یاد بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا اے مری بے وفا یاد آئیںگی مجھ کو تیری ہر کہوں کیا سے کیا ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ تری پیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل لگایا تھا تجھ سے یوں بیکار ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیار کرنا بھی اک ظلم ہے اور غلطیاں پیار زیادہ ہے وہ ہے وہ کرتا ہوں تجھ سے فقط ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے خوبصورت لگ کی تجھ سے جاں آج تک حقیقت سبب تو بتا کیوں کیا الوداع سر جھکا کر کے مانگا تھا تجھ کو صنم تو لگ مجھ کو ملا ہوں گئی آنکھیں نمہ تجھ کو آباد رکھے میرا حقیقت خدا تیری یادوں کو دل ہے وہ ہے وہ بساؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ تو ممکن نہیں بھول جاؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یاد کرتا ہے دانش یہ تجھ کو صدا
Related Nazm
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
तुम हमारे लिए तुम हमारे लिए अर्चना बन गई हम तुम्हारे लिए एक दर्पण प्रिये तुम मिलो तो सही हाल पूछो मेरा हम न रो दें तो कह देना पत्थर प्रिये प्यार मिलना नहीं था अगर भाग्य में देवताओं ने हम सेे ये छल क्यूँ किया मेरे दिल में भरी रेत ही रेत थी दे के अमृत ये हम को विकल क्यूँ किया अप्सरा हो तो हो पर हमारे लिए तुम ही सुंदर सुकोमल सुघर हो प्रिये देवताओं के गणितीय संसार में ऐसा भी है नहीं कोई अच्छा न था हम अगर इस जनम भी नहीं मिल सके सब कहेंगे यही प्यार सच्चा न था कायरों को कभी प्यार मिलता नहीं फ़ैसला कोई ले लो कि डटकर प्रिये मम्मी कहती थीं चंदा बहुत दूर है चाँद से आगे हम को सितारा लगा यूँँ तो चेहरे ही चेहरे थे दुनिया में पर एक तेरा ही चेहरा पियारा लगा पलकों पे मेरी रख कर क़दम तुम चलो पॉंव में चुभ न जाए कि कंकड़ प्रिये
Rakesh Mahadiuree
24 likes
More from Danish Balliavi
"ख़ूबसूरत अजनबी" मिला है सफ़र में मुझे एक चेहरा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत ख़ुदा ने बनाया है जो उसका मुखड़ा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत मुसलसल उसी को फ़क़त तक रहा हूँ उसी पर मैं इक नज़्म भी कह रहा हूँ वो रक्खी है जो अपने सर पर दुपट्टा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत बहुत क़ातिलाना है उसकी निगाहें बहुत जानलेवा है उसकी अदाएँ लगाई है जो उसने आँखों पे चश्मा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत उसे हूर कह के पुकारा है मैंने ज़रा गुफ़्तुगू करके देखा है मैंने उसे बात करने का जो है तरीक़ा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत है मालूम 'दानिश' वो इक अजनबी है मगर उसमें हरगिज़ न कोई कमी है जो गुज़रा है उसका मेरे साथ लम्हा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत
Danish Balliavi
12 likes
ہماری بے وفا ہم سفر بے سبب پیار کرتے ہیں تجھ سے ہم نے یہ بھی جاتایا نہیں ہے کب سے تو نے نکالا ہے دل سے تو نے اب تک بتایا نہیں ہے اپنے چہرے سے چلمن ہٹا لے ہم نے جی بھر کے دیکھا نہیں ہے پیار ہوگا مکمل یہ کیسے ساتھ تو نے نبھایا نہیں ہے ہم تری ہیں تری ہی رہیں گے تو نے اپنا ہی سمجھا نہیں ہے ہم تو مجنوں ہوئے تیری خاطر تجھ کو ہم نے ستایا نہیں ہے پیار کے تحفے ہم نے جو دی ہیں تو نے اس کا کو بھی رکھا نہیں ہے رنجشوں ہے وہ ہے وہ ہی چھوڑا ہے تو نے ہم نے ماتم منایا نہیں ہے بے وفا تو ہے دانش کے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری دل ہے وہ ہے وہ کیوں دانش نہیں ہے تیری خاطر یہ جاں بھی ہے حاضر تجھ کو جملہ سنایا نہیں ہے
Danish Balliavi
11 likes
بچپن کی محبت تو تھا مری دل کا رہبر تو کتنے دن یاد آئےگا تو چھوڑ گیا تو ہے مجھ کو پر تو کتنے دن یاد آئےگا ہاں پیار ہوا تھا بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اقرار ہوا تھا بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سن بچپن کا مری دلبر تو کتنا خوش ہے مری بنا یہ دل روتا ہے تری بنا تو تھا منزل کا راہ گزر اب پیار محبت ہے ہی نہیں رونے کے سوا اب کچھ بھی نہیں ب سے اشکوں سے دامن ہے تر تیری یادیں تڑپاتی ہے الفت ہے وہ ہے وہ آگ لگاتی ہے کب لےگا تو دانش کی خبر
Danish Balliavi
11 likes
صداقت عشق عشق کی جاناں حقیقت سمجھ لو اس کا کا کو غم سے گزرنا پڑےگا ان کی یادوں ہے وہ ہے وہ مصروف ہوں جاناں ان کی یادوں ہے وہ ہے وہ رہنا پڑےگا غزلوں اپنا تجھ کو سناؤں جی تو کرتا ہے تجھ کو سناؤں تیری آنکھوں سے کہ دیںگی آنسو اب مجھے بھی نکلنا پڑےگا اپنے بھی روٹھ جائیں گے تیرے رشتے بھی چھوٹ جائیں گے تیرے لوگ تجھ کو کہیں گے سنگ و خشت ایسا لمحہ بھی سہنا پڑےگا تو بھروسا بھی کرتا ہے جس پہ بے وجہ ہوگا ناراض تجھ سے ہوتا 9 یہاں ایسا عاشق عشق سے ہاں مکرنہ پڑےگا حقیقت تجھے بھول جائیں گے ایسے جانے زندہ رہے گا تو کیسے مشورہ بس یہی دےگا دانش الوداع تجھ کو کہنا پڑےگا
Danish Balliavi
12 likes
تم سے بے پناہ محبت میرے نور نظر آ بھی جا تو نظر کب سنائے گا مجھ کو تو اچھی خبر تیرا عاشق بیچارا پریشان ہے تجھ سے ناراض ہے اور حیران ہے قاصد معتبر لے جا میری خبر تیری نظروں سے ملتی ہیں خاموشیاں دل میں کیوں رکھتا ہے اتنی سرگوشیاں کھول دے اب زبان اے میرے ہم سفر میرے دل کی تمنا یہیں ہیں صنم میں رہوں ساتھیا بن کے ساتوں جنم بات ہو جائے سچ تو جو کہ دے اگر ٹوٹ کر میرا دل یہ بکھر جائےگا تو نہ ہوگا تو دانش یہ مر جائےگا سوکھ جائےگا یہ زندگی کا شجر
Danish Balliavi
12 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Danish Balliavi.
Similar Moods
More moods that pair well with Danish Balliavi's nazm.







