ہماری بے وفا ہم سفر بے سبب پیار کرتے ہیں تجھ سے ہم نے یہ بھی جاتایا نہیں ہے کب سے تو نے نکالا ہے دل سے تو نے اب تک بتایا نہیں ہے اپنے چہرے سے چلمن ہٹا لے ہم نے جی بھر کے دیکھا نہیں ہے پیار ہوگا مکمل یہ کیسے ساتھ تو نے نبھایا نہیں ہے ہم تری ہیں تری ہی رہیں گے تو نے اپنا ہی سمجھا نہیں ہے ہم تو مجنوں ہوئے تیری خاطر تجھ کو ہم نے ستایا نہیں ہے پیار کے تحفے ہم نے جو دی ہیں تو نے اس کا کو بھی رکھا نہیں ہے رنجشوں ہے وہ ہے وہ ہی چھوڑا ہے تو نے ہم نے ماتم منایا نہیں ہے بے وفا تو ہے دانش کے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری دل ہے وہ ہے وہ کیوں دانش نہیں ہے تیری خاطر یہ جاں بھی ہے حاضر تجھ کو جملہ سنایا نہیں ہے
Related Nazm
حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Faiz Ahmad Faiz
160 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
کچی عمر کے پیار یہ کچی عمر کے پیار بھی بڑے پکے نشان دیتے ہیں آج پر کم دھیان دیتے ہیں بہکے بہکے نقص دیتے ہیں ان کو دیکھے ہوئے مدت ہوئی اور ہم اب بھی جان دیتے ہیں کیا پیار ایک بار ہوتا ہے نہیں یہ بار بار ہوتا ہے تو پھروں کیوں کسی ایک کا انتظار ہوتا ہے وہی تو سچا پیار ہوتا ہے اچھا پیار بھی کیا انسان ہوتا ہے کبھی سچا کبھی جھوٹا بے ایمان ہوتا ہے ا سے کی رگوں ہے وہ ہے وہ بھی کیا خاندان ہوتا ہے اور مقصد حیات نفع نقصان ہوتا ہے پیار تو پیار ہوتا ہے
Yasra rizvi
47 likes
More from Danish Balliavi
"ख़ूबसूरत अजनबी" मिला है सफ़र में मुझे एक चेहरा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत ख़ुदा ने बनाया है जो उसका मुखड़ा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत मुसलसल उसी को फ़क़त तक रहा हूँ उसी पर मैं इक नज़्म भी कह रहा हूँ वो रक्खी है जो अपने सर पर दुपट्टा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत बहुत क़ातिलाना है उसकी निगाहें बहुत जानलेवा है उसकी अदाएँ लगाई है जो उसने आँखों पे चश्मा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत उसे हूर कह के पुकारा है मैंने ज़रा गुफ़्तुगू करके देखा है मैंने उसे बात करने का जो है तरीक़ा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत है मालूम 'दानिश' वो इक अजनबी है मगर उसमें हरगिज़ न कोई कमी है जो गुज़रा है उसका मेरे साथ लम्हा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत
Danish Balliavi
12 likes
صداقت عشق عشق کی جاناں حقیقت سمجھ لو اس کا کا کو غم سے گزرنا پڑےگا ان کی یادوں ہے وہ ہے وہ مصروف ہوں جاناں ان کی یادوں ہے وہ ہے وہ رہنا پڑےگا غزلوں اپنا تجھ کو سناؤں جی تو کرتا ہے تجھ کو سناؤں تیری آنکھوں سے کہ دیںگی آنسو اب مجھے بھی نکلنا پڑےگا اپنے بھی روٹھ جائیں گے تیرے رشتے بھی چھوٹ جائیں گے تیرے لوگ تجھ کو کہیں گے سنگ و خشت ایسا لمحہ بھی سہنا پڑےگا تو بھروسا بھی کرتا ہے جس پہ بے وجہ ہوگا ناراض تجھ سے ہوتا 9 یہاں ایسا عاشق عشق سے ہاں مکرنہ پڑےگا حقیقت تجھے بھول جائیں گے ایسے جانے زندہ رہے گا تو کیسے مشورہ بس یہی دےگا دانش الوداع تجھ کو کہنا پڑےگا
Danish Balliavi
12 likes
بچپن کی محبت تو تھا مری دل کا رہبر تو کتنے دن یاد آئےگا تو چھوڑ گیا تو ہے مجھ کو پر تو کتنے دن یاد آئےگا ہاں پیار ہوا تھا بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اقرار ہوا تھا بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سن بچپن کا مری دلبر تو کتنا خوش ہے مری بنا یہ دل روتا ہے تری بنا تو تھا منزل کا راہ گزر اب پیار محبت ہے ہی نہیں رونے کے سوا اب کچھ بھی نہیں ب سے اشکوں سے دامن ہے تر تیری یادیں تڑپاتی ہے الفت ہے وہ ہے وہ آگ لگاتی ہے کب لےگا تو دانش کی خبر
Danish Balliavi
11 likes
تم سے بے پناہ محبت میرے نور نظر آ بھی جا تو نظر کب سنائے گا مجھ کو تو اچھی خبر تیرا عاشق بیچارا پریشان ہے تجھ سے ناراض ہے اور حیران ہے قاصد معتبر لے جا میری خبر تیری نظروں سے ملتی ہیں خاموشیاں دل میں کیوں رکھتا ہے اتنی سرگوشیاں کھول دے اب زبان اے میرے ہم سفر میرے دل کی تمنا یہیں ہیں صنم میں رہوں ساتھیا بن کے ساتوں جنم بات ہو جائے سچ تو جو کہ دے اگر ٹوٹ کر میرا دل یہ بکھر جائےگا تو نہ ہوگا تو دانش یہ مر جائےگا سوکھ جائےگا یہ زندگی کا شجر
Danish Balliavi
12 likes
یاد بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا اے مری بے وفا یاد آئیںگی مجھ کو تیری ہر کہوں کیا سے کیا ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ تری پیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل لگایا تھا تجھ سے یوں بیکار ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیار کرنا بھی اک ظلم ہے اور غلطیاں پیار زیادہ ہے وہ ہے وہ کرتا ہوں تجھ سے فقط ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے خوبصورت لگ کی تجھ سے جاں آج تک حقیقت سبب تو بتا کیوں کیا الوداع سر جھکا کر کے مانگا تھا تجھ کو صنم تو لگ مجھ کو ملا ہوں گئی آنکھیں نمہ تجھ کو آباد رکھے میرا حقیقت خدا تیری یادوں کو دل ہے وہ ہے وہ بساؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ تو ممکن نہیں بھول جاؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یاد کرتا ہے دانش یہ تجھ کو صدا
Danish Balliavi
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Danish Balliavi.
Similar Moods
More moods that pair well with Danish Balliavi's nazm.







