چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے کیوں ہے اتنی جواں کیوں ہے اتنی حسین نام ک سے نے رکھا تیرا زہرہ جبیں تنگ سی ٹاپ پہنے اب آنا نہیں چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے مجھ کو ڈر ہے کہی لے لگ جائے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے چاند ہے وہ ہے وہ داغ ہے پھروں بھی مغرور ہے لگ رہا اپنی عادت سے مجبور ہے تو جدھر جا رہا چاند ادھر آ رہا یہ تجھے دیکھ کر کتنا شرما رہا آڑ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے سمٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے خوبصورت بے حد لگ رہی آج تو آج سے بن گئی مری ممتاز جب کیسی کاریگری ہے خدا کی قسم زلف سے پاؤں تک زہر ہے تو صنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری جان ہوں تو مری جان ہے خواب ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہوں لپٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے اپنی صورت دکھا دے خدا کے لیے مجھ کو دل ہے وہ ہے وہ بسا لے خدا کے لیے اب تو گھر سے نکل آ خدا کے لیے مجھ کو اپنا بنا لے خدا کے لیے عمر بھر کے لیے با ہوں ہے وہ ہے وہ تھام
Related Nazm
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
چار زندگی سب کو ملا ہے چار زندگی کا سفر ماں کا پیٹ اور دنیا کا گھر چھوٹی سی قبر اور میدان حشر پہلی زندگی کا تصور ا گر ماں کا پیٹ جاناں کو آئےگا نظر نو مہینے ج سے نے کیا تھا دل پامال جاناں نے دیا کیا ا سے کا اجر دوسری زندگی دنیا کا گھر ج سے ہے وہ ہے وہ بسایا جاناں نے شہر تھی چار دن کی زندگی م گر ا سے پر لگا دی پوری عمر ملی جب موت کی سب کو خبر پچھتاننے لگے پھروں ہوا یہ اثر اہل و عیال بھی روئے ادھر ہوا تیار جنازہ ادھر بے رخی زندگی جس کا پیٹ قبر ہوں گے سب دور تجھے دفن کر آئیں گے فرشتے جیوںگی قبر پر لگے گا سوالوں کا ایک امبر دینا جواب تب خود کے بل پر جب پہنچےگی دنیا ا سے موڑ پر خوشگوار تک ہے قبر کا سفر چوتھی زندگی میدان حشر جدھر ملےگا نیکی ب گرا کا اجر سامنے ہوگا پل صراط سفر تیزی سے گزرےگا حقیقت ہی ا سے پر جو پڑھتا نماز مغرب سے عصر ج سے نے کیا بیت اللہ کا سفر ج سے نے بنایا نبی کو رہبر جنت ہے وہ ہے وہ ہوں گے محل اور شجر اور خوف ہے وہ ہے وہ ہوں گے آگ کے امبر لگ معلوم کتنی
ZafarAli Memon
14 likes
نثری نجم نثر ابا نجم اماں دونوں کو انکار ہے یہ جو نثری نجم ہے یہ ک سے کی پیدا وار ہے صرف لفاظی پہ مبنی ہے یہ تجری گرا چھوؤں گا ج سے ہے وہ ہے وہ عنقا ہیں معانی لفظ پردہ دار ہے نثر ہے گر نثر تو حقیقت نجم ہوں سکتی نہیں نجم جو ہوں نثر کی مانند حقیقت بے کار ہے قافیہ کی کوئی آزمایا لگ ہے قید ردیف بے در و دیوار کا یہ گھر بھی کیا سخن ساز ہے بہر سے آزاد قید وزن سے ہے بے نیاز واہ کیا مدر پدر آزاد یہ دلدار ہے مرتبے ہے وہ ہے وہ میر و مومن سے ہے ہر کوئی بلند ان ہے وہ ہے وہ ہر بے بحر تاکتے سے بڑا فنکار ہے ج سے کے چمچے جتنے زیادہ ہوں حقیقت اتنا ہی عظیم آج کل مصرع اٹھانا ایک کاروبار ہے داد صرف اپنوں کو دیتے ہیں گروہ اندر گروہ ان کے ٹولے سے جو باہر ہوں گیا تو مردار ہے بن گیا تو استاد و علامہ ی ہاں ہر بے شعور کور چشم اہل نظر ہونے کا دعویدار ہے شاعری بانہوں شاعری ہے ہے ذرا محنت طلب اور محنت ہی حقیقت اجازت ہے ج سے سے ان کو آر ہے پاپ میوزک کے لیے بحر کشف مدعا ہے نثری شاعری ہر روایت سے بغاوت کی یہ دعویدار ہے طبع معنی دل گر لگ بخشی ہوں
Aasi Rizvi
13 likes
More from Prashant Kumar
م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تو سب سے جدا ہے تو سب سے حسین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ تجھسا لگ کوئی کہی ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے دیکھ کر ہی نکلتا ہے سورج تجھے دیکھ کر روز ڈھلتا ہے سورج تو اک باوضو اپسرا ہے مری جاں خدا بھی تو تجھ پہ فدا ہے مری جاں تجھی سے محبت کرےگا یقین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے کام سب چھوڑ کر دیکھتے ہیں بنا بات کے پھول بھی پھینکتے ہیں کہ ممتاز بھی تری جیسی نہیں ہے ی ہاں ایک تو ہی مہا سندری ہے بے حد خوبصورت ہے زہرہ جبیں ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے
