nazmKuch Alfaaz

غصہ کر گیا تو ساون کا مہی لگ حقیقت چلتی سہانی ہوا اور ا سے ہوا ہے وہ ہے وہ اڑتے اولیں دوپٹے اور لہراتے گھنگھریالے بھورے بالوں کے بیچ سے جھانکتا حقیقت خوبصورت روحانی چہرہ اور ا سے مانگوں دیسی چہرے پر بڑی صداقت اور نزاکت کے ساتھ سجے ان مخملی اولیں ہونٹوں کا ہولے سے یہ کہنا اجی سنتے ہوں غصہ کر گیا تو

Related Nazm

نجم اک بر سے اور کٹ گیا تو شریک روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا غصہ ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا

Shariq Kaifi

46 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

سزا ہر بار مری سامنے آتی رہی ہوں جاناں ہر بار جاناں سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتی ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں ہے وہ ہے وہ خود بھی نہیں جانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مجھ کو جان کر ہی پڑی ہوں عذاب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے طرح خود اپنی سزا بن گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں ج سے زمین پر ہوں ہے وہ ہے وہ ا سے کا خدا نہیں پ سے سر بسر اذیت و الا آزار ہی رہو بیزار ہوں گئی ہوں بے حد زندگی سے جاناں جب ب سے ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو جاناں کو ی ہاں کے سایہ و الا پرتو سے کیا غرض جاناں اپنے حق ہے وہ ہے وہ بیچ کی دیوار ہی رہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ یعنی سے بےمہر ہی رہا جاناں انتہا عشق کا گاہے ہی رہو جاناں خون تھوکتی ہوں یہ سن کر خوشی ہوئی ا سے رنگ ا سے ادا ہے وہ ہے وہ بھی سخن ساز ہی رہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا محبت ہے وہ ہے وہ ہے نجات ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو اپنی متا ناز لٹا کر مری لیے بازار التفات ہے وہ ہے وہ نادار

Jaun Elia

44 likes

بھول جاؤں گا محبت کے سارے ستم بھول جاؤں گا نبھے گی سے زخموں کے مرہم بھول جاؤں گا مانا ٹوٹا ہوں پر تو نے سوچا بھی کیسے کے تجھ کو میں میرے صنم بھول جاؤں گا تیرا لہروں سا چلنا ذہن میں بسا ہے ان آنکھوں کی کیسے شرم بھول جاؤں گا چلو نا ہوش رہا کے شروعات کیسے ہوئی کیسے کب ہوا میں ختم بھول جاؤں گا مانا ٹوٹا ہوں پر تو نے سوچا بھی کیسے تیری پائل کا شور جیسے شہنائی کوئی جو پاق لگے وہ قدم بھول جاؤں گا وہ سادگی تیری جو نظریں تک نا ملیں ہنسکر سہ گیا جو میں غم بھول جاؤں گا مانا ٹوٹا ہوں پر تو نے سوچا بھی کیسے ہم جدا نہیں بس فاصلے دورانیاں ہیں تجھے یاد کر ہر جنم بھول جاؤں گا پیار ملتا نہیں جیتے جی یہ سنا ہے میں بےہوشی میں یہ بھرم بھول جاؤں گا مانا ٹوٹا ہوں پر تو نے سوچا بھی کیسے

Rohit tewatia 'Ishq'

10 likes

سفید بیک سمے تھی جاناں سیڑھیوں پہ بیٹھے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کلا سے سے نکلی تھی مسکراتے ہوئے ہماری پہلی ملاقات یاد ہے نا تمہیں اشارے کرتے تھے جاناں مجھ کو آتے جاتے ہوئے تمام رات کو آنکھیں لگ بھولتی تھیں مجھے کہ جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری لیے عزت اور نظیر و دیکھے مجھے یہ دنیا بیابان تھی م گر اک دن جاناں ایک بار دیکھے اور بےشمار دیکھے مجھے یہ ڈر تھا کہ جاناں بھی کہی حقیقت ہی تو نہیں جو جسم پر ہی تمنا کے داغ چھوڑتے ہیں خدا کا شکر کہ جاناں ان سے مختلف نکلے جو پھول توڑ کے نبھائیے ہے وہ ہے وہ باغ چھوڑتے ہیں زیادہ سمے لگ گزرا تھا ا سے مقدم کو کہ ا سے کے بعد حقیقت لمحہ کریں کریں آیا چھوا تھا جاناں نے مجھے اور مجھے محبت پر یقین آیا تھا لیکن کبھی نہیں آیا پھروں ا سے کے بعد میرا نقشہ سکوت گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کش مکش ہے وہ ہے وہ تھی جاناں مری کون لگتے ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ امرتا تمہیں سوچوں تو مری ساحر ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ فاریحہ تمہیں دیکھوں تو جان لگتے ہوں ہم ایک ساتھ رہے اور ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پتا لگ چلا تعلقات کی حد بندیاں

