क्या एक भी तुम को भाता था - २ बात बस कुछ यूँ है कि एक मुद्दत से शे'र नहीं कहा गया शे'र नहीं सुना गया बस एक ख़याल जो मन में बुन रहा था वो कुछ कुछ इस तरह था की वो ख़त जो तेरे नाम लिखे वो बातें जो तेरे हक़ में हैं वो शे'र जो तेरी खिदमत में मैं अब तक सब को सुनाता था सच-सच कहना उन में से क्या एक भी तुम को भाता था?
Related Nazm
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Faiz Ahmad Faiz
160 likes
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مری زندگی شماکی صورت ہوں خدایا مری دور دنیا کا مری دم سے اندھیرا ہوں جائے ہر جگہ مری چمکنے سے اجالا ہوں جائے ہوں مری دم سے یوںہی مری وطن کی ظفر ج سے طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی ظفر زندگی ہوں مری پروانے کی صورت یا رب علم کی شماسے ہوں مجھ کو محبت یا رب ہوں میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا مری اللہ برائی سے بچانا مجھ کو نیک جو راہ ہوں ا سے رہ پہ چلانا مجھ کو
Allama Iqbal
51 likes
ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں
Gulzar
107 likes
More from Alankrat Srivastava
क्या एक भी तुम को भाता था - १ हम में तो थे ऐब बहुत सो तुम को पसंद आए नहीं हम भी इतने पागल थे जो आज तलक पछताए नहीं पर वो लड़का जो कॉलेज में , तेरे पीछे पीछे रहता था वो दूजा जो प्यार से तुम को, अपनी बाबू शोना कहता था तीसरा वाला, जो तुम को अक्सर कैंटीन घुमाया करता था और चौथा जो कभी-कबार तेरा समान उठाया करता था अच्छा वो आख़िर वाला, जो घर तक छोड़ कर आता था सच-सच कहना उन में से क्या, एक भी तुम को भाता था?
Alankrat Srivastava
8 likes
جاناں میرا دن بھی تمہیں ہوں تمہیں شام بھی میرا اللہ بھی جاناں ہوں تمہیں رام بھی تن میرا ہے م گر ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہتے ہوں جاناں رکت کی دہمنیوں ہے وہ ہے وہ بھی بہتے ہوں جاناں دل کی دھڑکن بھی جاناں ہوں تمہیں سان سے ہوں جاناں بے حد خوبصورت سا احسا سے ہوں مری چنچل سے من کی تمہیں میت ہوں جو بجے ہے ہردیہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سنگیت ہوں دن دنیا کے ا سے شور سے بھاگ کر دن دوپہری ہے وہ ہے وہ اور رات ہے وہ ہے وہ جاگ کر گڑھ رہا ہوں جسے حقیقت اپنیا سے ہوں جاناں بے حد خوبصورت سا احسا سے ہوں
Alankrat Srivastava
3 likes
ساون کی بارش بچانے کو سبھی دانَو و الا دیووں کو دھرا کے جیؤ جنتو کو ن گرا پیڑوں کو پہاڑ کو اسی ساون مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہلاہل تھا پیا ش یوں نے اسی بارے ہے وہ ہے وہ پھروں جب جب ستی ماں سوچتی ہوںگی تو اک دو بوند آنسو کی چھلک جاتی ہی ہوںگی سو ساون کی یہ بارش کچھ نہیں ہے ب سے انہی کے آنکھ سے ٹپکی ہوئی آنسو کی اندھیرا ہیں لڈک کر جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر آ گری ہیں
Alankrat Srivastava
2 likes
ماں آؤ بیٹھو پریم کی ایک گاتھا کیجیے گا ہے یہ نجم آج کی نہیں بے حد پرانی ہے کہ چوٹ لگی ہے مجھ کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ ا سے کے پانی ہے یہ عشق کی نہیں مامتا کی کہانی ہے اور ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کرتا ہوں ان کو جو اپنی ماں پہ مرتے ہیں افسو سے کہ ویسے اب ذرا مشکل سے ملتے ہیں پر ماں ماں آج بھی ویسے کی ویسی ہے ماں کانٹوں کے بیچ کھلے پھولوں کے جیسی ہے اور اسی ماں کے سائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوں پلا بڑا نمن ا سے ماں کو ج سے پہ کویتا بنا آج یوں کھڑا یوں کھڑا کی لوگ سنتے ہیں تو نام کرتے ہیں یہ مری ماں کی دعا ہے کہ کچھ لوگ دور سے بھی سلام بخیر کرتے ہیں
Alankrat Srivastava
4 likes
غصہ کر گیا تو ساون کا مہی لگ حقیقت چلتی سہانی ہوا اور ا سے ہوا ہے وہ ہے وہ اڑتے اولیں دوپٹے اور لہراتے گھنگھریالے بھورے بالوں کے بیچ سے جھانکتا حقیقت خوبصورت روحانی چہرہ اور ا سے مانگوں دیسی چہرے پر بڑی صداقت اور نزاکت کے ساتھ سجے ان مخملی اولیں ہونٹوں کا ہولے سے یہ کہنا اجی سنتے ہوں غصہ کر گیا تو
Alankrat Srivastava
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Alankrat Srivastava.
Similar Moods
More moods that pair well with Alankrat Srivastava's nazm.







