुई जानाँ !!

Swapnil Tiwari

3 likes

More from Perwaiz Shaharyar

بڑا شہر اور تنہا آدمی دسمبر کا مہی لگ اور دہلی کی سر گرا ستاروں کی جھلملا تی جھرمٹ سے پرے آسمان کے ایک سنسان گوشے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پونم کا ٹھٹھرتا ہوا کوئی چاند چنو بادلوں ہے وہ ہے وہ تقاضا ہے متواتر ہچکولے ہولے ہولے تنہا مسافر اور دور تک کوہرے کی چادر ہے وہ ہے وہ لپٹی بل کھاتی سڑکیں دھند کی غمدیدہ ہے وہ ہے وہ کھویا ہوا انڈیا گیٹ ٹھنڈ ہے وہ ہے وہ ٹھوکریں تقاضا مسافر خوش نصیب ہے بادلوں ہے وہ ہے وہ گھ سے جاتا ہے چاند مری ماہ جون کی رونقیں پھیلی ہیں تمام ستاروں سے روشن سجے دھجے بازار ہم چشم خانوں کی خوشبوئیں ج ہاں پھیلی ہیں ہر سو بازار کی گرم فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مے کی سرمستی ہے وہ ہے وہ ڈوبا ہوا ہے ملائے گا شہر کا شباب تنہا مسافر کی چند روزہ مسافت بھی کیا اجازت ہے یاروں ہم وطنوں سے دور اپنوں سے دور جمنا تٹ پر چنو بن ماجھی کے ناو بوٹ کلب کے سرد پانی ہے وہ ہے وہ چنو تیرتا رکتا ہوا کوئی تنہا حباب تنہا مسافر سوچتا ہے کوئی ہے ج سے کا حقیقت ہاتھ تھام لے ہولے ہولے کوئی ہے جو ا سے کے ساتھ کچھ دور چلے ہولے

Perwaiz Shaharyar

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Perwaiz Shaharyar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Perwaiz Shaharyar's nazm.