Tehzeeb Hafi

92 likes

More from Alankrat Srivastava

क्या एक भी तुम को भाता था - २ बात बस कुछ यूँ है कि एक मुद्दत से शे'र नहीं कहा गया शे'र नहीं सुना गया बस एक ख़याल जो मन में बुन रहा था वो कुछ कुछ इस तरह था की वो ख़त जो तेरे नाम लिखे वो बातें जो तेरे हक़ में हैं वो शे'र जो तेरी खिदमत में मैं अब तक सब को सुनाता था सच-सच कहना उन में से क्या एक भी तुम को भाता था?

Alankrat Srivastava

6 likes

ساون کی بارش بچانے کو سبھی دانَو و الا دیووں کو دھرا کے جیؤ جنتو کو ن گرا پیڑوں کو پہاڑ کو اسی ساون مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہلاہل تھا پیا ش یوں نے اسی بارے ہے وہ ہے وہ پھروں جب جب ستی ماں سوچتی ہوںگی تو اک دو بوند آنسو کی چھلک جاتی ہی ہوںگی سو ساون کی یہ بارش کچھ نہیں ہے ب سے انہی کے آنکھ سے ٹپکی ہوئی آنسو کی اندھیرا ہیں لڈک کر جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر آ گری ہیں

Alankrat Srivastava

2 likes

جاناں میرا دن بھی تمہیں ہوں تمہیں شام بھی میرا اللہ بھی جاناں ہوں تمہیں رام بھی تن میرا ہے م گر ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہتے ہوں جاناں رکت کی دہمنیوں ہے وہ ہے وہ بھی بہتے ہوں جاناں دل کی دھڑکن بھی جاناں ہوں تمہیں سان سے ہوں جاناں بے حد خوبصورت سا احسا سے ہوں مری چنچل سے من کی تمہیں میت ہوں جو بجے ہے ہردیہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سنگیت ہوں دن دنیا کے ا سے شور سے بھاگ کر دن دوپہری ہے وہ ہے وہ اور رات ہے وہ ہے وہ جاگ کر گڑھ رہا ہوں جسے حقیقت اپنیا سے ہوں جاناں بے حد خوبصورت سا احسا سے ہوں

Alankrat Srivastava

3 likes

क्या एक भी तुम को भाता था - १ हम में तो थे ऐब बहुत सो तुम को पसंद आए नहीं हम भी इतने पागल थे जो आज तलक पछताए नहीं पर वो लड़का जो कॉलेज में , तेरे पीछे पीछे रहता था वो दूजा जो प्यार से तुम को, अपनी बाबू शोना कहता था तीसरा वाला, जो तुम को अक्सर कैंटीन घुमाया करता था और चौथा जो कभी-कबार तेरा समान उठाया करता था अच्छा वो आख़िर वाला, जो घर तक छोड़ कर आता था सच-सच कहना उन में से क्या, एक भी तुम को भाता था?

Alankrat Srivastava

8 likes

ماں آؤ بیٹھو پریم کی ایک گاتھا کیجیے گا ہے یہ نجم آج کی نہیں بے حد پرانی ہے کہ چوٹ لگی ہے مجھ کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ ا سے کے پانی ہے یہ عشق کی نہیں مامتا کی کہانی ہے اور ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کرتا ہوں ان کو جو اپنی ماں پہ مرتے ہیں افسو سے کہ ویسے اب ذرا مشکل سے ملتے ہیں پر ماں ماں آج بھی ویسے کی ویسی ہے ماں کانٹوں کے بیچ کھلے پھولوں کے جیسی ہے اور اسی ماں کے سائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوں پلا بڑا نمن ا سے ماں کو ج سے پہ کویتا بنا آج یوں کھڑا یوں کھڑا کی لوگ سنتے ہیں تو نام کرتے ہیں یہ مری ماں کی دعا ہے کہ کچھ لوگ دور سے بھی سلام بخیر کرتے ہیں

Alankrat Srivastava

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Alankrat Srivastava.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Alankrat Srivastava's nazm.