Prashant Kumar
1 likes
"हार्ट अटैक तू लावेगी" जो टॉप पहन के आएगी तो क़हर क़सम से ढाएगी यूँँ तंग क़बा में आवेगी फिर बिजली ख़ूब गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी झुक के रूमाल उठाएगी एकाध को तू टपकाएगी जो ऐसे पेट दिखाएगी तो दिल की नींव हिलाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी यूँँ देखके तू मुस्काएगी तो झगड़ा सब में कराएगी तू हम को भी मरवाएगी तू हम को भी मरवाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी जो हम सेे हाथ मिलाएगी तो दिल के तार भिड़ाएगी तू तन में आग लगाएगी हम को तू मार गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी
Prashant Kumar
1 likes
صدا مفل سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دینے کے جائیں گے نہیں کچھ کسی کو سو اپنے بدن کی قباء دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مری زندگی کی دعا کرنے والوں تمہیں آخری ہے وہ ہے وہ دعا دے رہا ہوں مبارک ہوں سب کو خوشی کا ہری یہ محفل خوشی کی تمہیں دے رہا ہوں مری پا سے خانے کو کچھ بھی نہیں ہے سبھی کے لیے یہ جوا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں انتقامن مت کروں کوئی احسان مجھ پر اتاروںگا کیسے یہ احسان لوگوں مجھے عمر بھر گالیاں دوگے پھروں سب ہمیشہ رہوگے پریشان لوگوں ضرورت نہیں کچھ بھی دینے کی مجھ کو ہے وہ ہے وہ جاناں کو تمہاری وفا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے کوئی خوش رہنے کی مت دعا دو یہ غم ہی مری زندگی بن گیا تو ہے مجھے غزلوں ہی سبھی لوگ دینا یہی تو مری بندگی بن گیا تو ہے مری زندگی آگ کا ایک گولا ہے ایسے ہے وہ ہے وہ تجھ کو ہوا دے رہا ہوں مجھے بھ
Prashant Kumar
1 likes
جب پاپا پاپا کہتے تھے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے جب پاپا ہم نے کہوائی جاں پھٹ کے گلے ہے وہ ہے وہ ہے آئی تب ہنستے گاتے پھرتے تھے اب مارے مارے پھرتے ہیں لگ ہی کچھ کھونے کا ڈر تھا تب لگ ہی کچھ پانے کی اچھا تھی تب من ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی آتا تھا وہیں پہ رویا کرتے تھے ہم رونے کے لیے بھی اب ہم کو جا بک کروانی پڑتی ہے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے سکول کو ہم جاناں جاتے تھے تب زیب ہے وہ ہے وہ پیسے رہتے تھے اب ہاتھ سبھی کے خالی ہیں کیسی یار اب کی پڑھائی ہے حقیقت پیٹھ پہ بوجھ کتابوں کا اور جیب ہے وہ ہے وہ کنچے رہتے تھے جب سکول سے گھر آتے تھے تو چاک چرا کر لاتے تھے گلی ڈنڈا لے لے کر روز ہم گلیوں گلیوں پھرتے تھے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے یاد آتا ہے حقیقت دور ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دا گرا کے آنچل ہے وہ ہے وہ سیاہ بخت تھے ممی کو جھوٹ بتاتے تھے پاپا کو جھوٹ بتاتے تھے پھروں ہوتی خوب پٹائی تھی ہم اکڑ بکر کرتے تھ
Prashant Kumar
4 likes
پہلا پیار پہلی دفع جب آنکھ ملی تو دل میں اٹھے طوفان کئی دل نے دل کا حال سنایا جاگے پھروں ارمان کئی ان کا بدن نازک نازک تھا دیکھ کے ہم چکنا بہت دونوں انجانے تھے لیکن اک دوجے کو بھائے بہت خود کو بڑی مشکل سے سنبھالا ایسا لگا اب جان گئی رکھ سے پلو جب سرکایا پھروں تو ہوئے بےجان کئی ہنستے ہوئے لٹ بکھرا کے وہ سامنے آ کر بیٹھ گئے شرم سے ہم نے اٹھنا چاہا وہ تو ہم پر اینٹھ گئے ہاتھ پکڑ کے پاس بٹھایا پیار کی باتیں کرنے لگے گال بھی چو گرد امیر میں ہاتھ بھی چو گرد امیر میں اور کیے احسان کئی اگلے دن جب یاد آئی تو دل زوروں سے رونے لگا پیار تھا پہلا دل تھا ضدی پیچھے پیچھے آ ہی گیا ہم نے دل کو روکنا چاہا اور اسے سمجھایا بھی لیکن اسنے ایک نہ معنی اور کیے نقصان کئی
Prashant Kumar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Prashant Kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Prashant Kumar's nazm.







