nazmKuch Alfaaz

بےوفا سے با وفا کا دل لگانا ٹھیک ہے بےوفا سے با وفا کا دل لگانا ٹھیک ہے یہ بتاؤ آگ ہے وہ ہے وہ کیا گھی ملانا ٹھیک ہے بےوفا سے با وفا کا دل لگانا ٹھیک ہے قرض ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہے زندگی مری نہیں ہاتھ ہے وہ ہے وہ روٹی نہیں ہے آنکھ ہے وہ ہے وہ پانی نہیں ہر طرف بربادیوں کا سوگ ہے برپا ہوا روز اکیلے رو رہا ہوں راہ ہے وہ ہے وہ بیٹھا ہوا ایسے ہے وہ ہے وہ ا سے ہم نشین کا مسکرانا ٹھیک ہے بےوفا سے با وفا کا دل لگانا ٹھیک ہے زندگی کی ہر نشانی رات ہے وہ ہے وہ نے پھوڑ دی کل خدا کے ہاتھ کی زنجیر ہے وہ ہے وہ نے توڑ دی رو رہا تھا کل م گر حقیقت خوشی بھی میرا لگ تھا خواب دیکھا تھا م گر حقیقت خواب بھی میرا لگ تھا جاناں بتاؤ خواب ایسے ہے وہ ہے وہ سجانا ٹھیک ہے بےوفا سے با وفا کا دل لگانا ٹھیک ہے تری گھر کے لوگ مری چوکسی ہے وہ ہے وہ بیٹھتے رات دن چوراہے پہ ب سے تاش ہی ہیں پھینٹتے اک طرف آوارہ کتے اک طرف ہے ظالمہ ڈر رہا ہوں بن لگ جائے آج میرا سالیما جاناں بتاؤ رات کو چھت پر بلانا ٹھیک ہے بےوفا سے با وفا کا دل لگانا ٹھیک ہے

Related Nazm

"शाइराना मिज़ाज" अबकि पास आए हो ख़ुश्बूओं के साए हो कल तलक तो मेरे थे आज तुम पराए हो उम्र भर की चाहत की रुख़्सती नहीं करते कहता था न शाइरों से आशिक़ी नहीं करते सादगी से आओगे बे-रुखी से जाओगे मेरे पास आए हो किस का दिल दुखाओगे दिलजलों से जान-ए-जानाँ दिल-लगी नहीं करते कहता था न शाइरों से आशिक़ी नहीं करते ख़ार मुस्कुराए थे फूल मुँह बनाए थे मैं ने ख़्वाब बेंचा था मैं ने दिल उगाए थे मैं कि जैसे करता था आदमी नहीं करते कहता था न शाइरों से आशिक़ी नहीं करते बे-वफ़ाई आदत है बे-हयाई फ़ितरत है मेरे जैसे आशिक़ हैं आशिक़ी पे लानत है जानाँ मेरे जैसों से मुँह-लगी नहीं करते कहता था न शाइरों से आशिक़ी नहीं करते हुस्न पे लिबादा है दर्द भी कुशादा है ज़ेहन का तो फिर भी ठीक दिल नहीं अमादा है यूँँ पराई रौशनी से रौशनी नहीं करते कहता था न शाइरों से आशिक़ी नहीं करते ख़ार बोए जाएँगे ख़ाक अब उड़ाएँगे मैं ने तुम को चाहा था और अब भुलाएँगे तुम सेे बैर नहीं करते प्यार भी नहीं करते कहता था न शाइरों से आशिक़ी नहीं करते दिल से आगे जाना है पेट चुन के आना है हाथ जिस का थामा है उम्र भर निभाना है उम्र भर के साथी को यूँँ दुखी नहीं करते कहता था न शाइरों से आशिक़ी नहीं करते

Rakesh Mahadiuree

15 likes

نجم اک بر سے اور کٹ گیا تو شریک روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا غصہ ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا

Shariq Kaifi

46 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

اک خط مجھے لکھنا ہے دہلی ہے وہ ہے وہ بسے دل کو اک دن مجھے چکھنا ہے خاجہ تیری نگری کا خسرو تیری چوکھٹ سے اک شب مجھے پینی ہے لذت سخنوالی خوشبو اے وطن والی تاکتے تری مرقد کو اک شعر سنہانا ہے اک سانولی رنگت کو چپکے سے بتانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل بھی ہوں دہلی بھی اردو بھی ہوں ہم رہی بھی اک خط مجھے لکھنا ہے ممکن ہے کبھی لکھوں ممکن ہے ابھی لکھوں

Ali Zaryoun

25 likes

More from Prashant Kumar

م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تو سب سے جدا ہے تو سب سے حسین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ تجھسا لگ کوئی کہی ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے دیکھ کر ہی نکلتا ہے سورج تجھے دیکھ کر روز ڈھلتا ہے سورج تو اک باوضو اپسرا ہے مری جاں خدا بھی تو تجھ پہ فدا ہے مری جاں تجھی سے محبت کرےگا یقین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے کام سب چھوڑ کر دیکھتے ہیں بنا بات کے پھول بھی پھینکتے ہیں کہ ممتاز بھی تری جیسی نہیں ہے ی ہاں ایک تو ہی مہا سندری ہے بے حد خوبصورت ہے زہرہ جبیں ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے

Prashant Kumar

1 likes

"हार्ट अटैक तू लावेगी" जो टॉप पहन के आएगी तो क़हर क़सम से ढाएगी यूँँ तंग क़बा में आवेगी फिर बिजली ख़ूब गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी झुक के रूमाल उठाएगी एकाध को तू टपकाएगी जो ऐसे पेट दिखाएगी तो दिल की नींव हिलाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी यूँँ देखके तू मुस्काएगी तो झगड़ा सब में कराएगी तू हम को भी मरवाएगी तू हम को भी मरवाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी जो हम सेे हाथ मिलाएगी तो दिल के तार भिड़ाएगी तू तन में आग लगाएगी हम को तू मार गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी

Prashant Kumar

1 likes

صدا مفل سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دینے کے جائیں گے نہیں کچھ کسی کو سو اپنے بدن کی قباء دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مری زندگی کی دعا کرنے والوں تمہیں آخری ہے وہ ہے وہ دعا دے رہا ہوں مبارک ہوں سب کو خوشی کا ہری یہ محفل خوشی کی تمہیں دے رہا ہوں مری پا سے خانے کو کچھ بھی نہیں ہے سبھی کے لیے یہ جوا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں انتقامن مت کروں کوئی احسان مجھ پر اتاروںگا کیسے یہ احسان لوگوں مجھے عمر بھر گالیاں دوگے پھروں سب ہمیشہ رہوگے پریشان لوگوں ضرورت نہیں کچھ بھی دینے کی مجھ کو ہے وہ ہے وہ جاناں کو تمہاری وفا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے کوئی خوش رہنے کی مت دعا دو یہ غم ہی مری زندگی بن گیا تو ہے مجھے غزلوں ہی سبھی لوگ دینا یہی تو مری بندگی بن گیا تو ہے مری زندگی آگ کا ایک گولا ہے ایسے ہے وہ ہے وہ تجھ کو ہوا دے رہا ہوں مجھے بھ

Prashant Kumar

1 likes

چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے کیوں ہے اتنی جواں کیوں ہے اتنی حسین نام ک سے نے رکھا تیرا زہرہ جبیں تنگ سی ٹاپ پہنے اب آنا نہیں چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے مجھ کو ڈر ہے کہی لے لگ جائے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے چاند ہے وہ ہے وہ داغ ہے پھروں بھی مغرور ہے لگ رہا اپنی عادت سے مجبور ہے تو جدھر جا رہا چاند ادھر آ رہا یہ تجھے دیکھ کر کتنا شرما رہا آڑ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے سمٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے خوبصورت بے حد لگ رہی آج تو آج سے بن گئی مری ممتاز جب کیسی کاریگری ہے خدا کی قسم زلف سے پاؤں تک زہر ہے تو صنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری جان ہوں تو مری جان ہے خواب ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہوں لپٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے اپنی صورت دکھا دے خدا کے لیے مجھ کو دل ہے وہ ہے وہ بسا لے خدا کے لیے اب تو گھر سے نکل آ خدا کے لیے مجھ کو اپنا بنا لے خدا کے لیے عمر بھر کے لیے با ہوں ہے وہ ہے وہ تھام

Prashant Kumar

1 likes

"ज़मीं-ए-हिंद" सारे जहाँ से अच्छी बस हिंद की ज़मीं है आबाद करने वाली हर शख़्स को ज़मीं है इस के ही लब पे पहले वहदत का गीत आया इसने ही सब सेे पहले पैग़ाम-ए-हक़ सुनाया सारे जहाँ को इसने इल्म-ओ-हुनर सिखाया कोई भी गीत क़ौमी इसने न गुनगुनाया नंगे उघारे फिरते लोगों की आबरू को मिंदील देने वाली हर एक को ज़मीं है दुश्नाम दे रहा है हर शख़्स इस ज़मीं को तिरपाल जब दिया है इसने ही हर किसी को सारे जहाँ को इसने जीवन नया दिया है सहराओं तक में इसने हर गुल खिला दिया है निखरे हैं इस ज़मीं में रुख़सार हम-नशीं के गजरे में खिलने वाला गुलफ़ाम भी ज़मीं है हिंदू का है न इस पर मुर्ग-ए-हरम का एहसाँ अंधा हुआ पड़ा है क्यूँँ धर्म में फिर इंसाँ शामिल है ख़ून इस में हम सबके तन बदन का सदक़ा उठा रहे हैं सब इस के बाँकपन का सारा जहाँ पला है आँचल में इस ज़मीं के ताक़ों पे धरने वाली हर क़ौम को ज़मीं है ज़िंदा है इस के दम पर सारे जहाँ की रौनक़ सब आज़मा रहे हैं इस के ही दम पे क़िस्मत इसने नहीं सिखाया आपस में बैर करना इसने सिखाया सब को आपस में प्रेम करना हिंदू हों या हों मुस्लिम वंदे हैं सब इसी के आँचल में लेने वाली इक साथ सब ज़मीं है है इस ज़मीं पे सबका हक़ एक ही बराबर कोई नहीं है नीचे कोई नहीं है ऊपर दुख सुख में इस के हरदम सब लोग साथ होंगे मुस्लिम हों सिख हों हिंदू सब साथ साथ होंगे आएगी आँच इस पर हाथों में हाथ होंगे सब छाँव में इसी की पलकर बड़े हुए हैं दाना खिलाने वाली हर शख़्स को ज़मीं है इस पर जब आँच आए सब साथ चल के आना धर्मों को मज़-हबों को रस्ते में छोड़ आना क़ौमी लिबास सारे घूरे पे फेंक आना हाथों में हाथ डाले सब मुस्कुराते आना तुम मुश्किलों में इस को मत छोड़ कर के जाना तरसे हैं इस ज़मीं को मत पूछो कितने काफ़िर इक़बाल से मिली पर तुम को ही ये ज़मीं है इस हिंद की ज़मीं पर जो भी उठाए उँगली उस को अभी उठा ले ख़ालिक़ तू इस जहाँ से इस हिंद की ज़मीं पर जिस का जनम हुआ है आबाद रखना ख़ालिक़ मेरी यही दुआ है

Prashant Kumar

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Prashant Kumar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Prashant Kumar's nazm.