تم سے بے پناہ محبت میرے نور نظر آ بھی جا تو نظر کب سنائے گا مجھ کو تو اچھی خبر تیرا عاشق بیچارا پریشان ہے تجھ سے ناراض ہے اور حیران ہے قاصد معتبر لے جا میری خبر تیری نظروں سے ملتی ہیں خاموشیاں دل میں کیوں رکھتا ہے اتنی سرگوشیاں کھول دے اب زبان اے میرے ہم سفر میرے دل کی تمنا یہیں ہیں صنم میں رہوں ساتھیا بن کے ساتوں جنم بات ہو جائے سچ تو جو کہ دے اگر ٹوٹ کر میرا دل یہ بکھر جائےگا تو نہ ہوگا تو دانش یہ مر جائےگا سوکھ جائےگا یہ زندگی کا شجر
Related Nazm
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए
Amir Ameer
295 likes
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے
Tehzeeb Hafi
180 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
191 likes
More from Danish Balliavi
"ख़ूबसूरत अजनबी" मिला है सफ़र में मुझे एक चेहरा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत ख़ुदा ने बनाया है जो उसका मुखड़ा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत मुसलसल उसी को फ़क़त तक रहा हूँ उसी पर मैं इक नज़्म भी कह रहा हूँ वो रक्खी है जो अपने सर पर दुपट्टा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत बहुत क़ातिलाना है उसकी निगाहें बहुत जानलेवा है उसकी अदाएँ लगाई है जो उसने आँखों पे चश्मा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत उसे हूर कह के पुकारा है मैंने ज़रा गुफ़्तुगू करके देखा है मैंने उसे बात करने का जो है तरीक़ा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत है मालूम 'दानिश' वो इक अजनबी है मगर उसमें हरगिज़ न कोई कमी है जो गुज़रा है उसका मेरे साथ लम्हा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत
Danish Balliavi
12 likes
صداقت عشق عشق کی جاناں حقیقت سمجھ لو اس کا کا کو غم سے گزرنا پڑےگا ان کی یادوں ہے وہ ہے وہ مصروف ہوں جاناں ان کی یادوں ہے وہ ہے وہ رہنا پڑےگا غزلوں اپنا تجھ کو سناؤں جی تو کرتا ہے تجھ کو سناؤں تیری آنکھوں سے کہ دیںگی آنسو اب مجھے بھی نکلنا پڑےگا اپنے بھی روٹھ جائیں گے تیرے رشتے بھی چھوٹ جائیں گے تیرے لوگ تجھ کو کہیں گے سنگ و خشت ایسا لمحہ بھی سہنا پڑےگا تو بھروسا بھی کرتا ہے جس پہ بے وجہ ہوگا ناراض تجھ سے ہوتا 9 یہاں ایسا عاشق عشق سے ہاں مکرنہ پڑےگا حقیقت تجھے بھول جائیں گے ایسے جانے زندہ رہے گا تو کیسے مشورہ بس یہی دےگا دانش الوداع تجھ کو کہنا پڑےگا
Danish Balliavi
12 likes
ہماری بے وفا ہم سفر بے سبب پیار کرتے ہیں تجھ سے ہم نے یہ بھی جاتایا نہیں ہے کب سے تو نے نکالا ہے دل سے تو نے اب تک بتایا نہیں ہے اپنے چہرے سے چلمن ہٹا لے ہم نے جی بھر کے دیکھا نہیں ہے پیار ہوگا مکمل یہ کیسے ساتھ تو نے نبھایا نہیں ہے ہم تری ہیں تری ہی رہیں گے تو نے اپنا ہی سمجھا نہیں ہے ہم تو مجنوں ہوئے تیری خاطر تجھ کو ہم نے ستایا نہیں ہے پیار کے تحفے ہم نے جو دی ہیں تو نے اس کا کو بھی رکھا نہیں ہے رنجشوں ہے وہ ہے وہ ہی چھوڑا ہے تو نے ہم نے ماتم منایا نہیں ہے بے وفا تو ہے دانش کے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری دل ہے وہ ہے وہ کیوں دانش نہیں ہے تیری خاطر یہ جاں بھی ہے حاضر تجھ کو جملہ سنایا نہیں ہے
Danish Balliavi
11 likes
بچپن کی محبت تو تھا مری دل کا رہبر تو کتنے دن یاد آئےگا تو چھوڑ گیا تو ہے مجھ کو پر تو کتنے دن یاد آئےگا ہاں پیار ہوا تھا بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اقرار ہوا تھا بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سن بچپن کا مری دلبر تو کتنا خوش ہے مری بنا یہ دل روتا ہے تری بنا تو تھا منزل کا راہ گزر اب پیار محبت ہے ہی نہیں رونے کے سوا اب کچھ بھی نہیں ب سے اشکوں سے دامن ہے تر تیری یادیں تڑپاتی ہے الفت ہے وہ ہے وہ آگ لگاتی ہے کب لےگا تو دانش کی خبر
Danish Balliavi
11 likes
یاد بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا بےوفا اے مری بے وفا یاد آئیںگی مجھ کو تیری ہر کہوں کیا سے کیا ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ تری پیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل لگایا تھا تجھ سے یوں بیکار ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیار کرنا بھی اک ظلم ہے اور غلطیاں پیار زیادہ ہے وہ ہے وہ کرتا ہوں تجھ سے فقط ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے خوبصورت لگ کی تجھ سے جاں آج تک حقیقت سبب تو بتا کیوں کیا الوداع سر جھکا کر کے مانگا تھا تجھ کو صنم تو لگ مجھ کو ملا ہوں گئی آنکھیں نمہ تجھ کو آباد رکھے میرا حقیقت خدا تیری یادوں کو دل ہے وہ ہے وہ بساؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ تو ممکن نہیں بھول جاؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یاد کرتا ہے دانش یہ تجھ کو صدا
Danish Balliavi
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Danish Balliavi.
Similar Moods
More moods that pair well with Danish Balliavi's nazm.







