nazmKuch Alfaaz

ماں آؤ بیٹھو پریم کی ایک گاتھا کیجیے گا ہے یہ نجم آج کی نہیں بے حد پرانی ہے کہ چوٹ لگی ہے مجھ کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ ا سے کے پانی ہے یہ عشق کی نہیں مامتا کی کہانی ہے اور ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کرتا ہوں ان کو جو اپنی ماں پہ مرتے ہیں افسو سے کہ ویسے اب ذرا مشکل سے ملتے ہیں پر ماں ماں آج بھی ویسے کی ویسی ہے ماں کانٹوں کے بیچ کھلے پھولوں کے جیسی ہے اور اسی ماں کے سائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوں پلا بڑا نمن ا سے ماں کو ج سے پہ کویتا بنا آج یوں کھڑا یوں کھڑا کی لوگ سنتے ہیں تو نام کرتے ہیں یہ مری ماں کی دعا ہے کہ کچھ لوگ دور سے بھی سلام بخیر کرتے ہیں

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

دولت نا عطا کرنا مولا شہرت نا عطا کرنا مولا ب سے اتنا عطا کرنا چاہے جنت نا عطا کرنا مولا شمہ وطن کی لو پر جب قربان پتنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ب سے ایک صدا ہی سنیں صدا برفیلی مست ہواؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے ایک دعا ہی اٹھے صدا جلتے تپتے صحراؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیتے جی ا سے مان رکھیں مر کر مریادہ یاد رہے ہم رہیں کبھی نا رہیں م گر ا سے کی سج دھج آباد رہے جن من ہے وہ ہے وہ اچھل دیش پریم کا جلدھی ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں گیتا کا گیان سنے نا سنیں ا سے دھرتی کا یشگان سنیں ہم سبد کیرتن سن نا سکیں بھارت ماں کا جےگان سنیں परवरदिगार,मैं تری دوار پر لے پکار یہ آیا ہوں چاہے اذان نا سنیں کان پر جے جے ہندوستان سنیں جن من ہے وہ ہے وہ اچھل دیش پریم کا جلدھی ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں

Kumar Vishwas

66 likes

ایک سہیلی کی نصیحت جاناں اکیلی نہیں ہوں سہیلی جسے اپنے ویران گھر کو سجانا تھا اور ایک شاعر کے لفظوں کو سچ مانکر اس کا کا کی پوجا ہے وہ ہے وہ دن کاٹنے تھے جاناں سے پہلے بھی ایسا ہی اک خواب جھوٹی تسلی ہے وہ ہے وہ جاں دے چکا ہے تمہیں بھی حقیقت ایک دن کہےگا کہ حقیقت جاناں سے پہلے کسی کو زبان دے چکا ہے حقیقت تو شاعر ہے اور صاف ظاہر ہے شاعر ہوا کی ہتھیلی پہ لکھی ہوئی حقیقت پہیلی ہے جس نے ابد اور ازل کے دریچوں کو الجھا دیا ہے حقیقت تو شاعر ہے شاعر تمنا کے صحرا ہے وہ ہے وہ رمن کرنے والا ہرن ہے شوبدہ ساز صبح کی پہلی کرن ہے ادبگاہ الفت کا معمار ہے حقیقت تو شاعر ہے شاعر کو بس فکر لوح قلم ہے اسے کوئی دکھ ہے کسی کا نا غم ہے حقیقت تو شاعر ہے شاعر کو کیا خوف مرنے سے شاعر تو خود شہسوار اجل ہے اسے کہ سے طرح ٹال سکتا ہے کوئی کے حقیقت تو اٹل ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے جانتی ہوں حقیقت سمندر کی حقیقت لہر ہے جو کنارے سے واپس پلٹتے ہوئے میری کھردری ایڑیوں پر لگی ریت بھی اور مجھے بھی بہا لے گیا تو حقیقت میرے جنگلوں کے درختوں پہ

