سنو لگ کہی سے کوئی کاربن پیپر لے آؤ خوبصورت ا سے سمے کی کچھ نقلیں نکالیں کتنی پرچیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیتے ہیں ہم لمحوں کی بیش قیمتی رسیدیں بھی تو ہیں کچھ تو حساب رکھیں ان کا قسمت پکی پرچی تو رکھ لےگی زندگی کی کچھ کچی پرچیاں ہمارے پا سے بھی تو ہوںگی کچھ نقلیں کچھ رسیدیں لکھائیاں کچھ مٹھیوں ہے وہ ہے وہ ہوں تو تسلی رہتی ہے سنو لگ کہی سے کوئی کاربن پیپر لے آؤ
Related Nazm
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
161 likes
سزا ہر بار مری سامنے آتی رہی ہوں جاناں ہر بار جاناں سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتی ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں ہے وہ ہے وہ خود بھی نہیں جانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مجھ کو جان کر ہی پڑی ہوں عذاب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے طرح خود اپنی سزا بن گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں ج سے زمین پر ہوں ہے وہ ہے وہ ا سے کا خدا نہیں پ سے سر بسر اذیت و الا آزار ہی رہو بیزار ہوں گئی ہوں بے حد زندگی سے جاناں جب ب سے ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو جاناں کو ی ہاں کے سایہ و الا پرتو سے کیا غرض جاناں اپنے حق ہے وہ ہے وہ بیچ کی دیوار ہی رہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ یعنی سے بےمہر ہی رہا جاناں انتہا عشق کا گاہے ہی رہو جاناں خون تھوکتی ہوں یہ سن کر خوشی ہوئی ا سے رنگ ا سے ادا ہے وہ ہے وہ بھی سخن ساز ہی رہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا محبت ہے وہ ہے وہ ہے نجات ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو اپنی متا ناز لٹا کر مری لیے بازار التفات ہے وہ ہے وہ نادار
Jaun Elia
44 likes
سنو شا گرا مبارک ہوں سنو شا گرا مبارک ہوں دلہن تو بن چکی ہوں اب بتا بھی دو کہ سننے کو حقیقت خوش خبری ہے وہ ہے وہ آؤں اب کسی دن چھوڑ جائے گی تری بیٹے کو کوئی جب کسی عاشق کی ماں کا دکھ سمجھ پائے تو شاید تب اسے انصاف کہتے ہیں اسی سے بھاگتے ہیں سب اسی کو پوجتا ہوں ہے وہ ہے وہ اسی سے کانپتے ہیں رب م گر تب تک مناسب ہے تڑپ کو بولنا کرتب سنو شا گرا مبارک ہوں دلہن تو بن چکی ہوں اب
Anant Gupta
26 likes
More from Varsha Gorchhia
باتوں کا مرتبان اچانک چھوٹ گیا تو ہے ہاتھوں سے باتوں کے چھوؤں گا جسم اب لفظوں کی کرچوں سے اڑھائی ہے اور لہو لہان بے ب سے سے ہیں خیال اور معنی بھی چھری اچھل کر دور پڑے ہیں کونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ روتے سے بلکتے سے سارے احسا سے پڑے ہے خو پہ مر کر بھار پونچھ کر سمیٹ لوں پھروں بھی چکھتے تو لگ مٹیں گے
Varsha Gorchhia
2 likes
کہ سے دھن ہے وہ ہے وہ رہتی ہوں جاناں الجھ ہوئے بالوں کی گرہیں جاناں سے نہیں سلجھتی کیا لاؤ نہ ہے وہ ہے وہ سلجھا دوں اون کے الجھ گچھوں سے یہ بال تمہارے سلجھے تو ریشم ہوں جائیں اور بالوں کو سلجھانے کے بہانے جیون کی الجھن دیوار شہر گھنے بنون ہے وہ ہے وہ شکھ بجاوں اور تتلی بن کر اڑ جاؤں شاخوں کو ہے وہ ہے وہ رقص دکھاؤں ایک کاغذ کی ناو بناؤں تجھ کو دور بہا لے جاؤں اور تیرے دکھ کی ورشا ہے وہ ہے وہ ہے وہ انترمن تک بھیگتی جاؤں آ اجنبی سی لڑکی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری بچپن کی سی سہیلی ہوں جاؤں
Varsha Gorchhia
1 likes
سیوئیاں خانے کا من کرتا ہے کب ہارے ہے وہ ہے وہ رکھی ہانڈی اترے گی کب ماں سیوئیاں پروسیگی کب سے تھالی لیے کھڑی ہوں پہلے دھواں گہرا تھا آنکھوں ہے وہ ہے وہ چبھتا تھا خارا تھا بے حد اب ہلکا ہے جینا ہے خوشبو آتی ہے دھوئیں سے گور گور کی آوازیں آنے لگی ہے ماں ہانڈی اتار لو سیوئیاں پک گئی ہیں
Varsha Gorchhia
0 likes
تمام خوابوں کی آنکھیں ادھورے فسانے کے آخری گیت کو تمہاری آنکھوں سے سننا چاہیںگی درد فسردہ راتوں کے زرد چہرے تمہاری پرچھائیوں ہے وہ ہے وہ پناہ ڈھونڈے گے روشن یادوں کے مردہ مرجھائے بدن کانچ کی موٹی دھندلی دیوار ہے وہ ہے وہ دفن رہیں گے اذیت ناک کے جنازے روز اٹھیں گے چیخوں کے حلق سے زبانیں کھینچ لی جائیں گی آہوں کے قد خریداروں دیے جائیں گے تمہیں پکاروںگی بھی تو کیسے مگر تا عمر یہ نظریں تمہیں بیںت
Varsha Gorchhia
0 likes
سنکڑی سی ا سے گلی ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں طرف ہزاروں جذبات کی اندھیرا کھلتی ہے جگنو ٹمٹماتے ہے روئی کے فو ہوں سے لمحے تیرتے ہیں شام رنگ سپنے جھلملااتے ہیں تتلیوں کے پنکھوں کا سنگیت گھلتا ہے ریشمی لفظوں کی خوشبو مہکتی ہے سنکڑی سی ا سے گلی ہے وہ ہے وہ تیری آنکھوں سے مری دل تک جو اسیر ہے
Varsha Gorchhia
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Varsha Gorchhia.
Similar Moods
More moods that pair well with Varsha Gorchhia's nazm.