Tehzeeb Hafi

40 likes

تیری یاد ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں یہ کالی اندھیری رات ہے تنہائی ہے اور تیری یاد ہے مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے پا سے ہے وہ ہے وہ رکھا ایک گلا سے ہے جو شراب سے بھرا ہے تجھے یاد کیے جا رہا ہوں شراب پیتے ہوئے نجم لکھتے جا رہا ہوں سنو مری لکھے نجم تو پڑھوگی نا خوابوں ہے وہ ہے وہ ملاقات تو کروںگی نا پیار سے لگ صحیح خوبصورت سے ہی مجھے یاد تو کروںگی نا جب یاد آئی مری تو یہ بھی خیال کرنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری آواز سننے کو پریشان رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے ایک بار دیکھنا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ تو پھروں سے مری سر پہ ہاتھ پھیرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھی چاہتا ہوں کہ تو پھروں سے آئی مری پا سے اور آ کر پھروں کبھی لگ جائے پر ایسا تو ہوں ہی نہیں سکتا ایسا ہونا تو ناممکن ہے

Rovej sheikh

10 likes

More from Alankrat Srivastava

क्या एक भी तुम को भाता था - २ बात बस कुछ यूँ है कि एक मुद्दत से शे'र नहीं कहा गया शे'र नहीं सुना गया बस एक ख़याल जो मन में बुन रहा था वो कुछ कुछ इस तरह था की वो ख़त जो तेरे नाम लिखे वो बातें जो तेरे हक़ में हैं वो शे'र जो तेरी खिदमत में मैं अब तक सब को सुनाता था सच-सच कहना उन में से क्या एक भी तुम को भाता था?

Alankrat Srivastava

6 likes

غصہ کر گیا تو ساون کا مہی لگ حقیقت چلتی سہانی ہوا اور ا سے ہوا ہے وہ ہے وہ اڑتے اولیں دوپٹے اور لہراتے گھنگھریالے بھورے بالوں کے بیچ سے جھانکتا حقیقت خوبصورت روحانی چہرہ اور ا سے مانگوں دیسی چہرے پر بڑی صداقت اور نزاکت کے ساتھ سجے ان مخملی اولیں ہونٹوں کا ہولے سے یہ کہنا اجی سنتے ہوں غصہ کر گیا تو

Alankrat Srivastava

6 likes

ساون کی بارش بچانے کو سبھی دانَو و الا دیووں کو دھرا کے جیؤ جنتو کو ن گرا پیڑوں کو پہاڑ کو اسی ساون مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہلاہل تھا پیا ش یوں نے اسی بارے ہے وہ ہے وہ پھروں جب جب ستی ماں سوچتی ہوںگی تو اک دو بوند آنسو کی چھلک جاتی ہی ہوںگی سو ساون کی یہ بارش کچھ نہیں ہے ب سے انہی کے آنکھ سے ٹپکی ہوئی آنسو کی اندھیرا ہیں لڈک کر جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر آ گری ہیں

Alankrat Srivastava

2 likes

क्या एक भी तुम को भाता था - १ हम में तो थे ऐब बहुत सो तुम को पसंद आए नहीं हम भी इतने पागल थे जो आज तलक पछताए नहीं पर वो लड़का जो कॉलेज में , तेरे पीछे पीछे रहता था वो दूजा जो प्यार से तुम को, अपनी बाबू शोना कहता था तीसरा वाला, जो तुम को अक्सर कैंटीन घुमाया करता था और चौथा जो कभी-कबार तेरा समान उठाया करता था अच्छा वो आख़िर वाला, जो घर तक छोड़ कर आता था सच-सच कहना उन में से क्या, एक भी तुम को भाता था?

Alankrat Srivastava

8 likes

جاناں میرا دن بھی تمہیں ہوں تمہیں شام بھی میرا اللہ بھی جاناں ہوں تمہیں رام بھی تن میرا ہے م گر ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہتے ہوں جاناں رکت کی دہمنیوں ہے وہ ہے وہ بھی بہتے ہوں جاناں دل کی دھڑکن بھی جاناں ہوں تمہیں سان سے ہوں جاناں بے حد خوبصورت سا احسا سے ہوں مری چنچل سے من کی تمہیں میت ہوں جو بجے ہے ہردیہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سنگیت ہوں دن دنیا کے ا سے شور سے بھاگ کر دن دوپہری ہے وہ ہے وہ اور رات ہے وہ ہے وہ جاگ کر گڑھ رہا ہوں جسے حقیقت اپنیا سے ہوں جاناں بے حد خوبصورت سا احسا سے ہوں

Alankrat Srivastava

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Alankrat Srivastava.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Alankrat Srivastava's nazm.